انڈیا میں ٹوئٹر پر دباؤ: اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے کیا پاکستان بھی سوشل میڈیا پر قدغن لگا رہا ہے؟

عماد خالق - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان، ٹوئٹر

Getty Images

حالیہ واقعات پر نظر دوڑائی جائے تو بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انڈیا اور پاکستان دونوں ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کی انتظامیہ سے ناخوش ہیں اور اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتے تھے۔

انڈیا میں مودی حکومت ٹوئٹر پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ سوشل میڈیا پر زور پکڑتی کسانوں کی تحریک سے جڑے اکاؤنٹس اور مواد کو فی الفور ہٹایا جائے کیونکہ انڈیا کے مطابق ان اکاؤنٹس کو مبینہ طور پر ’پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔‘ انڈیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے مطابق حکومت ایسے آن لائن مواد کو بلاک کر سکتی ہے جو ’ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہو۔‘

دوسری جانب پاکستان نے چند ایسے ٹوئٹر اکاؤنٹس بلاک کرنے کے معاملے کو ٹوئٹر انتظامیہ کے ساتھ اٹھایا ہے جو ان کے مطابق ’کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کے بارے میں ٹویٹس‘ کر رہے ہیں۔

پاکستان کے نئے سوشل میڈیا رولز کے مطابق ایسے مواد کو ہٹایا یا بلاک کیا جا سکے گا جو ’اسلام، پاکستان کی سالمیت، دفاع اور سکیورٹی کے خلاف ہوں۔‘

ملک میں آن لائن حقوق کے تحفظ کی تنظیموں نے ان قوانین پر اعتراض کیا ہے لیکن وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ’پاکستان اور اس کے اداروں کو بدنام کرے۔‘

یہ بھی پڑھیے

دلی فسادات: سوشل میڈیا ایک مرتبہ پھر جلتی پر تیل کا باعث بنا؟

ٹوئٹر کا رپورٹنگ نظام ’جتھوں کے ہاتھ میں ہتھیار کی مانند‘

سوشل میڈیا پر معلومات کی افراتفری کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟

انڈیا نے ٹوئٹر پر دباؤ کیسے ڈالا؟

حال ہی میں ٹوئٹر انتظامیہ نے انڈین حکومت کی درخواست پر تقریباً 250 اکاؤٹس کو ’امن عامہ میں خلل ڈالنے‘ کے الزامات کے تحت معطل کیا تھا۔ ان اکاؤنٹس میں ایک تحقیقاتی رسالے، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ان تنظیموں کے اکاؤنٹس شامل تھے جو انڈیا میں کسانوں کی حکومت مخالف تحریک کی سپورٹ کر رہے تھے۔

تاہم ٹوئٹر نے ان اکاؤٹس کو بند کرنے کے چھ گھنٹے بعد ہی دوبارہ بحال کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ ان اکاؤنٹس کی معطلی ’ناکافی شواہد‘ کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔

ٹوئٹر، سکھ، کسان

Reuters
ٹوئٹر پر یکم فروری کو کسانوں کی تحریک سے متعلق مواد شائع کرنے والے چند اکاؤنٹس تک انڈیا میں رسائی بند کر دی گئی تھی

اس پر مودی حکومت زیادہ خوش نہیں ہوئی اور اس نے ایک سخت بیان میں ٹوئٹر کو یہ اکاؤنٹس دوبارہ بند کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے دھمکی دی کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کے انڈیا میں موجود ملازمین کو ’قانونی نتائج بھگتنا ہوں گے‘۔ ان نتائج میں ٹوئٹر ملازمین کو سات برس تک قید بھی دی جا سکتی ہے۔

انڈین حکومت کا اسرار ہے کہ ان اکاؤنٹس سے کی جانے والی ٹویٹس ملک میں ’انتشار پھیلانے، اشتعال دلانے اور بے بنیاد حقائق پر مبنی ایک سوچی سمجھی حکومت مخالف مہم کا حصہ ہیں۔‘

ٹوئٹر پر اثر و رسوخ: کیا پاکستان بھی سوشل میڈیا پر قدغن لگا رہا ہے؟

حکومت پاکستان نے گذشتہ برس پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کی شق 37 کے تحت سوشل میڈیا مواد کے قوانین متعارف کروائے تھے۔

تاہم ان قوانین پر شدید ردعمل آنے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ان قواعد میں ترمیم کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے بعد میں ترمیم شدہ قواعد متعارف کروائے گئے جو نومبر 2020 سے لاگو ہونا تھے۔

پاکستان میں آن لائن حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور کارکنوں نے ان نئے قوانین کو بھی بنیادی آزادی اظہار کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت کا آمرانہ اقدام قرار دیا اور اس کے خلاف وفاقی دارالحکومت کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک قانونی درخواست دائر کر دی تھی۔

اس پر 25 جنوری کو سماعت میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ان قواعد پر حکومت کو تمام فریقین کو بلا کر دوبارہ نظر ثانی کا حکم دیا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ معاملہ بنیادی حقوق سے متعلق ہے اور لگتا ہے کہ سوشل میڈیا رولز بناتے ہوئے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی گئی۔‘

پاکستان میں نئے سوشل میڈیا قواعد کیا ہیں؟

سوشل میڈیا پر مواد کے بارے میں نئے قواعد کے مطابق سوشل میڈیا پر مواد کو ریگولیٹ کرنے اور ’غیر قانونی مواد‘ کے حوالے سے شکایات پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) دیکھے گی۔

نئے سوشل میڈیا رولز کے مطابق ’اتھارٹی کسی بھی مواد یا انفارمیشن میں خلل نہیں ڈالے گی یا محدود نہیں کرے گی ماسوائے ایسے مواد کے جو ’اسلام مخالف، پاکستان کی سالمیت، دفاع اور سکیورٹی‘ کے خلاف ہوں۔

اس کے علاوہ مفاد عامہ اور عوامی صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی غلط معلومات کی تشہیر کے خلاف اتھارٹی کے پاس کارروائی کرنے کا اختیار ہوگا جبکہ ’غیر اخلاقی‘ مواد کو بھی بلاک یا ہٹانے کا اختیار ہو گا۔

ترمیم شدہ رولز میں ایسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جن پر پانچ لاکھ سے زیادہ پاکستانی صارفین موجود ہوں گے خود کو پاکستان میں رجسٹر کروانے اور دفاتر کھولنے کے پابند ہوں گے۔ اس کے لیے ان سوشل میڈیا کمپنیز کو اب نو ماہ کا وقت دیا گیا ہے جبکہ پہلے مسودے میں ان کو تین ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

’سوشل میڈیا پر فوج، عدلیہ اور حکومت کے خلاف لوگوں کو اکسایا جاتا ہے‘

فوجیوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے میں کیا قباحت ہے؟

سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی

اس کے علاوہ سوشل میڈیا کمپنیز تین ماہ کے اندر اپنے فوکل پرسن مقرر کرنے کی پابند ہوں گی جو پی ٹی اے اور سوشل میڈیا کمپنی کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرے گا۔

سوشل میڈیا کمپنیز کو پاکستانی صارفین کے ڈیٹا کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے 18 ماہ کے اندر ایک یا ایک سے زائد ڈیٹا سرور ملک میں قائم کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی تحقیقات کے لیے سوشل میڈیا کمپنی یا پلیٹ فارم دستیاب معلومات اتھارٹی اور ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو مہیا کرنے کا پابند ہو گا۔

نئے رولز کے مطابق ایسے مواد کی لائیو سٹریمنگ یا اپ لوڈنگ قابل گرفت جرم ہو گا جس میں دہشت گردی، شدت پسندی، نفرت انگیز مواد، فحش، تشدد پر اکسانے یا پاکستان کی سکیورٹی کے خلاف مواد شامل ہو۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود مواد سے متاثرہ شخص پی ٹی اے میں شکایات درج کر سکے گا، اس کے علاوہ کوئی بھی وزارت، ڈویژن، صوبائی محکمہ یا سکیورٹی ادارے کسی مواد کے خلاف آن لائن شکایت کر سکیں گے جبکہ اتھارٹی شکایت کنندہ کی شناخت کو خفیہ رکھنے کی پابند ہو گی۔

اس کے علاوہ اتھارٹی کو بھی کسی غیر قانونی مواد کے خلاف متعلقہ کمپنی کو مواد ہٹانے کی ہدایات جاری کرنے کا اختیار ہوگا۔

ہمارا بنیادی مسئلہ پیکا قوانین کا آرٹیکل 37 ہے

پاکستان میں آن لائن حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی رکن نگہت داد کا کہنا ہے کہ ’ہمارا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ پیکا قانون کا سیکشن 37 ایک انتہائی ڈریکونین قانون ہے اور ایک طرح سے غیر آئینی بھی ہے کیونکہ اس میں پی ٹی اے کو بہت زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب سے یہ قانون بنا ہے تب سے اس شق کی قانونی طور پر درست تشریح نہیں ہو سکی ہے۔‘

سوشل میڈیا رولز کے سیکشن 37 کے تحت پی ٹی اے ایسے آن لائن مواد کو ہٹا سکتا ہے جس کی تشہیر ’غیر قانونی ہو۔‘

فیس بک کے اوورسائٹ بورڈ کی ایک رکن کی حیثیت سے نگہت داد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کے نئے قواعد آنے سے پہلے بھی ’ہم اس شق سمیت دیگر شقوں پر اعتراضات اٹھاتے رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ ان قواعد پر بات کرنا بعد کی بات ہے پہلے پیکا کے سیکشن 37 کی اپنی آئینی حیثیت پر بات کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ خود ایک متنازع شق ہے اور ہم غلط بنیاد کر کھڑی ہونے والی عمارت کو نہیں مانتے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر کی طرح حکومت کی جانب سے سائبر سکیورٹی یا اس طرح کے آن لائن پلیٹ فارمز کے لیے ریگولیٹری فریم لانے کی بات درست ہے لیکن پیکا جیسا ریگولیٹری فریم ورک جس کی بنیاد ہی غلط ہو کو ٹھیک نہ کیا گیا تو پیچیدہ اور متنازع قوانین اور قواعد آتے رہے گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے پاکستان میں ایک جامع ڈیجٹل ایکو سسٹم پر کام کرنا ہے تو وہاں ایسے قوانین سے ہماری آئی ٹی انڈسٹری اور آٹی معیشت بہت متاثر ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب اتنا سخت ریگولیٹری فریم ورک آ جائے گا تو پاکستان میں ملکی و غیر ملکی کمپنیاں خوف کے باعث اپنی سرمایہ کاری نہیں کریں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر مغربی ممالک کے انٹرنیٹ ریگولیٹری فریم ورک دیکھے تو وہاں ڈیٹا پروٹیکشن جیسے قوانین بھی موجود ہیں، وہاں قانون کی بالادستی بھی ہے لیکن اب تک پیکا میں جو سامنے آئے ہیں وہ بہت خوفناک ہیں اور اسی لیے آئے روز کبھی کوئی صحافی، کبھی کوئی کارکن یا سیاسی مخالف اٹھایا جا رہا ہے۔’

ٹوئٹر

Getty Images

’19 فروری کو تمام فریقین کو نظرثانی کے لیے بلایا ہے

عدالتی حکم کے بعد نئے سوشل میڈیا قواعد پر نظر ثانی سے متعلق بات کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان قواعد پر نظر ثانی کے لیے تمام فریقین کو رواں ماہ 19 فروری کو بلایا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس اجلاس میں تمام فریقین کے ان قواعد کے متعلق اعتراضات سنے جائیں گے، اس اجلاس میں پی ٹی اے کے چیرمین کو بھی بلایا ہے جو سب کے اعتراضات سنے گے اور جہاں ان قواعد میں تبدیلی کی ضرورت ہو گی وہاں تبدیلی کی جائے گی۔‘

حکومت کو ان قوانین کے ذریعے آزادی رائے پر قدغن لگانا چاہتی ہے کے سوال میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس کو دوسری نظر سے دیکھنا چاہیے، یہ ایک آزاد ذہن کی حکومت ہے جس نے قواعد بنائے اور لوگوں نے سوال اٹھا جس پر ہم نے رضاکارانہ طور پر کہا کہ بتائیے کیا اعتراضات ہیں، آئیں سب فریقین اور شہریوں کی بات سنیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس میں آزادی رائے پر قدغن لگنے کا کوئی مقصد نہیں تھا اگر ایسا کرنا مقصود ہوتا تو کہتے ہم نے بنا دیے ہیں اور کہانی ختم۔‘

شبلی فراز: پاکستان کے اداروں کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے

اس معاملے پر بی بی سی بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ’لندن ہو، امریکہ ہو، یورپ ہو یا دنیا کا کوئی بھی ملک ہوں کسی کو بھی غیر مصدقہ، غلط ٹویٹس، فیک نیوز یا جھوٹی باتیں کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ یہ معاشرے میں اضطراب اور اشتعال پیدا کرتی ہیں۔‘

کیا حکومت اپنے خلاف ہونے والی تنقید کو روکنے کے لیے ایسے اقدامات کر رہی ہے کہ سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو جان بوجھ پر بدنام کیا جا رہا ہے، اس کے خلاف ایک سوچی سمجھی مہم کے خلاف غلط خبریں لگائی جا رہی ہیں۔ ایسا ہم نے انڈین کورنیکلز کے معاملے میں بھی دیکھا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس میں انکشاف ہوا کہ کیسے سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں، نقلی شناخت کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ہر حق حاصل ہے کہ ہم چیزوں کو اس طرح سنبھالیں کہ معاشرے میں پراپیگنڈا، غلط اور جھوٹی خبریں پھیلنے کی بجائے امن قائم ہو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کے دشمنوں کے ایجنٹ ملک اور بیرون ممالک میں بیٹھے ہیں تاکہ ملک میں ایک ہیجان کی صورت پیدا کی جائے اور حکومت اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتی۔‘

انھوں نے کہا ’حکومت مثبت تنقید کو روکنا نہیں چاہتی، وہ مثبت تنقید جو حدود و قیود کے مطابق ہو جائز ہے لیکن ایجنڈا سیٹنگ، ایشوز کو رنگ دینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

’جیسا کہ اب سوشل میڈیا قواعد پر کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر آزادی رائے کو سلب کر دیا گیا یہ ہمارے خلاف ایک مہم ہے۔ آزادی رائے کو مجھ سے بہتر کون جانتا ہے، احمد فراز کا بیٹا ہوں میں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چیزوں کو دیکھنے کے بعد یہ علم ہوا کہ کس طرح سے ہمارے ہی لوگوں کو ہمارے اداروں کی ساکھ کو متاثر کرنے کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ پاکستان ایک رجعت پسند معاشرہ ہے اس کی ہم اجازت نہیں دے سکتے اور اس میں کوئی بحث ہی نہیں ہے۔‘

سوشل میڈیا کے نئے قواعد کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنے سرورز پاکستان میں لانے اور شہریوں کے ڈیٹا کو پی ٹی آے تک رسائی دینے کے معاملے پر وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ’یہ سب جگہ ہوتا ہے، امریکہ میں واٹس ایپ نے بھی تو ڈیٹا بیس تک رسائی کا عمل شروع کیا ہے، کیونکہ آج پاکستان سمیت دنیا کو سب سے زیادہ خطرہ سوشل میڈیا پر بننے والی نقلی شناخت (فیک آئیڈینٹی) سے ہے۔‘

شبلی فراز کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ حکومت کی بات نہیں ہے یہ ریاست پاکستان کا مسئلہ ہے، کیونکہ پاکستانی ریاست کو بدنام کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش کا سامنا ہے۔‘

پیکا قوانین کے غلط استعمال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات بالکل غلط ہے اور پاکستان کے خلاف یہ ایک مہم کا حصہ ہے جس کا ذکر گذشتہ دنوں اخبارات میں بھی آیا۔‘

’ہم نے اپنے مفادات کو دیکھنا ہے، ہم نے اپنے ملک میں ایک ایسا پُرامن ماحول قائم کرنا ہے جہاں عوام حکومت کی پالیسیوں پر آزادانہ تنقید کر سکے لیکن ملک اور اس کے اداروں کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

عوام کو پالیسیوں پر سوال اٹھانے سے روکنا مقصد ہے

پاکستان میں آن لائن حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن اسامہ خلجی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان نئے قواعد میں یہ مسئلہ ہے کہ اس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی( پی ٹی اے) کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ خود یہ فیصلہ کریں گے کہ کون سا مواد سوشل میڈیا پر غیر قانونی ہے اور وہ اس کے تحت متعلقہ سوشل میڈیا کمپنی کو اس مواد کو ہٹانے یا بلاک کرنے کا کہہ سکتا ہے۔‘

’ان نئے قواعد سے حکومت کے خلاف تنقید کو دبانے کی طاقت زیادہ مل جاتی ہیں۔‘

سوشل میڈیا

Reuters

ان کہنا تھا کہ دوسرا بڑا مسئلہ پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ ہے کیونکہ ان قوانین کے مطابق پی ٹی اے اور ایف آئی اے کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی شہری کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان نئے قواعد سے ملک میں آزادی رائے پر قدغن اور شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

’اس مقدمہ کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی ان قوانین کو آئین کے خلاف قرار دیا ہے۔ اور ان کی ہدایت پر ان قوانین کو اٹارنی جنرل آف پاکستان کے دفتر میں نظر ثانی کے لیے بھیجا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ چند برسوں میں حکومت اپنے خلاف ہونے والی تنقید کو زیادہ سے زیادہ روکنا چاہتی ہے۔ اس کا مقصد آمرانہ طریقے سے حکومت کرنا اور عوام کو اپنی داخلی، خارجی اور سکیورٹی پالیسیوں پر سوال اٹھانے سے روکنا ہے۔‘

اسامہ خلجی نے کہا کہ ’ملک میں بڑھتی سینسرشپ کے باعث سوشل میڈیا ہی وہ واحد پلیٹ فارم بچا ہے جہاں لوگ کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ اخباروں اور ٹی وی پر حکومتی پالیسیوں پر تنقید ہوتی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ ان پر حکومتی دباؤ آتا ہے۔‘

ٹوئٹر کو انڈیا کے قوانین کی پاسداری کرنا ہو گی

گذشتہ بدھ کو ہونے والے اجلاس میں انڈیا کی حکومت نے ٹوئٹر کی انتظامیہ سے کہا ہے کہ ’انھیں انڈیا میں کاروبار کرنے کے لیے خوش آمدید کہا جاتا ہے لیکن انھیں آن لائن مواد کے شائع کرنے کے اپنے قواعد و ضوابط کے علاوہ انڈیا کے قوانین کی بھی پاسداری کرنا ہو گی۔‘

واضح رہے کہ ٹوئٹر کا انڈیا میں دفتر قائم ہے۔

اس سے قبل بھی انڈیا کی حکومت کی جانب سے ٹوئٹر کو ایسے متعدد ٹوئٹر اکاؤنٹس معطل کرنے کا کہا گیا تھا جس پر حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں کے متعلق تبصرے کیے جا رہے تھے۔

ٹوئٹر نے ایک بلاگ کے ذریعے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ملک میں 500 سے زائد اکاؤنٹس کو معطل کر دیا ہے جس میں کچھ کو مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے جو ’پلیٹ فارم پر غلط بیانی اور سپیم‘ میں ملوث پائے گئے ہیں جبکہ ’سینکڑوں ایسے اکاؤنٹس‘ پر کارروائی کی گئی ہے جنھوں نے ٹوئٹر کے ’اشتعال انگیزی اور تشدد سے‘ متعلق قوانین کی خلاف ورزی کی۔ ٹوئٹر کا کہنا تھا کہ اپنی پالیسی کے روشنی میں کچھ اکاؤنٹس کو صرف انڈیا میں معطل کیا گیا ہے۔

تاہم ٹوئٹر نے یہ واضح کیا کہ وہ کسی ایسے اکاؤنٹ کو معطل یا بلاک نہیں کرے گی جو کسی میڈیا ادارے، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں یا سیاستدانوں کے ہوں گے کیونکہ یہ ان کو انڈیا کے آئین کے تحت دی جانے والی آزادی رائے کے خلاف ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17700 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp