زارا نسیم: اے سی سی اے کے فنانشل رپورٹنگ کے امتحان میں ٹاپ کرنے والی پاکستانی طالبہ

عمیر سلیمی - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنہ 2020 طلبہ کے لیے کافی مشکل رہا ہے اور اس سال کئی بچوں کی تعلیم اور امتحانات متاثر ہوئے۔ لیکن دسمبر میں ہونے والے ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) کے فنانشل رپورٹنگ کے امتحان میں ایک پاکستانی طالبہ نے عالمی سطح پر نمایاں پوزیشن حاصل کی ہے۔

179 ملکوں کے لاکھوں طلبہ میں سے ایک صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کی زارا نعیم نے اے سی سی اے کے اس ساتویں امتحان میں ’سب سے زیادہ نمبر‘ حاصل کیے جس کی وجہ سے انھیں مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر کافی سراہا جا رہا ہے۔

انھوں نے اس امتحان کی تیاری کے لیے دو سال لگائے۔ اس میں وہ عرصہ بھی شامل ہے کہ جب ملک میں عالمی وبا کے نئے متاثرین تیزی سے سامنے آ رہے تھے اور لاک ڈاؤن کے باعث تعلیمی سرگرمیاں رکاوٹ کا شکار تھیں۔

وہ اے سی سی اے کے تمام لازمی مضامین پاس کر چکی ہیں مگر کلیئر کرنے کے لیے ابھی کچھ دوسرے امتحانات باقی ہیں۔ اس کے باوجود انھیں کئی کمپنیوں کی جانب سے نوکری کی پیشکش کی جارہی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘میں بچپن سے پڑھنے والی تھی۔ میں نے سکالرشپ پر او لیول اور اے لیول کیا۔ جب امتحانات قریب ہوتے ہیں تو میں اس سے دو ماہ قبل روزانہ تین سے چار گھنٹے پڑھتی ہوں۔’

یہ بھی پڑھیے

سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے والی پانچ ’شیر بہنوں‘ کی کہانی

’میں اپنے علاقے کی پہلی عورت ہوں جو انجینئر بنی اور پاکستانی فوج میں شامل ہوئی‘

’ساتھیوں کے طنزیہ چہروں کو برداشت کیا مگر مستقبل کے بارے میں پُرعزم رہا‘

میڈیکل، انجینیئرنگ یا دیگر مضامین کے بجائے انھوں نے او لیول اور اے لیول سے ہی بزنس، اکاؤنٹنگ اور اکنامکس پڑھی جس کے تسلسل میں پھر انھوں نے اے سی سی کرنے کا فیصلہ کیا۔

‘کچھ لوگوں کے لیے یہ مضامین بورنگ ہوسکتے ہیں لیکن میری دلچسپی اسی میں تھی۔۔۔ معاشرے میں کئی لوگ کہتے تھے پڑھنے کا شوق ہے تو ڈاکٹر بنو! لیکن مجھے اکاؤنٹنگ پسند تھی اور میرے والدین نے مجھے سپورٹ کیا۔’

انھوں نے بتایا کہ ان کا تعلق ایک ملٹری فیملی سے ہے اور ان کے والد ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر ہیں۔

‘میرے والد نے میرے فیصلے کی حمایت کی اور کہا آپ کا جو دل کرتا ہے آپ کریں۔ میری والدہ کا، جو ایک ہاؤس وائف ہیں، بھی یہی کردار رہا اور انھوں نے میرے لیے دعائیں کیں۔’

’پارٹی ہو رہی ہے‘ کا موازنہ ’پڑھائی ہو رہی ہے‘ سے

سوشل میڈیا پر متعدد اکاؤنٹ زارا نسیم کا موازنہ بلاگر دنانیر مبین سے کر رہے ہیں جن کی حال میں ایک میم وائرل ہوئی ہے۔ اس میں وہ ایک مزاحیہ انداز میں کہتی ہیں کہ ‘یہ ہماری کار ہے، یہ ہم ہیں اور یہ ہماری پارٹی ہو رہی ہے۔’

اس موازنے کی وجہ یہ ہے کہ جن دنوں زارا نسیم کا رزلٹ آیا انہی دنوں دنانیر مبین کی ویڈیو وائرل ہوئی اور بعض لوگ یہ شکایت کرتے نظر آ رہے ہیں کہ ویڈیو تو وائرل ہوئی لیکن زارا نسیم کی کامیابی کا ذکر کہیں نظر نہیں آیا۔

بی بی سی نے زارا سے یہ بھی پوچھنا چاہا کہ آیا ان کا دنانیر مبین سے موازنہ درست ہے۔ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ‘میرا نہیں خیال یہ درست موازنہ ہے۔ ہمیں کسی صورت ایسے موازنے میں نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔ آپ صرف ایک جیسی چیزوں کا موازنہ کر سکتے ہیں۔

‘جب دو چیزیں بالکل ہی مختلف ہوں تو انھیں اپنی اپنی جگہ رہنے دینا چاہیے۔’

وہ مزید کہتی ہیں کہ ‘تفریحی مواد بھی ضروری ہے، اس میں کچھ غلط نہیں کیونکہ سب کو ہنسنا کھیلنا پسند ہوتا ہے۔ یہ آج کل ایک ضرورت ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=kjHgP0U6Idg

‘لیکن جہاں تک پڑھائی سے متعلق چیزوں کو نمایاں کرنے کی ضرورت ہے تو پاکستان میں ہم واقعی اس میں پیچھے ہیں۔’

زارا کا کہنا ہے کہ ‘پاکستان میں تعلیمی قابلیت پر اتنا سراہا نہیں جاتا، بین الاقوامی سطح پر ایسے کامیابی پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔۔۔ یہاں بات صرف میری نہیں بلکہ کسی بھی تعلیمی کامیابی کی ہو رہی ہے۔’

ان کے مطابق ایسا کرنے سے طلبہ کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے تاکہ وہ مزید بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بھی زارا کی کامیابی پر انھیں مبارکباد پیش کی ہے۔ بی بی سی نے زارا سے پوچھا کہ حکومت کو تعلیمی شعبوں کی آگاہی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

ان کا کہنا تھا کہ ‘صرف ڈاکٹر، انجینیئر یا وکیل نہیں رہ گئے۔ اے سی سی اے اور ایسے کئی دیگر شعبے ہیں۔ بہت ساری ڈگریاں یا شعبے پاکستان میں اتنے عام نہیں۔ تو ان شعبوں کو آگے لانا چاہیے کیونکہ ہر انسان میں الگ صلاحیت ہوتی ہے۔‘

زارا نعیم پڑھنے کے علاوہ انسٹاگرام پر میک اپ بلاگِنگ بھی کرتی ہیں۔

‘میرا فوکس اکاؤنٹنگ ہی ہے۔ میک اپ میں نے اس لیے شروع کیا کیونکہ مجھے شروع سے آرٹس کا بھی شوق تھا اور میں اسے چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔

‘میں اپنے فارغ اوقات میں اس پر کام کرتی ہوں۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17787 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp