ایم جی پاکستان پر انڈر انوائسنگ کے الزامات: ’بڑی آٹو کمپنیاں اداروں پر دباؤ ڈال رہی ہیں‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

'میں نے ایم جی ایچ ایس کار لاہور سے خریدی تھی۔ میرے پاس اس کی انوائس (رسید) موجود تھی لیکن رجسٹریشن کے لیے ایکسائز آفس کو بِل آف لینڈنگ (بی ایل) نامی دستاویزات درکار تھا۔ کمپنی سے گزارش کرنے کے بعد مجھے یہ فراہم کیا گیا لیکن اس میں موجود قیمت کو بلیک مارکر سے لکیر ڈال کر چھپایا گیا تھا۔'

یہ کہنا ہے گوجرانوالہ کے ایک رہائشی کا جنھوں نے حال ہی میں برطانوی کمپنی مورس گیراج (ایم جی) موٹرز کی ایس یو وی گاڑی ’ایم جی ایچ ایس‘ پاکستان میں درآمد ہونے کے بعد ایک مقامی ڈیلر سے خریدی تھی۔ انھوں اس کار کی رجسٹریشن میں کچھ مسائل پیش آئے تھے۔

پاکستان میں ٹیکس اکٹھا کرنے والے حکومتی ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کہا ہے کہ وہ ایم جی پاکستان پر انڈر انوائسنگ کے الزامات پر جلد ایک وضاحتی بیان جاری کریں گے۔

چند روز قبل مقامی اخبار بزنس ریکارڈر نے یہ خبر شائع کی تھی کہ ایف بی آر نے ایک ایسی کمپنی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے جو مبینہ طور پر ’انڈر انوائسنگ کے ذریعے ٹیکس بچا رہی ہے۔‘

خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کمپنی نے 400 ایم جی ایچ ایس گاڑیاں چین سے درآمد کی تھیں اور ان کی قیمت کم ظاہر کر کے ایک ارب روپے سے زیادہ کا ٹیکس بچایا گیا۔

خیال رہے کہ ایم جی موٹرز کی گاڑیاں پاکستان میں جے ڈبلیو نامی مقامی کمپنی منگوا رہی ہے جسے حال ہی میں ملک میں مقامی سطح پر ان کاروں کی تیاری کے لیے ’گرین فیلڈ سٹیٹس‘ ملا ہے۔ ایم جی کی گاڑیاں پاکستان لانے کے لیے اس کمپنی کا معاہدہ چینی سرکاری کمپنی ’ایس اے آئی سی‘ سے ہوا تھا۔

ایم جی پاکستان کے اہم سٹیک ہولڈر جاوید آفریدی نے اپنی کمپنی پر لگنے والے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ملک کی ’بڑی آٹو کمپنیوں نے سستی گاڑیاں امپورٹ کرنے سے روکنے کے لیے اداروں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں نئی آٹو کمپنیاں چھوٹی گاڑیوں کے بجائے ایس یو ویز کیوں بنا رہی ہیں؟

پاکستان میں کوئی گاڑی بچی ہے جو متوسط طبقے کی پہنچ میں ہے؟

’پاکستان میں پورشے کے ڈیلر سے کار خریدی، کار ملی نہ پیسے واپس‘

انڈر انوائسنگ کیا ہے؟

بی بی سی نے ایک درآمد شدہ ایم جی ایچ ایس گاڑی کے دستاویزات حاصل کیے ہیں جس میں اس کی قیمت 11 ہزار 632 ڈالر ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم ان میں سے بعض گاڑیوں کے گوڈز ڈکلیریشن فارم پر ان کی طے شدہ رقم اور ڈکلیئرڈ ویلیو کو بلیک مارکر سے چھپایا گیا ہے۔

ایسے میں سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں میں یہ اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں اس کار کی قیمت زیادہ ہے۔ تاہم کمپنی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ایم جی کی برطانوی ویب سائٹ کے مطابق اس کار کی ریٹیل پرائس 17 ہزار یورو (20 ہزار ڈالر) ہے اور ٹیکس کے بعد یہ 25 ہزار ڈالر سے زیادہ بنتی ہے۔

پاکستان میں اس وقت یہ درآمد شدہ کار لگ بھگ 55 لاکھ روپے میں خریدی جا سکتی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں انڈر انوائسنگ ایک غیر قانونی عمل سمجھا جاتا ہے جس میں ٹیکس سے بچنے کے لیے درآمد شدہ اشیا کی اندازاً قیمت نہایت کم ظاہر کی جاتی ہے۔

ایف بی آر کے مطابق انڈر انوائسنگ اور غلط اعداد و شمار (مِس ڈکلیریشن) کی وجہ سے ’نہ صرف حکومتی ریونیو اور مقامی صنعت کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ تجارتی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی فنانسنگ کو بھی فروغ ملتا ہے۔‘

انڈر انوائسنگ کی روک تھام کے لیے کسٹمز کی جانب سے درآمد شدہ چیزوں کی درست قیمت کا تعین کیا جاتا ہے تاکہ اس کے تحت ان پر موزوں ٹیکس اور ڈیوٹی عائد کی جا سکے۔

جاوید آفریدی: ’کار مافیا نئی گاڑیوں کی راہ میں رکاوٹ‘

پی ایس ایل کی ٹیم پشاور زلمی اور ہائئر پاکستان کے سربراہ جاوید آفریدی نے کہا ہے کہ ’سستی گاڑیاں پاکستان میں آنے کی راہ میں بڑا مافیا رکاوٹ بن گیا‘ ہے۔

ایم جی موٹرز کی گاڑیاں پاکستان میں درآمد کرنے میں جاوید آفریدی کا نمایاں کردار رہا ہے۔ ان کی مدد سے مقامی کمپنی جے ڈبلیو ایس ای زی اور چینی سرکاری آٹو کمپنی ایس اے آئی سی کے درمیان معاہدہ طے پایا۔

جاوید آفریدی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں سستی گاڑیاں امپورٹ (درآمد) کرنے کے منصوبے کو کھٹائی میں ڈالنے کے لیے آٹو مافیا سرگرم ہے۔‘

’پہلے سے موجود بڑی کمپنیوں میں پاکستان میں نئی سستی معیاری گاڑیاں آنے کی خبروں سے کھلبلی مچ گئی۔‘

انھوں نے اپنے ذرائع کا حوالے دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’بڑی آٹو کمپنیوں نے سستی گاڑیاں امپورٹ کرنے سے روکنے کے لیے اداروں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔‘

’ایف بی آر سمیت دیگر اداروں کو مختلف حربوں سے بلیک میل کرنے کی کوشش۔۔۔ سستی گاڑیوں کی امپورٹ کچھ عرصہ سے چین سے شروع کی گئی تھی۔‘

’مختلف عناصر سستی گاڑیوں کو پاکستان کی راہ میں لانے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر رہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ہے کہ سستی، معیاری، کم قیمت پر گاڑیاں پاکستان میں ضرور لائیں گے، کسی بھی قسم کا پراپیگنڈہ عوام کو سستی معیاری گاڑی فراہم کرنے سے روک نہیں سکتا۔ پراپیگنڈہ کرنے والوں کو قانونی نوٹس بھجوائیں گے۔

ان کے مطابق ’پاکستانی آٹو انڈسٹری میں مقابلے کی فضا پیدا ہونے سے سستی گاڑیاں میسر آئیں گی۔‘

رجسٹریشن میں مسائل

محمد اسلم (شناخت کے تحفظ کے لیے فرضی نام) کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایم جی ایچ ایس گاڑی دسمبر میں لاہور سے خریدی تھی لیکن اس کی رجسٹریشن میں کچھ مسائل پیش آئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ پنجاب میں محکمۂ ایکسائز کے حکام نے یہ اعتراض ظاہر کیا تھا کہ ان کی درآمد شدہ گاڑی کے دستاویزات میں مسائل ہیں جس کے بعد انھوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے محکمۂ ایکسائز سے رجوع کیا تھا۔

’مجھے کہا گیا کہ آپ کے دستاویزات پورے نہیں ہیں لیکن بعد میں دوبارہ رجوع کرنے پر میرے نام کا چلان جاری کر کے کہا گیا کہ آپ کی گاڑی اب رجسٹر ہو جائے گی۔‘

’میں یہ گاڑی خرید کر بہت خوش ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ یہ کار پاکستان میں بننے والی گاڑیوں سے کہیں بہتر ہے۔۔۔ لیکن رجسٹریشن کے حالیہ تجربے سے مجھے محسوس ہوا ہے کہ کمپنی کو گاڑیوں کی فروخت میں تجربہ نہیں تھا اس لیے یہ رکاوٹ پیدا ہوئی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ان کی کار ایک ماہ کی تاخیر کے بعد اب اسلام آباد سے رجسٹر ہو چکی ہے لیکن رجسٹریشن کے منظور شدہ دستاویزات تاحال نہیں مل سکے۔

لاہور میں ڈائریکٹر ایکسائز قمرالحسن سجاد نے بتایا ہے کہ ان کے محکمے نے رجسٹریشن میں رکاوٹوں کے سلسلے میں ایم جی پاکستان کی انتظامیہ سے میٹنگ کی ہے جبکہ رجسٹریشن کی حد تک یہ مسائل قابلِ حل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان گاڑیوں کی اب تک مکمل طور پر رجسٹریشن اس لیے نہیں ہو سکی کیونکہ ان کے فارم ایچ، سیلز سرٹیفیکیٹ، میں جانچ کے مسائل ہیں جن کے حل کے لیے کمپنی کو تجاویز بھیجی جا چکی ہیں۔ انھوں نے وضاحت کی ہے کہ درآمد شدہ گاڑیوں کے ٹیکس اور ڈیوٹی کے معاملات کسٹمز کی جانب سے طے کیے جاتے ہیں، اور ایکسائز صوبائی سطح پر ان گاڑیوں کی رجسٹریشن کرتا ہے۔‘

‘گاڑی رجسٹر کرنے کے لیے گاڑیوں کے خریدار ایکسائز میں درخواست دیتے ہیں، ان سے پھر دستاویزات اور ڈیٹا مانگا جاتا ہے اور پے منٹ وصول کی جاتی ہے۔ پھر ایکسائز کے افسران ان دستاویزات کا جائزہ لے کر انھیں فائنل اپروول دیتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ کمپنی کے جواب کا انتظار کر رہا ہے اور اس کے بعد ہی دستاویزات منظور کی جائیں گی، دستاویزات میں کچھ سکیورٹی فیچر موجود نہیں تھے جن سے یہ طے ہو سکے کہ ان دستاویزات میں رد و بدل نہیں ہو سکتی یا انھیں آسانی سے کاپی نہیں کیا جا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17845 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp