میرا فیوچر: ایک آن لائن ٹیسٹ، جو شاید آپ کو بہتر کریئر منتخب کرنے میں مدد دے!

ثنا آصف ڈار - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زنیرہ ثاقب

BBC

پاکستان کے ہر دوسرے بچے کی یہ ہی کہانی ہے کہ وہ جو پڑھنا چاہتا ہے، اکثر والدین یا معاشرتی دباؤ کی وجہ سے پڑھ نہیں پاتا، وہ اپنی زندگی میں جو کرنا چاہتا ہے، کر نہیں پاتا یا اس کو یہ سمجھ نہیں ہوتی کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے۔

وہ اس بارے میں پریشانی کا شکار دکھائی دیتا ہے کہ اسے کن مضامین کا انتخاب کرنا ہے اور مستقبل میں اس کے لیے کون سا کریئر بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔

کچھ ایسے ہی مسائل کا سامنا زنیرہ ثاقب کو بھی اپنے زمانہ طالب علمی میں کرنا پڑا جو اب خود اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پاکستان کے اکثر بچوں کی طرح ان پر بھی بچپن سے سائنس کے مضامین انتخاب کرنے کے لیے دباؤ تھا۔

وہ کہتی ہیں ’میٹرک میں مضامین کا انتخاب کرتے ہوئے میری سائنس میں بالکل دلچسپی نہیں تھی۔ میں آرٹس کا انتخاب کرنا چاہتی تھی لیکن دباؤ تھا کہ سائنس کا سکوپ بہت ہے۔ سائنس کا انتخاب تو کر لیا لیکن پڑھنے میں کوئی خوشی محسوس نہیں ہوئی اور رٹے مار مار کر سائنس پڑھ بھی لی لیکن آگے سوچا کہ اب مزید سائنس نہیں پڑھنی لیکن اس حوالے سے کوئی رہنمائی بھی نہیں تھی کہ اگر سائنس نہیں پڑھنی تو کیا پڑھنا ہے۔‘

’مجھے کافی پریشانی رہی لیکن ایم بی اے کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ مجھے ایچ آر پڑھنا ہے اور اس میں کریئر بنانا ہے اور پھر میں نے ایچ آر میں ایک اور ماسٹرز اور پھر پی ایچ ڈی کی۔‘

یہ بھی پڑھیے

مصنوعی ذہانت خودکشی کو روکنے میں مددگار

سکول میں ہراسانی کا شکار بننے والا لڑکا دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص کیسے بنا؟

جذبات جانچنے والی ٹیکنالوجی پر پابندی کا مطالبہ

زنیرہ ثاقب کریئر کے انتخاب میں طلبا کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں جس کی بنا پر انھوں نے بچوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے میں مدد دینے اور رہنمائی کرنے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے جنوری 2020 میں ’میرا فیوچر‘ کے نام سے ایک ویب سائٹ کا آغاز کیا، جو میٹرک سے انٹرمیڈیٹ کے طلبا کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈگری اور کریئر کے انتخاب میں مدد کرتی ہے۔

زنیرہ کہتی ہیں کہ ایک بچہ جب اپنے کریئر کے انتخاب کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کی عمر صرف سولہ سے سترہ برس ہوتی ہے اور ساٹھ سے ستر برس کی عمر تک وہ اسی فیصلے پر رہتا ہے، اور اکثر وہ یہ فیصلہ بغیر کسی رہنمائی کے کرتا ہے۔

’تو میں چاہتی تھی کہ بچوں کی رہنمائی کے لیے کوئی ایسا نظام بنایا جائے جس سے وہ پاکستان میں کہیں بھی بیٹھ کر مستفید ہو سکیں اور میرا فیوچر کو قائم کرنے کا یہی مقصد تھا۔‘

’میرا فیوچر‘ ویب سائٹ کیسے کام کرتی ہے؟

’میرا فیوچر‘ ویب سائٹ بچوں کی کریئر رہنمائی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتی ہے۔

ویب سائٹ پر موجود ٹیسٹ طالب علم کی شخصیت، دلچسپی اور پسندیدہ مضامین کی بنیاد پر اسے پرکھتا ہے۔ اس ٹیسٹ کا دورانیہ صرف 45 سے 60 منٹ ہے جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں دستیاب ہے۔

مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے اس ٹیسٹ کے نتائج کا موازنہ میرا فیوچر کے ڈیٹا بیس میں موجود ایسے افراد (جنھوں نے اپنی مرضی سے اپنی ڈگری کا انتخاب کیا اور اپنے کریئر سے مطمئن ہیں) کے ڈیٹا کے ساتھ کیا جاتا ہے اور اس بنا پر طلبا کی رہنمائی کی جاتی ہے کہ ان کے لیے کون سی ڈگری اور کریئر بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔

زنیرہ کہتی ہیں کہ کریئر رہنمائی کے اس نظام میں زیادہ تر کام مصنوعی ذہانت کا ہے۔

’ہمارا مقصد ہے کہ ہم بامقصد کریئر رہنمائی کریں تاکہ اس سارے عمل میں کسی بچے کے بارے میں ہماری ذاتی رائے شامل نہ ہو۔‘

زنیرہ نے ہمیں بتایا کہ کریئر رہنمائی کا یہ سارا نظام ڈیٹا بیس پر منحصر ہے اور جب انھوں نے اپنی ویب سائٹ کے لیے ڈیٹا جمع کرنا شروع کیا تو سب سے بڑا مسئلہ مائنڈ سیٹ کا تھا۔

’لوگ کہتے ہیں کہ اس ٹیسٹ کی کیا اہمیت ہے، یہ ٹیسٹ کر کے ہمیں کیا فائدہ ہو جائے گا، اگر ٹیسٹ کر لیا اور کوئی چیز ایسی آ گئی جو اس سے بہت مخلتف ہوئی جو ہم کر رہے ہیں تو پھر ہم کیا کریں گے۔ اس سوچ سے آج تک ایک مسلسل جنگ جاری ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’ہم نجومی نہیں، ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم نے غیب کی پیشگوئی کر دی۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ جو فیصلہ معلومات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور جو فیصلہ بغیر کسی معلومات کے کیا جائے، اس میں بہت فرق ہوتا ہے۔‘

میرا فیوچر کی کریئر رہنمائی سے اب تک پاکستان بھر میں 10 ہزار سے زائد طلبا و طالبات مستفید ہو چکے ہیں۔

میرا فیوچر

BBC

’والدین کسی بچے کو نالائق نہ سمجھیں‘

زنیرہ کہتی ہیں کہ اکثر بچے بہت اچھی یونیورسٹیز میں چلے تو جاتے ہیں، ڈگری بھی مکمل کر لیتے ہیں اور کریئر کا انتخاب بھی کر لیتے ہیں لیکن وہ مطمئن نہیں ہوتے۔

وہ کہتی ہیں ’جیسے ہی بچہ پیدا ہوتا ہے تو یہ فیصلہ ہو جاتا ہے کہ یہ بچہ ڈاکٹر بنے گا اور یہ بچہ انجینیئر بنے گا۔ دکھ کی بات ہے کہ بچے کو بغیر سمجھے ہی اس کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ جب آپ بچے کو اس سوچ کے ساتھ بڑا کرتے ہیں کہ تم نے انجینیئر ہی بننا ہے اور ٹاپ یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہے لیکن اگر اس کے نمبر یا نتیجہ اچھا نہیں آتا تو وہ ڈپریشن میں چلا جاتا ہے۔‘

زنیرہ بتاتی ہیں کہ ’میرے پاس ایک بچہ آیا اور اس نے کہا کہ میرے والدین مجھ سے خوش نہیں وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں جب والدین سے ملی تو انھوں نے کہا کہ میرے باقی بچے تو ٹھیک ہیں لیکن یہ والا بچہ ٹھیک نہیں۔ مجھے بہت دکھ ہوا کیونکہ وہ بچہ بھی وہاں بیٹھا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ ایسے موازنہ کیسے کر سکتے ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ بچے کا رجحان کسی اور چیز میں ہو لیکن والدین کے لیے یہ بات سمجھنا بہت مشکل تھی۔‘

زنیرہ کا ماننا ہے کہ کوئی بچہ بھی نالائق نہیں ہوتا بس اس کی دلچسپی اور صلاحیتوں کو دیکھ کر اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

’میں والدین سے درخواست کروں گی کہ کسی بچے کو نالائق نہ سمجھیں۔ ہر بچے کا ٹیلنٹ ہوتا ہے، اسی کی کوئی منفرد خصوصیات ہوتی ہیں۔ والدین کو اپنی سوچ تبدیل کرنی ہوگی، بچوں اور ان کی صلاحیتوں کو سمجھنا ہوگا تاکہ وہ زندگی میں جو فیصلہ کریں اس سے خوش رہیں کیونکہ وہ خوش ہوں گے تو ترقی خود بخود کریں گے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17834 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp