مریخ پر زندگی کی تلاش: ناسا کا نیا روبوٹ لینڈنگ کے قریب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Perseverance approaches Mars

NASA/JPL-Caltech

امریکی خلائی ادارے نے کہا ہے کہ مریخ پر لینڈنگ (اترنے) کے لیے اس کا روبوٹ پرسویرنس روور بہترین پوزیشن میں آچکا ہے۔

یہ روبوٹ سیارے پر جمعرات کو پہنچے گا۔ اسے جزیرو نامی کریٹر میں لے جایا گیا ہے۔

مریخ پر ناسا کے اس مشن کا مقصد ایسی چیزیوں کی تلاش ہے جن سے مریخ پر ماضی میں زندگی کے بارے میں پتہ چل سکے گا۔ مریخ سے پتھروں کے یہ نمونے سنہ 2030 کی دہائی میں زمین پر لائے جائیں گے۔

ناسا کے انجینیئروں نے رپورٹروں کو بتایا ہے کہ فی الحال ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ روبوٹ کا راستہ تبدیل کریں۔

نیویگیشن (سمت شناسی) کے ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مشن مریخ پر پہنچنے کے لیے درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور مقررہ وقت اور مقام پر ہی لینڈ کرے گا۔

پرسویرنس روور کی پراجیکٹ مینیجر جینیفر ٹروسپر نے بی بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ ’ہم چاہیں تو اب بھی کچھ الگ کر سکتے ہیں لیکن ہماری توقع ہے کہ اس کی ضرورت نہیں ہوگی۔‘

منگل کو بتایا گیا تھا کہ پرسویرنس ابھی منزل سے پانچ لاکھ کلو میٹر دور ہے۔

مزید پڑھیے:

مریخ پر ’کیوروسٹی‘ کے دو ہزار دن

مریخ کی سطح تلے جھیلوں کی دریافت

متحدہ عرب امارات کا خلائی مشن ہوپ مریخ کے مدار میں، ملک بھر میں جشن

امکان ہے کہ جمعرات کو 20:48 جی ایم ٹی پر روور سے ایک سگنل موصول ہوگا جس سے پتا چلے گا کہ اس کا حفاظتی کیپسول مریخ کے ماحول میں داخل ہوچکا ہے۔

اگر سب پلان کے مطابق رہا تو قریب سات منٹ بعد یہ تصدیق ہوجائے گی کہ روبوٹ مریخ کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔

کیلیفورنیا میں ناسا کی جیٹ پرپلشن لیبارٹری بہت قریب سے اس مشن کی نگرانی کر رہی ہے اور اس کا عملہ مستقبل میں واقعات کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

زمین اور مریخ کے درمیان آجکل 19 کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ ہونے کی وجہ سے تمام ذرائع ابلاغ میں 11 منٹ کا وقت لگتا ہے۔ اس طرح کسی ناگہانی صورتحال میں انجینیئر مداخلت نہیں کرسکتے۔ اس وقت تک پرسویرنس کا خود مختار سسٹم تمام کنٹرول اپنے پاس رکھتا ہے۔

عام آنکھ کے لیے یہ روبوٹ کیوروسٹی روور جیسا ہے، جسے ناسا نے 2012 میں گیل کریٹر میں استعمال کیا تھا۔ لیکن یہ نئی گاڑی کافی مختلف ہے۔ اس میں جدید ٹیکنالوجی کے آلات موجود ہیں جن کی مدد سے سائنس سے متعلق سوالات کا جواب دیا جاسکے گا۔

چیف انجینیئر ایڈم سٹیلنر نے بتایا ہے کہ وہ ایک ایسا روبوٹ بنانا چاہتے تھے جو کیوروسٹی سے زیادہ تیز ہو۔

انھوں نے وضاحت کی کہ ’مریخ کی سطح پر نوکیلے پتھر (وینٹی فیکٹس) ہیں جن سے کیوروسٹی کے پہیوں کو نقصان پہنچا تھا۔‘

’پرسویرنس کے چلنے کا طریقہ بہتر ہے اور اس کے پہیے مضبوط ہیں۔ یہ نوکیلے پتھروں اور ریت پر بھی اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔

خلائی مشن کے شوقین یہ توقع کر سکتے ہیں کہ اس بار بہتر تصاویر اور ویڈیو دیکھی جاسکیں گی۔ اس مشن پر 20 سے زیادہ کیمرے اور دو مائیکرو فون ہیں۔ دو کیمرے ایک چھوٹے ہیلی کاپٹر پر ہیں جو مریخ کی ویران آب و ہوا میں اڑان بھرنے کی کوشش کریں گے۔

1970 کی دہائی میں وائکنگ لینڈر کے بعد یہ مریخ پر ناسا کا پہلا مشن ہے جو زندگی کے آثار ڈھونڈے گا۔

پرسویرنس کی لینڈنگ

BBC
پرسویرنس کے لینڈنگ کے عمل کا خاکہ

اس عرصے تک کئی مشنوں میں یہ جائزہ لینے کی کوشش کی گئی تھی کہ آیا یہاں انسان بس سکتے ہیں، ماضی میں یہاں کے حالات کس طرح کے رہے ہیں اور کیا بائیولوجی کے لیے یہ موزوں جگہ ہے۔ اس سوال کا جواب اب ڈھونڈ لیا گیا ہے۔

سنہ 2000 کی دہائی میں سپیرٹ اور آپرچونٹی روورز کے مشن اور حال ہی میں کیوروسٹی روبوٹ نے یہ بتایا ہے کہ مریخ زیادہ گرم اور نم ہے۔ یہاں جراثیم یا مائیکرو آرگنیزمز کے پنپنے کے لیے تمام کیمیائی ضروریات پوری ہیں، اگر وہ یہاں کبھی رہے ہیں۔

اب پرسویرنس کا کام یہ ہوگا کہ قدیم حیات کی نشانیاں ڈھونڈے اور جزیرو، جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ ایک بڑی جھیل ہوا کرتی تھی، سے نمونے اکٹھے کر کے اس کا جائزہ لے۔

کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں خلائی سائنس کی پروفیسر بیتھنی ایلمین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’جس طرح ارضیات کے ماہر زمین کے جغرافیے اور یہاں قدیم حیات پر تحقیق کرتے ہیں اسی طرح اب ہم (مریخ پر) مائیکروبز کی تحقیق ہوگی۔ زمین پر بھی یہ باقیات آپ کو کسی تالاب کی سب سے نچلی سطح پر مل سکتے ہیں۔‘

’ہمیں معلوم ہے کہ ایسی چیزیں زمین پر ساڑھے تین ارب سال قبل بھی موجود تھیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ مریخ کے تالابوں میں بھی ساڑھے تین ارب سال قبل موجود ہوتی تھیں؟‘

حقیقت یہ ہے کہ پرسویرنس کہ لیے وہیں پر اسے ثابت کرنا مشکل ہوگا۔

زمین پر قدیم حیات کی مثالوں کے موازنے پر بحث عام ہے۔ اس لیے روور ان دلچسپ پتھروں کو اپنی چھوٹی ٹیوبز میں ڈالے گا اور اس دہائی کے اواخر میں انھیں زمین لایا جائے گا جہاں ان کا جائزہ لیا جائے گا۔

ناسا اور یورپی خلائی ادارے نے اس مشن کی کامیابی کے لیے کئی ارب ڈالر کا منصوبہ تشکیل دیا ہے۔

سنہ 2026 میں ایک اور چھوٹا روور لانچ کیا جائے گا جو جزیرو کے قریب پہنچے گا اور پرسویرنس کے اکٹھے کردہ نمونے حاصل کر لے گا۔

انھیں مریخ کے مدار پر بھیجا جائے گا اور انھیں ایک مصنوعی سیارے (سیٹلائٹ) کے ذریعے پکڑ کر واپس لایا جائے گا جہاں زمین کی لیبارٹریوں میں اس کی کڑی جانچ ہوگی۔

اس طویل مدتی منصوبے کا مقصد خلابازوں کو مریخ پر پہنچانا ہے۔ پرسویرنس ایسے تجربات کرے گا جس سے دیکھا جائے گا کہ آیا کہ ممکن ہے کہ مریخ پر سانس لینے لائق آکسیجن پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس سیارے کے ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کثرت پائی جاتی ہے۔

ناسا میں سائنس کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر تھامس زربوچن کہتے ہیں کہ کسی ایک مرحلے پر انسان روبورٹس کی پیروی کریں گے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’زمین پر ہمارے پاس بہت سارے روبوٹس ہیں۔ خودمختیار طیاروں (جیسے ڈرونز) کی مدد سے ہمیں آسمان سے ویڈیوز اور تصاویر مل جاتی ہیں۔

’لیکن اگر آپ ہمالیہ یا ایلپس کے پہاڑی سلسلوں سے حاصل ہونے والے نمونوں کو جغرافیائی طور پر سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ کو خود بطور انسان وہاں جانا پڑا ہے۔ اور ہم مریخ کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنا چاہتے ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17834 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp