انڈیا کے ڈاکٹر جنھیں جنس کی تبدیلی کے بعد معاشرے کی مخالفت کا سامنا ہے

بھارگو پارکھ - بی بی سی گجراتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنس کی تبدیلی

Getty Images

’اس معاشرے میں اگر آپ کسی سے محبت اور ہمدردی کے دو الفاظ مانگتے ہیں تو آپ کو نفرت ملتی ہے۔ اسی لیے میں نے ایک عورت سے مرد میں تبدیل ہونے کا فیصلہ کیا۔ میں عورت سے مرد تو بن گیا ہوں لیکن اب کوئی بھی مجھے قبول نہیں کر رہا ہے۔‘

یہ الفاظ بھاویش بھائی (فرضی نام) کے ہیں۔ انڈیا کے ایک سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر بھاویش بھائی عورت سے مرد بننے کے بعد معاشرتی جنگ لڑ رہے ہیں۔

ان کے مطابق لوگ اب انھیں مرد کے بجائے ٹرانس جینڈر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ایک مرد کی شناخت حاصل کرنے کے لیے بھاویش بھائی نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

انھوں نے بی بی سی گجراتی سے بات کرتے ہوئے کہا ‘لگتا ہے کہ کورونا وبا کے بعد حالات میں بہتری آ رہی ہے۔ اب میں اپنی سرکاری ملازمت چھوڑ کر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے جاؤں گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

جنس تبدیل کرنے پر انڈین نیوی اہلکار نوکری سے فارغ

’جنس تبدیل نہ کرنا میرے لیے موت کے برابر تھا‘

دو بہنیں جو جنس تبدیلی کے آپریشن کے بعد دو بھائی بننے پر خوش ہیں

بچپن میں معلوم نہیں تھا

بھاویش بھائی انڈیا کی ریاست گجرات کے ضلع کھیڑا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ تین بھائیوں کے مشترکہ خاندان میں کل نو بچے، پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔ بچپن میں بھاویش بھائی لڑکوں سے دوستی کرنا پسند کرتے تھے لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کا جسم تو لڑکی کا ہے لیکن وہ ذہنی طور پر لڑکوں جیسا برتاؤ کر رہے ہیں۔

بھاویش بھائی بتاتے ہیں ’میں ایک چھوٹے سے گاؤں کے سکول میں پڑھتا تھا۔ دسویں کلاس تک مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں لڑکی ہوں یا لڑکا۔ میرے لمبے لمبے بال تھے۔ لیکن میں جینڈر کے بارے میں کچھ نہیں سمجھتا تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ اس میں تبدیلی آئی۔’

تصور

BBC

انھوں نے بتایا ‘میں لڑکیوں کو پسند ضرور کرتا تھا لیکن مجھے ان کے ساتھ گھومنے یا فیشن کے بارے میں بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میرا رویہ لڑکیوں جیسا نہیں تھا۔ لہٰذا لوگ مجھ سے ناراض ہونے لگے۔ میرے رشتے دار مجھے کہنے لگے کہ لڑکیوں کی طرح برتاؤ کرنا سیکھو۔ لیکن میرے ذہن میں الجھن تھی کہ کہیں کچھ ٹھیک نہیں ہے۔‘

بھاویش کہتے ہیں کہ ‘اس وقت مجھے نہیں معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ لوگ مجھ سے ناراض رہتے، مجھ سے فاصلہ رکھنا شروع کر دیا۔ میں بھی سب کچھ چھوڑ کر پڑھائی میں لگ گیا اور اول درجے سے پاس ہوا۔ پھر میں نے گھر والوں کی خواہش پر میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا۔’

داخلے کے بعد کی مشکلات

میڈیکل کالج میں داخلے کے بعد بھاویش بھائی کے لیے اصل مشکلات شروع ہو گئیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’میری مشکلات وہیں سے شروع ہو گئیں۔ میرے تمام دستاویز میں میرا جینڈر لڑکی لکھا ہوا تھا۔ گورنمنٹ کالج کے ضابطے کے مطابق مجھے لڑکیوں کے ہاسٹل میں رہنا پڑا۔ چونکہ میں اب میڈیسن کی تعلیم حاصل کر رہا تھا، اس لیے مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ مجھ میں کس قسم کی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میں ہاسٹل میں خود کو بہت تنہا محسوس کرتا تھا۔ میں نے ہارمون کا علاج کرنا شروع کیا۔ میرے جسم میں آہستہ آہستہ تبدیلیاں آنی شروع ہو گئیں۔ میرا ہاسٹل میں رہنا مشکل ہوتا رہا تھا۔ آہستہ آہستہ میری داڑھی اور مونچھیں بھی آ گئیں۔ اس کے بعد لڑکیاں مجھ سے دور رہنے لگیں جبکہ لڑکے مجھے قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔‘

اس دوران بھاویش بھائی نے دہلی کی سماجی تنظیم سے رابطہ کیا اور اس کے بعد انھیں لڑکوں کے ہاسٹل میں رہنے کی اجازت مل گئی۔

تصویر

BBC

انھوں نے بتایا کہ ‘ایک متوسط طبقے کے گھرانے سے ہونے کے سبب میری مالی حالت زیادہ اچھی نہیں تھی۔ لیکن میں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ میرا جسم لڑکی کی طرح ہے لیکن میری روح مرد کی طرح ہے اور مجھے مرد کے جسم میں ہونا چاہیے۔ کالج میں پڑھنے والی ایک لڑکی مجھے سمجھنے لگی تھی۔ اس نے مجھے کہا کہ اگر آپ لڑکیوں کی طرح لباس پہنتی ہو تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ اس نے میری بہت مدد کی۔‘

شادی کے بارے میں تشویش

بھاویش بھائی نے بتایا ’ایک دن میں اپنے والد کے ساتھ نفسیاتی ماہر کے پاس گیا تھا۔ والد مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں لیکن وہ معاشرے سے خوفزدہ تھے۔ وہ شادی کے معاملے میں الجھن میں تھے۔ انھیں لگ رہا تھا کہ اگر میں مرد بن جاؤں گا تو مجھ سے شادی کون کرے گا، بڑھاپے میں کون میرا ساتھ دے گا۔ میں ان سے یہی کہہ رہا تھا کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگر میں لڑکی رہوں تو میرے شوہر کی موت مجھ سے پہلے نہیں ہو گی اور بڑھاپے میں بچے ساتھ دیں گے۔ میرے والد میری ان باتوں سے قائل ہو گئے۔‘

بھاویش بھائی نے بتایا ‘میں نے سرجری کروائی اور میں لڑکی سے لڑکا بن گیا۔ جب میری سرجری ہوئی تو نرس نے میرے چہرے پر کوئی جذبات نہیں دیکھے۔‘

کیا کریں

Getty Images

‘نرس نے مجھ سے کہا کہ ایسی سرجری کے بعد لوگ بہت پرجوش ہوتے ہیں۔ لیکن آپ پرسکون ہیں۔ میں نے کہا کہ مجھے اب میرا اصلی جسم مل گیا ہے۔ اب میں پر سکون ہوں۔ میں نے جو چاہا وہ مل گیا۔ میں نے یہ سرجری کسی اور کے لیے نہیں کروائی۔ میں نے یہ اس لیے کرائی کہ مجھے خود سے پیار تھا۔’

انصاف کے لیے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا

سرجری کے بعد بھاویش بھائی کی دوسری لڑائی شروع ہوئی۔ وہ مزید تعلیم کے لیے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے انھیں پیدائش کا سرٹیفکیٹ، سکول، کالج ڈگری سرٹیفکیٹ اور پاسپورٹ میں تبدیلی کرکے لڑکی سے لڑکا کروانا تھا۔

لیکن سرکاری دفاتر میں کوئی بھی کچھ تبدیل کرنے کو تیار نہیں تھا۔ بہت ساری کوششوں کے بعد بھاویش بھائی کو ٹرانسجینڈر سرٹیفکیٹ ملا۔ اس کے بعد انھوں نے گجرات ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

بھاویش بھائی کے وکیل امیت چوہدری نے بی بی سی گجراتی سے بات کرتے ہوئے کہا ‘ہم نے آئین کی دفعہ 226 اور 227 کے سیکشن 14، 15 اور 2012 کے مطابق ہائی کورٹ میں درخواست دی ہے۔’

بھاویش بھائی کو بچپن سے ہی جینڈر ڈائیسفوریا تھا، ایسے میں سرکاری ہسپتال کا سرٹیفیکیٹ سب سے اہم ہوتا ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بھاویش بھائی کے خلاف کوئی مجرمانہ مقدمہ نہیں ہے، وہ بیرون ملک جاکر اپنی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ایسے میں ان کے پاسپورٹ، سکول اور کالج کی سندوں میں جِنس تبدیل کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

اس کے بعد جسٹس اے جے دیسائی نے تبدیلی کے احکامات دیے۔

بھاؤ نگر یونیورسٹی کے وائس چانسلر مہپت سنگھ چاوڑا نے کہا ‘جب ہمیں بھاویش کی جینڈر ڈائیسفوریا کے بارے میں معلوم ہوا تو ہم نے اسے لڑکوں کے ہاسٹل میں داخل کرایا۔ اب ہم ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق تبدیلیاں کر رہے ہیں۔‘

بھاویش بھائی نے بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ ‘ایک وقت تھا جب میں نے خود کشی کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا لیکن پھر میں نے جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہائی کورٹ جانے سے پہلے میں بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکالر شِپ حاصل کی۔ عدالت کے حکم کے بعد میں سیدھا بیرون ملک جا سکتا تھا۔ لیکن میں سرکاری ہسپتال کی ڈیوٹی پر ہوں اور مریضوں کی خدمت کر رہا ہوں۔ کورونا ختم ہونے کے بعد میں آگے تعلیم حاصل کرنے بیرون ملک جاؤں گا۔’

اب بھاویش بھائی خود کو مکمل طور پر آزاد محسوس کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ‘اب میں معاشرتی بندھنوں سے آزاد ہوں۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17722 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp