محمد علی سدپارہ کی موت کی تصدیق: سوشل میڈیا صارفین کا ’ہیرو کوہ پیما‘ کو الوداع، ہیروز کو ان کی زندگی میں سراہنے کی التجا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’تم چلے آؤ پہاڑوں کی قسم‘ سے لے کر ’پہاڑوں کا بیٹا پہاڑوں میں دفن ہو گیا‘ تک سوشل میڈیا صارفین گذشتہ دو ہفتوں سے مختلف انداز میں لاپتہ پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

آج ان کی اور ان کے ساتھیوں کی موت کی تصدیق کے بعد محمد علی سدپارہ کا نام پاکستان میں ٹوئٹر ٹرینڈز میں سرفہرست ہے اور لوگ انھیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔

علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کو پانچ فروری کو آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر کے ٹو کی چوٹی کے قریب آخری مرتبہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے دیکھا تھا جو آکسیجن ریگولیٹر کی خرابی کی وجہ سے مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

خیال رہے کہ علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن چھ فروری سے جاری تھا جسے موسم کی خرابی کی وجہ سے درمیان میں روکنا بھی پڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

علی سدپارہ کی موت کی تصدیق: ’کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کے لیے آغوش میں لے لیا‘

علی سدپارہ: کیا یہ پاکستان میں کوہ پیمائی کا طویل ترین ریسکیو آپریشن تھا؟

کوہ پیماؤں کے چوٹی سر کرنے کے دعوے کی تصدیق کیسے ہوتی ہے؟

گذشتہ 13 دنوں کے دوران ہم سوشل میڈیا پر مختلف اس حوالے سے مختلف موضوعات پر بحث دیکھتے رہے ہیں۔ آغاز میں محمد علی سدپارہ کے کے ٹو سر کرنے کی خبر کی تردید اور پھر جعلی خبروں کی مذمت سامنے آئی، اس کے بعد سے ان کے ریسکیو آپریشن اور کسی معجزے کے بارے میں دعائیں بھی کی جاتی رہیں اور کوہ پیمائی اور کوہ پیماؤں کے آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر زندہ رہنے سے متعلق سوالات سامنے آتے رہے۔

پھر نذیر صابر کے ایک انٹریو میں کیے جانے والے انکشافات کے بعد علی سدپارہ کا بطور ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹر اس مہم کا حصہ ہونے اور پورٹرز کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کے بارے میں سوالات اٹھ گئے۔

تاہم آج اکثر صارفین یہی سوال پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ ہم اپنے ہیروز کی قدر اس وقت ہی کیوں کرتے ہیں جب یا تو وہ مرنے کے قریب ہوتے ہیں یا مر چکے ہوتے ہیں۔

نزہت صدیقی نامی صارف نے علی سدپارہ کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد اس حوالے سے ٹوئٹر پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ علی سدپارہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ ’ہم ان کے بیٹے کو کبھی نظرانداز نہ کریں اور اس کی تمام مہمات کو فنڈ کریں اور اس کے لیے سپانسر ڈھونڈیں اور ان کے علاقے کے لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے کام کریں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’برائے مہربانی اپنے ہیروز کو ان کی موت کے قریب یا موت کے بعد نہ سراہا کریں۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد سے آگے بھی زندگی موجود ہے اور سوشل میڈیا کے علاوہ بھی۔‘

وہ کہتی ہیں ’ہمیں مقامی ایڈوینچررز، لکھاریوں، شعرا، سماجی کارکنان، ماحولیاتی کارکنان اور فنکاروں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔ انھیں اس وقت عزت دیں جب وہ زندہ ہیں اور انھیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ انھوں سپانسرشپ دیں، انھیں پیسے دیں اور تحفظ کے ساتھ اپنے ہنر پر عمل کرنے کا چانس دیں۔‘

ایک صارف حافظ حسن نے لکھا کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ اپنے علاقے کی ترقی کا جو خواب انھوں نے دیکھا تھا وہ ان کی خدمات کے صلے کے طور پر حکومت ضرور پورا کرے گی۔‘

ایک صارف ’ہمارا سامنا ایسے لوگوں سے بہت کم ہوتا ہے جو مشکلات کا مقابلہ اتنی ہمت سے کرتے ہیں۔ علی سدپارہ نے مشکل وقت میں بھی اپنے خوابوں کی تعبیر کو ترجیح دی اور مہم جوئی کی پہچان بنائی۔‘

اکثر صارفین نے علی سدپارہ کو قومی ہیرو قرار دیا اور کہا کہ وہ ایک لیجنڈ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جبکہ کچھ صارفین اب بھی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ علی سدپارہ اب ہم میں نہیں ہیں اور وہ کسی معجزے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17725 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp