پورے چہرے کی ’ہاٹ ویکسنگ‘ والی وائرل ویڈیوز کے خلاف تنبیہ

صوفیا سمتھ گیلر - بی بی سی ورل سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جلد کے ماہرین نے پورے چہرے پر گرم ویکس کی پرت والی وائرل ٹک ٹوک ویڈیوز سے متعلق خبردار کیا ہے۔

ان ویڈیوز میں گرم ویکس سے ڈھکے چہرے دکھائے جا رہے ہیں۔ چہرے کے علاوہ بعض معاملوں میں ویکس ناک اور کان کے اندر بھی جاتی نظر آتی ہے جسے بعد میں کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔

ایسی چند ویڈیوز کو پوسٹ کرنے والے ایک حجام کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا ’مفید‘ ہے۔

تاہم برٹش ایسوسی ایشن آف ڈرمیٹالوجسٹ کا کہنا ہے کہ ادارہ ‘ناک یا کان کے اندر ویکس کرنے کی تجویز نہیں دیتا۔‘

برطانیہ میں جلد کے امراض کے ایک ماہر نے بھی اس عمل کے خلاف تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے سانس لینے میں مشکل بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

ایک ماہر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کو ایسی ویڈیوز کے ساتھ تنبیہ جاری کرنی چاہیے۔

لیکن یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ان ویڈیوز کے ساتھ خطرناک برتاوٴ سے متعلق گائیڈ لائنز اس لیے جاری نہیں کی گئی ہیں کیوں کہ ان میں نظر آنے والے افراد پیشہ ور ہیں۔

ان ویڈیوز کی بدولت نیدرلینڈز کے ’کیپ سیلون فریڈم‘ کے آٹھ لاکھ سے زائد ٹک ٹاک فالوورز ہو چکے ہیں۔

نومبر میں سیلون کی جانب سے پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو کو 84 ملین بار دیکھا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

بوٹاکس، فِلر لگوانے سے پہلے ذہنی معائنے کی ہدایت

چھرے سے مساج مذاق نہیں

’چینی خواتین کی اولین پسند ایک ستواں ناک‘

اس ویڈیو میں گاہک کے چہرے کا نیچے کا حصہ ویکس سے محفوظ تھا۔ لیکن گذشتہ دنوں سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں ویکس کو گردن تک ٹپکتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو کو 19 ملین سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔

اس شخص کے کان اور ناک سے نکالی گئی ویکس کو کیمرے کے نزدیک لا کر اس پر چپکے بال دکھائے جاتے ہیں۔ خیال رہے کہ جس وقت یہ ویکس جلد سے نوچی جاتی ہے اس وقت تک وہ سخت ہو چکی ہوتی ہے۔

ایک اور ویڈیو میں ایک شخص کا مکمل چہرہ ویکس سے ڈھکا ہوا دکھایا جاتا ہے۔ اور سانس لینے کے لیے ڈھکی ہوئی ناک کے نتھنوں کی جگہ پر روئی لپٹی سلائیوں سے سوراخ کرتے دکھایا گیا ہے۔

ایک ایسی ویڈیو بھی ہے جس میں ویکس سے مکمل طور پر ڈھکے ایک خاتون کے چہرے اور گردن سے ویکس کو اتارا جا رہا ہے۔ اس میں کاغذ کی پتلی کترن سے اس کی پلکوں اور بھوؤں کو ڈھک دیا گیا ہے تاکہ ویکس ان پر نہ لگے۔

حجام رناض اسماعیل کا کہنا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہوئے جہاں اس قسم کی ویکسنگ عام ہے۔ لیکن انھوں نے اسے کسی اور ہی مقام تک پہنچا دیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ‘میں دنیا کا وہ پہلا شخص ہوں جس نے مکمل چہرے کی ویکسنگ کی ہے۔’

اسماعیل کا کہنا ہے کہ یہ خطرناک نہیں ہے۔

اسماعیل اب اپنی ویڈیوز کو مقبول بنانے کے لیے ان کے ساتھ ہیش ٹیگ وائرل لکھتے ہیں۔ چند ویڈیوز میں میوزک کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔

انھوں نے فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر بھی چند ویڈیوز کو پوسٹ کیا لیکن وہاں انہیں ٹک ٹاک جیسی مقبولیت نہیں حاصل ہوئی۔

دم گھٹنے کا خطرہ

ایلکس ایچیویری برطانیہ کے ایک سلون میں کام کرتے ہیں۔ انھوں نے اس عمل کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔

دو دہائی سے زیادہ عرصے سے اس شعبے میں کام کرنے والے ایچیویری نے کہا کہ سب سے پہلی اہمیت ہم اس بات کو دیں گے کہ اس عمل میں گھٹن ہو سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘مکمل چہرے کو ویکس سے ڈھک دینے کے بعد آپ اسے کنٹرول نہیں کر سکتے ہیں۔ ویکس ٹھنڈی ہو کر جم جاتی ہے’۔

ان کو خوف ہے کہ سانس کی نالی میں جا کر ویکس کے جم جانے پر اسے نکالنے کا سرجری کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں باقی رہ جائے گا۔

چہرے پر پھنسیاں

لندن میں ایک حجام کا کہنا ہے کہ ‘چہرے کی نازک جلد کے اتنے بڑے حصے کو ویکس کرنا بہت غیر ذمہ دارانہ بات ہے’۔

انھوں نے اس بات کے بھی خدشات ظاہر کیے کہ ان ویڈیوز کو دیکھ کر لوگ انہیں کاپی کرنے کی کوشش کریں گے۔

ماہر جلد ڈاکٹر انجلی ماہتو کا کہنا ہے کہ ‘سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صحت اور بیوٹی سے متعلق مواد بہت تیزی سے پھیلتا ہے’۔

انھوں نے کہا کہ ’ویکسنگ جلد کے لیے ایک تکلیف دہ عمل ہے، خاص طور پر نازک جلد کے لیے جیسی چہرے پر آنکھوں کے ارد گرد ہوتی ہے۔ اس سے جلد میں سوجن یا جلن اور خارش پیدا ہو سکتی ہے۔‘

اس کے علاوہ چہرے پر دانے یا پس والی پھنسیاں بھی نکل سکتی ہیں۔

نقصان دہ عمل

دا برٹژسکن فاوٴنڈیشن نے اس بارے میں بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ چند ویڈیوز میں سکول جانے والے بچوں کے چہرے پر ویکس استعمال کرتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے۔

ماہر جلد ڈاکٹر ایما ویجورتھ نے کہا ‘میں ذاتی طور پر مشورہ نہیں دوں گی کہ بچوں پر یہ استعمال ہو’۔

انھوں نے کہا سمجھداری کی بات یہ ہوگی کہ ان ویڈیوز کے ساتھ تنبیہ بھی جاری ہو۔

ان کا خیال ہے کہ ‘ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بہت ساری غلط معلومات اور خود سے کیے جانے والے کاموں کے نقصان دہ نسخے موجود ہیں’۔

انھوں نے کہا کہ ‘بہتر ہوگا کہ ان سے سخت ہدایات پر عمل کروایا جائے’۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17728 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp