آرمی چیف کو تنقیدی خط لکھنے کا معاملہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزم کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کر دی

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

باجوہ

Getty Images

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستانی فوج کے سربراہ، کور کمانڈرز اور اعلیٰ افسران کو خطوط لکھنے کے معاملے پر گرفتار ہونے والے ایک ملزم کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کمانڈنگ افسر خود اس بات کا تعین کرے کہ آیا یہ معاملہ فوجی عدالت کے دائرہ سماعت میں آتا ہے یا اس کو سویلین عدالت میں بھیجا جائے۔‘

عدالت کا کہنا تھا کہ فوجی عدالت اس وقت تک زیر حراست ملزم کے خلاف کوئی فیصلہ نہ دے جب تک اس معاملے کی تفتیش کرنے والے افسر خود اس بات کا تعین نہ کرلیں کہ ملزم کے اس اقدام کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی بنتی ہے یا نہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ مدعی کی طرف سے جو جواب جمع کروایا گیا ہے اس میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ابھی اس معاملے کی تفتیش ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فوج کا سابق جنرل کے بیٹے کے خلاف کارروائی کا دفاع: ’خطوط‘ عدالت میں پیش

جنرل باجوہ کو خط لکھنے والا سابق پاکستانی جرنیل کا بیٹا فوج کی حراست میں کیوں ہے؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع

واضح رہے کہ ملزم حسن عسکری پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل سید ظفر مہدی کے صاحبزادے ہیں اور اُنھیں چند ماہ قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع اور دیگر معاملات پر آرمی چیف، تھری سٹار اور ٹو سٹار جنرلز کو خطوط لکھنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔

پاکستانی فوج کے ایجوٹینٹ جنرل کی جانب سے اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جو جواب جمع کروایا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ملزم کا یہ اقدام ماتحت افسران کو اعلیٰ افسران کے خلاف بغاوت پر اکسانا ہے۔ اس جواب میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ملزم حسن عسکری کو گرفتار کرنے سے پہلے انھیں کئی بار متنبہ کیا گیا کہ وہ ایسی حرکتوں سے باز آجائیں لیکن انھوں نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ

AFP

درخواست گزار میجر جنرل ریٹائرڈ سید ظفر مہدی کی وکیل زینب جنجوعہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے یہ فیصلہ اوپن کورٹ میں سنایا اور کمرہ عدالت میں فوجی افسران کے علاوہ سویلین بھی موجود تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’عدالت نے اپنے فیصلے میں کمانڈنگ افسر کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ ہر دو ہفتوں کے بعد ملزم سے اس کے گھر والوں کی ملاقات کروائی جائے۔‘

زینب جنجوعہ کا کہنا تھا کہ کمرہ عدالت میں موجود فوج کے قانونی معاملات کو دیکھنے والے ادارے جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ کے نمائندوں نے عدالتی حکم پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

درخواست گزار کی وکیل کا کہنا تھا کہ ابھی انھیں اس فیصلے کی مصدقہ کاپی نہیں ملی جس کو دیکھنے کے بعد وہ اپنے موکل سے مشورہ کر کے فیصلہ کریں گے کہ آیا اس عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنا ہے یا نہیں۔

پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل سید ظفر مہدی کی طرف سے اپنے بیٹے کی بازیابی اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی رکوانے کے لیے جو درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی اس میں یہ موقف بھی اپنایا گیا تھا کہ کسی سویلین کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17788 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp