کبھی سوچا ہے کہ اب صحن میں چڑیاں نظر کیوں نہیں آتیں؟

وکٹوریہ گِل - نامہ نگار برائے سائنس، بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ بچپن میں گھر کے صحن میں جس طرح چڑیاں آیا کرتی تھیں اب نظر نہیں آتیں۔ تقریباً دو دہائی قبل گھروں کے صحن، بالکنی، چھتوں اور گلیوں کے علاوہ بجلی کے کھمبوں اور تاروں پر بھی چڑیوں کی بیٹھک لگی ہوتی تھی۔ پھر آخر کیا ہوا کہ یہ مناظر غائب ہی ہو گئے؟

سائنسدانوں نے گانے والی چڑیا جسے سانگ برڈ بھی کہتے ہیں، پر تحقیق کر کے پتا لگایا ہے کہ ٹریفک کے شور سے پرندوں اور دیگر جانوروں کی مختلف صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔

انہیں اس تحقیق کے ذریعے معلوم ہوا کہ گانے والی چڑیا کے آس پاس سے گزرتی کاروں کے شور سے اس پرندے کی خوراک تلاش کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

اسی بارے میں

روشنی اور شور سے چڑیوں کے گانے ماند پڑ گئے

’کنکریٹ کے جنگل‘ کراچی سے پرندے کیوں روٹھ گئے؟

تحقیق کے مطابق ٹریفک کے شور سے پرندوں اور دیگر جانوروں پر ایسے اثرات مرتب ہو رہے ہیں جن کے بارے میں ماضی میں تصور نہیں کیا گیا تھا۔ یہ بھی پایا گیا کہ کورونا کی وبا کے دوران لاک ڈاؤن کے سبب شور میں کمی آئی ہے جس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔

امریکہ کی پیسیفِک یونیورسٹی کے پروفیسر کرسٹوفر ٹیمپلٹن نے اس ریسرچ کی راہنمائی کی۔ محققین نے ان پرندوں کو پہلے خاموش ماحول میں پرکھا اور پھر ان کے گرد ٹریفک کے شور کو پیدا کر کے ان کے رویوں میں تبدیلی پر غور کیا۔

پروفیسر ٹیمپلٹن نے بتایا کہ ‘محض کسی ایک کار کے نزدیک سے گزر جانے سے ان کے رویے میں تبدیلی دیکھی گئی۔’

اس تحقیق میں ان پرندوں کو دونوں قسم کے ماحول میں اپنے لیے کھانے کو تلاش کرنا تھا۔ ایک ٹیسٹ میں درخت کی پتے نما ایک ڈھکن کے نیچے سے انہیں کھانا تلاش کرنا تھا۔ جبکہ دوسرے میں انہیں ایک سیلنڈر کے اندر رکھے کھانے کے ٹکڑے کو تلاش کرنا تھا۔

پروفیسر ٹیمپلٹن نے بتایا کہ ‘ٹریفک کے شور کے نہ ہونے پر ان پرندوں نے ان ٹیسٹس کو پاس کرنے کی دگنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔‘

انھوں نے کہا ‘مجھے لگتا ہے کہ یہ نتائج دیگر نسلوں اور مختلف اقسام کے پرندوں پر بھی لاگو ہوں گے۔’

انھوں نے اس تحقیق میں پرندے کی ‘زیبرا فِنچز’ نامی نسل کو شامل کیا تھا۔ یہ پرندے بمشکل ہی خاموش رہتے ہیں۔

پروفیسر تیمپلٹن نے کہا ‘آپ تصور کر سکتے ہیں کہ مسلسل شور کرتے ہوئے پرندوں کے ساتھ کام کرنا کیسا ہوگا، بہت شور و غل کا ماحول ہوتا ہے’۔

Robin (c) Victoria Gill

Victoria Gill
محققین کے مطابق یہ نتائج دیگر نسلوں اور مختلف اقسام کے پرندوں پر بھی لاگو ہوں گے

لاک ڈاوٴن کے اثرات

اس بارے میں بھی ثبوت موجود ہیں کہ انسانی شور جنگلی حیات پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ لاک ڈاوٴن کے دوران شور میں کمی ہونے کے سبب پرندوں کے گانے کے رویے میں بھی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ سمندر کی گہرائی میں سونار، سیسمک سروے اور بحری جہازوں کا شور بھی آبی حیات کو متاثر کرتی ہے۔ اس شور سے ان کے درمیان مواصلاتی نظام متاثر ہوتا ہے۔

اسی ہفتے شائع ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق محققین نے ٹریفک کو شور کے سبب جھینگوں پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں بھی ایک رپورٹ پیش کی ہے۔ شور کے سبب انہیں جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے اپنے ممکنہ ساتھی کو تلاش کرنے میں دشواری درپیش ہوتی ہے۔

White-crowned sparrow

Getty Images
لاک ڈاوٴن کے دوران شور میں کمی ہونے کے سبب پرندوں کے گانے کے رویے میں بھی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے

کیمبرج یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایڈم بینٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ہزاروں برسوں سے کیڑے مکوڑوں کے درمیان جنسی تعلق کے لیے ساتھی تلاش کرنے کا جو قدرتی نظام ہے وہ شور و غل کے سبب متاثر ہو رہا ہے’۔

انھوں نے کہا کہ اس سے ان باتوں کا بھی تعین ہوگا کہ یہ حیات مستقبل میں زندہ رہنے کے لیے خود میں کس قسم کی تبدیلیاں لائے گی اور کس حد تک ماحولیاتی شور کا سامنا کر سکے گی۔

برطانیہ میں اینگلیا رسکن یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر سوفی نے بتایا ‘انسان مسلسل مختلف قسم کے شور پیدا کر کے ماحول میں تبدیلی کا باعث رہا ہے۔‘

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ماحول کی اس شور سے حفاظت کرنا ایک بڑا چیلینج ہوگا۔

پروفیسر ٹیمپلٹن نے کہا کہ ‘ایسے ماحول کو تلاش کرنا جہاں مکمل خاموشی ہو بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے’۔

ان کا خیال ہے کہ ٹڑیفک کا شور کم کرنے کے لیے ہم سڑکوں کی سطح تبدیل کر کے، یا گاڑیوں کے ٹائروں کے ڈیزائن بدلنے کے بارے میں غور کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ‘شور کو کم کرنے کی کئی طرح سے کوشش کی جا سکتی ہے، ہمیں انجینیئرنگ کے معاملے میں تھوڑی چالاکی سے کام لینا ہوگا۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17777 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp