وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ترقیاتی فنڈز کیس: چیف جسٹس اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں، جسٹس فائز عیسیٰ کا اختلافی نوٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف ترقیاتی فنڈز کیس میں اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد کے تحریری فیصلے کی قانونی حیثیت نہیں لہذا وہ اپنے حکمنامے کا دوبارہ جائزہ لیں اور اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔

28 صفحات پر مشتمل اس اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے میں اختیارات سے یوں بھی تجاوز کیا گیا ہے کہ عدالت کے چار ججز نے اپنے ہی ایک ساتھی جج کے خلاف فیصلہ لکھا ہے۔

ان کے مطابق اس وقت اس مقدمے میں کوئی عدالتی حکمنامہ ہی موجود نہیں اور چیف جسٹس کو از سر نو صورتحال کا جائزہ لینا چاھیے۔

جسٹس فائز عیسیٰ کے مطابق یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کر دیا گیا حالانکہ اس سے قبل یہ روایت ہی نہیں رہی کہ اگر کسی جج نے کسی فیصلے پر دستخط نہ کیے ہوں تو اسے اپ لوڈ نہیں کیا جاتا۔

قاضی فائز عیسی نے لکھا کہ چیف جسٹس نے اس معاملے میں خود ہی بینچ تشکیل دیا۔ اس بینچ کا انھیں حصہ بنایا اور حقائق کی چھان بین کے بغیر ہی پھر خود ہی ایک جج کے خلاف جانبداری کا فیصلہ بھی سنا دیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے وزیراعظم کی طرف سے مبینہ طور پر ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈ دینے سے متعلق از خود نوٹس کی درخواست نمٹاتے ہوئے میڈیا کو فیصلہ جاری کیا تھا۔

فیصلے میں یہ آبزرویشن دی گئی تھی کہ چونکہ بنچ کے ایک رکن جسٹس فائز عیسیٰ نے ذاتی حیثیت میں وزیراعظم کے خلاف پٹیشن دائر کر رکھی ہے، اس لیے غیر جانبداری کے اصولوں کا تقاضا یہی ہے کہ انھیں ایسے معاملات کی سماعت نہیں کرنی چاہیے جو کہ وزیراعظم عمران خان سے متعلق ہوں۔

یہ بھی پڑھیے

فائز عیسیٰ ریفرنس:’صدر،وزیراعظم کا استثنیٰ ختم کیا جائے‘

جسٹس فائز عیسیٰ کا ترقیاتی فنڈز کیس کے فیصلے کی نقل نہ ملنے پر اعتراض

سپریم کورٹ کے جج کو کسی درخواست کی سماعت سے روکنا کتنا غیر معمولی ہے؟

’چیف جسٹس کے لکھے گئے فیصلے میں حقائق درست نہیں ہیں‘

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد کے لکھے گئے فیصلے میں حقائق درست نہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے مطابق انھوں نے کبھی بھی وزیراعظم کے خلاف پیٹیشن دائر نہیں کی۔ ان کے مطابق جو پیٹیشن دائر کی گئی تھی وہ صدارتی ریفرنس کے خلاف تھی۔

ان کے مطابق انھوں نے تو سپریم جوڈیشل کونسل کے تین ارکان کے خلاف بھی پیٹیشن دائر کی تھی، اگر یہی فیصلے کا اصول ہے تو پھر میرے خلاف بینچ میں شامل ان تین ججز کو فیصلہ نہیں لکھنا چاھیے تھا کیونکہ پھر اس طرح تو وہ بھی جانبدار تصور ہوں گے۔

جسٹس فائز عیسیٰ کے مطابق وزیراعظم کے عہدے اور وزیراعظم کی ذات کو آپس میں نہیں ملایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر اس طرح کسی جج کو مقدمات سننے سے روکا جائے تو پھر تو وہ چند نجی نوعیت کے تنازعات تک ہی محدود ہو کر رہ جائے گا کیونکہ فوجداری مقدمات میں بھی وفاق ایک پارٹی ہوتی ہے اور ایسے مقدمات بھی نہیں سن سکے گا۔

ان کے مطابق وہ عمران خان کو ذاتی حیثیت سے نہیں جانتے ہیں اور ان کی وزیر اعظم کے خلاف کوئی جابنداری ہے۔ ان کے مطابق ساتھی ججز کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ کسی کے دل کا احوال بتائیں کہ وہ جانبدار ہے یا نہیں۔

’چیف جسٹس نے ایک ’نان ایشو‘ کو اہمیت دی‘

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق چیف جسٹس نے ایک غیر ضروری معاملے کو اٹھایا ہے اور انھیں سنے بغیر ہی جانبداری سے متعلق فیصلہ بھی صادر کر دیا۔ ان کے مطابق ان کی جانبداری پر تو کسی نے اعتراض تک نہیں کیا تو پھر یہ اچانک فیصلہ کہاں سے آ گیا۔

انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے ثبوت اور اپیل کا موقع دیے بغیر ہیں ایک جج پر جانبداری کا الزام عائد کر دیا جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کے مطابق اس طرح کے فیصلوں سے عدلیہ کی ساکھ مجروح ہوتی ہے۔

انھوں نے چیف جسٹس کے اس حکمنامے کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے ماضی کے متعدد فیصلوں کا حوالہ بھی دیا کہ ایک قانونی تحریری فیصلہ کونسا ہوتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے لکھا ہے کہ ایک جج کا حلف اسے تمام مقدمات سننے کا پابند بناتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک جج کی وفاداری صرف آئین پاکستان کے ساتھ ہوتی ہے۔

’چیف جسٹس سے ناراضگی کی ایک وجہ بینچز کی امتیازی تشکیل ہے‘

جسٹس قاضی فائز عیسی کے مطابق ان کا چیف جسٹس سے ایک اختلاف بینچز کی تشکیل ہے۔ انھوں نے اختلافی نوٹ میں میں لکھا کہ وہ پانچ سال بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس رہے اور کئی برس تک وکیل کی حیثیت سے اہم قانونی اور آئینی مقدمات میں عدالتوں کے سامنے پیش ہوتے رہے ہیں لیکن پھر بھی انھیں آئینی نوعیت کے اہم معاملات کی سماعت والے مقدمات میں بینچز کا حصہ نہیں بنایا جاتا، جو چیف جسٹس کا غیر واضح صوابدیدی اختیار ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تشکیل پر اعتراض سے متعلق چیف جسٹس کو لکھے گئے خط کو بھی اپنے اختلافی نوٹ کا حصہ بنایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے خلاف ابھی جسٹس مقبول باقر اور ان پر مشتمل بینچ سماعت کر رہا تھا کہ چیف جسٹس نے ایک پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا، جو ان کی طرف سے سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججز کے خلاف عوامی سطح پر عدم اعتماد تھا، جس سے ان کی ساکھ متاثر ہوئی اور ان کی بے توقیری کی گئی۔

جسٹس قاضی فائز نے لکھا کہ میں اس موقع پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اہم آئینی نوعیت کے معاملات کی سماعت والے بینچز سے سینیئر جج نکال دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح چیف جسٹس کا اپنے غیر واضح قسم کے بینچ بنانے کے امتیازی اختیارات کا استعمال ادارے کی بہتری میں ہے نہ ہائیکورٹ کی جہاں وہ پانچ سال تک چیف جسٹس رہے۔

ان کے مطابق انھوں نے زیادہ تر آئینی کام کیا مگر پھر بھی اہم نوعیت کے آئینی مقدمات سننے کے لیے بینچز کی تشکیل میں غیر واضح قسم کے امتیازی اختیارات کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق انھیں اس ادارے کا وقار انتہائی عزیز ہے جس کی وجہ سے انھوں نے پہلے کبھی بینچز کی تشکیل پر سرعام اعتراض نہیں کیا۔ انھوں نے چیف جسٹس سے ایسا خط تحریر کرنے پر افسوس کا بھی اظہار کیا مگر ان کے مطابق اگر وہ یہ نہیں لکھیں گے تو وہ اپنے ضمیر اور حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہوں گے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق چیف جسٹس نے جس انداز میں جسٹس مقبول باقر کو نکال کر بینچ تشکیل دیا اس پر انھوں نے چیف جسٹس کے نام خط میں اپنا اعتراض بھی واضح کیا مگر چیف جسٹس گلزار احمد نے ان کے خط کا کوئی جواب تک نہ دیا۔

عمران خان

Getty Images

’وزیراعظم کے خلاف مقدمے کا اختتام غیر متوقع تھا‘

اپنے اختلافی نوٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ یہ معاملہ تب شروع ہوا جب سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے وسیع پیمانے پر رپورٹ ہونے والے بیان کا نوٹس لیا تھا۔ ان کے مطابق وزیراعظم پاکستان کا بیان بظاہر آئین سے متصادم تھا تاہم اس کا اختتام غیرمتوقع تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ مبینہ خلاف ورزی کی صحیح تحقیقات نہیں کی گئی بلکہ سپریم کورٹ کے ایک جج کی سرزنش کی گئی اور ایک جج کو ہی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے سے روک دیا گیا۔

ان کے مطابق انھوں نے اس بے توقیری پر استعفیٰ دینے پر غور کیا تھا مگر پھر سوچ آئی کہ یہ معاملہ ایک جج اور اس کے ساتھ پیش آنے والے ناروا سلوک (مِس ٹریٹمنٹ) سے متعلق نہیں بلکہ اس سے زیادہ اہم آئین اور عوام سے متعلق ہے، جس کی میں خدا کے فضل سے تحفظ کرتا رہوں گا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 11 فروری کی عدالتی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ چیف جسٹس نے اچانک کیس ختم کرتے ہوئے کھلی عدالت میں یکطرفہ طور پر قرار دیا کہ ایک جج کو ’وزیراعظم پاکستان سے متعلق معاملات کی سماعت نہیں کرنی چاہیے‘ جس کے بعد وہ اپنی نشست سے اٹھے اور دیگر ججز کو بھی ایسا کرنے پر مجبور کیا۔

ان کے مطابق کچھ وقت کے بعد یہ فیصلہ میڈیا پر نشر ہو رہا تھا جبکہ انھیں بطور جج اور اس بینچ کے رکن کے میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار کے نام ایک خط میں لکھا کہ انھیں عدالتی فیصلے کی نقل نہیں دی گئی اور نہ عدالتی روایت کے مطابق یہ فیصلہ میڈیا پر جاری کرنے سے قبل انھیں دکھایا گیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق انھوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر وزیراعظم کے خلاف دو رکنی بینچ کی تشکیل نو کیوں کی گئی اور اس معاملے میں اتنی غیر معمولی دلچسپی کیوں دکھائی گئی تو انھیں فائل سے یہی معلوم ہو سکا کہ چیف جسٹس نے امتیازی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس مقدمے میں نیا بینچ تشکیل دیا ہے۔

اختلافی نوٹ کے مطابق ابھی دو رکنی بینچ نے وزیراعظم کی طرف سے جوابات کا جائزہ لینا تھا اور اس کے بعد اس مقدمے کو آگے بڑھانے سے متعلق کوئی فیصلہ دینا تھا کہ چیف جسٹس نے ایک نیا بینچ تشکیل دے دیا۔

واٹس ایپ پر سپریم کورٹ کے جج کو کیا پیغام موصول ہوا؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ اس روز سماعت کے بعد انھیں موبائل فون پر پیغام موصول ہوا جس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت نے این اے 65 میں چوہدری سالک حسین کے لیے مخصوص تعمیراتی کام کے سلسلے میں کئی کروڑ روپے منظور کیے۔

انھوں نے لکھا کہ واٹس ایپ پر ملنے والی دستاویزات کھلی عدالت میں ججز اور حکومتی وکلا کو دیں اور ان پر تحقیقات تک کا نہیں کہا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق ان دستاویزات کی جانچ پڑتال پر ہچکچاہٹ اس حوالے سے بدگمانی کو بڑھا دیتا ہے۔

اختلافی نوٹ میں انھوں نے لکھا کہ سینیٹ انتخابات سے قبل وزیراعظم نے اراکین کو ترقیاتی فنڈز دینے کا کہا جبکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی ووٹوں کی خرید و فروخت کا کہہ رہی ہیں۔ انھوں نے لکھا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے انتخاب سے متعلق بھی بدعنوانی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17773 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp