وائلٹ گِبسن: مسولینی پر گولی چلانے والے آئرش خاتون جسے بھلا دیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسولینی

Getty Images
اپریل 1926 میں وائلٹ گِبسن کی چلائی ہوئی گولی بینیٹو مسولینی کا ناک کو چھوتی ہوئی نکل گئی

سات اپریل سنہ 1926 کو روم میں ایک آئرش خاتون ہجوم کے درمیان سے نمودار ہوئی اور انھوں نے 20 ویں صدی کے سب سے بدنام زمانہ آمروں میں سے ایک پر گولی چلا دی۔

ان کی گولی بینیٹو مسولینی کی ناک کو چھوتی ہوئی نکل گئی، مگر اطالوی رہنما اس قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے۔

بیسویں صدی میں یورپ میں فاشزم کے خلاف انفرادی بہادری کے بہت سے کارناموں میں وائلٹ گبسن کا کارنامہ بہت حد تک تاریخ میں کہیں گم ہو گیا۔

جن چار افراد نے مسولینی کو قتل کرنے کی کوشش کی ان میں ان کی کوشش قریب ترین تھی۔

اب تقریباً ایک صدی بعد ڈبلن میں ان کے نام کی تختی لگانے کے اقدامات میں تیزی نظر آ رہی ہے۔

انھوں نے مسولینی پر قاتلانہ حملہ اس وقت کیا جب وہ اپنے اقتدار کے تیسرے سال میں تھے اور ایک مجمعے سے خطاب کر رہے تھے۔

خاتون نے تین گولیاں چلائیں لیکن اس کے بعد ان کی گن پھنس گئی اور مسولینی کے حامیوں نے ان پر حملہ کر دیا، لیکن پولیس نے مداخلت کر کے انھیں بچالیا اور گرفتار کر لیا۔

کچھ عرصے تک اطالوی جیل میں رہنے کے بعد انھیں انگلینڈ بھیج دیا گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایسا عام عدالت میں مقدمے کی ہزیمت سے بچنے کے لیے کیا گیا۔

بعد میں انھیں نارتھیمپٹن میں واقع نفسیاتی امراض کے سینٹ اینڈریو ہاسپٹل میں داخل کر دیا گیا جہاں وہ 1956 میں اپنی موت تک رہیں۔

ڈبلن کی سٹی کونسل نے اب ایک قرارداد کے ذریعے شہر میں ان کے نام کی تختی لگانے کی ابتدائی منظور دی ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس ’باعزم فسطائیت مخالف‘ کو ’لوگوں کی نظر میں لایا جانا چاہیے اور آئرش خواتین اور آئریش قوم اور لوگوں کی تاریخ میں انھیں ان کا صحیح مقام دیا جانا چاہیے۔‘

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’انھیں سیاسی کی بجائے ’پاگل‘ ظاہر کرنا برطانوی حکام اور ان کے خاندانوں والوں کے مفاد میں تھا۔‘

’اپنی جرات کے لیے انھیں شدید ظلم کا نشانہ بنایا گیا‘

ڈبلن سٹی کے کونسلر مینِکس فلِن کا، جنھوں نے یہ قرارداد پیش کی تھی، کہنا ہے کہ وائلٹ گِبسن وہ شخصیت ہیں جنھیں ’کچھ عجیب وجوہ کی بنا پر آئرش اسٹیبلشمنٹ اور برطانوی اسٹیبلشمنٹ نے مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے‘

بینیٹو مسولینی نے 1922 سے 1943 تک اٹلی پر حکومت کی

Getty Images
بینیٹو مسولینی نے 1922 سے 1943 تک اٹلی پر حکومت کی

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’بہت سے ایسے دوسرے لوگوں کی طرح، خصوصاً خواتین، جنھوں نے کارہائے نمایاں انجام دیے ہمیشہ گمنامی میں دھکیل دیا گیا۔

’اگر آپ جنگِ عظیم اوّل یا دوئم کو دیکھے تو خواتین مردوں کے شانہ بشانہ رہی ہیں۔

’ہم اب کہیں ادھر ادھر سے ڈھونڈ کر انھیں ان کا صحیح مقام دے رہے ہیں، مگر وہ بھی شاذ و نادر۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ عمارت کے حالیہ مالک کی اجازت سے مشروط ہے تاہم تختی کے لیے ایک ممکنہ مقام وائلٹ گِبسن کا ڈبلن کے موریشن سکوائر میں وہ گھر ہو سکتا ہے جہاں انھوں نے بچپن گزارا تھا۔

وائلٹ گبسن نے ہسپتال سے برطانیہ کی بااثر شخصیات کو خط لکھے اور اپنی رہائی کی درخواست کی۔ ان شخصیات میں شہزادی اور موجودہ ملکہ الزبتھ اور وِنسٹن چرچل شامل تھے۔

بینیٹو مسولینی کون تھے؟

مسولینی کی نیشنل فاشِسٹ پارٹی جنگِ عظیم اوّل کے بعد اٹلی میں اقتدار میں آئی۔ اسے بلیک شرٹس جیسے مسلح جنگجو گروہوں کی پشت پناہی حاصل تھی جو مخالفین کو ڈراتے دھمکاتے تھے۔

فاشِسٹ نے 1920 میں اقتدار پر قبضہ کرکے جمہوری اداروں کو ختم کر دیا اور 1925 میں مسولینی اٹلی کے مطلق العنان حکمران بن گئے۔

انھوں نے سپین کی خانہ جنگی کے دروان جنرل فراسِسکو فرانکو اور دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے اڈولف ہٹلر کی حمایت کی۔

انھوں نے ہٹلر کی بعض پالیسیاں، خاص طور سے 1938 کے یہودی مخالف قوانین جن کے تحت اٹلی کے یہودیوں کو ان کے شہری حقوق سے محروم کر دیا گیا تھا، بھی اپنائیں۔ ہولوکاسٹ کے دوران 7,500 سے زیادہ اطالوی یہودی ہلاک ہوئے۔

مسولینی 1945 میں اتحادی افواج سے بچنے کے لیے فرار ہوتے ہوئے اطالوی پارٹیسن کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے اور بعد میں انھیں موت کی سزا دیدی گئی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21129 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp