بڑی کمپنیوں میں ملازمت کے لیے مصنوعی ذہانت کا طریقہ خواتین کو نظر انداز کیوں کرتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خواتین امیدوار

Getty Images

جب مجھے معلوم ہوا کہ ملازمت کے لیے جمع کروائی جانے والی میری درخواست کی جانچ پڑتال کسی جیتے جاگتے انسان کے بجائے ایک کمپیوٹر نے کی تھی تو مجھے نا صرف پریشانی ہوئی بلکہ تھوڑا عجیب بھی محسوس ہوا۔

میں ایک صحافی ہوں اور میں نے حال ہی میں نئی ملازمت کے لیے ایک ادارے میں درخواست دی تھی۔ درخواست جمع کروائے جانے کے بعد جانچ پڑتال کے پہلے حصے میں مجھے اپنے گھر ہی سے کچھ آسان سی آن لائن گیمز کھیلنے کے لیے مدعو کیا گیا۔

یہ گیمز بہت ہی سادہ سی تھیں جیسا کہ دو خانوں میں پوائنٹس کی تعداد کو جلدی سے گننا، ایک غبارے کو اس کے پھٹنے سے پہلے ہی ٹارگٹ کر کے پھاڑنا اور جذبات کو چہرے کے تاثرات سے جوڑنا وغیرہ۔

اس کے بعد دوسرے حصے میں ان گیمز کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر سسٹم نے میری شخصیت کا جائزہ لیا اور اپنا فیصلہ دیا کہ آیا میری درخواست کو منظور کرنا ہے یا مسترد کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جدید ٹیکنالوجی چہرے پہچاننے میں نسلی تعصب کا شکار

مصنوعی ذہانت خودکشی کو روکنے میں مددگار

کیا مصنوعی ذہانت جاپان کی زیادہ بچے پیدا کرنے میں مدد کر سکتی ہے؟

اور اس پورے عمل کی نگرانی کوئی انسان نہیں بلکہ کمپیوٹر کر رہا تھا۔

یہ سب معلوم ہونے کے بعد اب میرے ذہن میں ایک ہی سوال ہے کہ کیا ایسا کرنا مناسب ہے کہ ایک کمپیوٹر آپ کی نوکری کی درخواست کو منظور یا مسترد کر دے؟

مگر مجھے ہونے والے تعجب کو چھوڑیئے۔۔۔ آرٹیفیشل انٹیلیجینس (مصنوعی ذہانت) کی تیزی سے پھلتی پھولتی دنیا میں آپ کو خوش آمدید۔

میک ڈونلڈز سے جے پی مورگن تک

کچھ لوگوں کے لیے شاید یہ باعث حیرت ہو مگر دنیا کے چند بڑے نوکری فراہم کرنے والے ادارے گذشتہ ایک دہائی سے اس نوعیت کی مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں اس ٹیکنالوجی میں بہت جدت آ گئی ہے۔

جس مصنوعی ذہانت کے سوفٹ ویئر نے میری درخواست کے بعد مجھے پرکھا تھا کہ آیا میں اس پوسٹ کے لیے موزوں امیدوار ہوں بھی یا نہیں، وہ نیو یارک کی ایک کمپنی کا تیار کردہ تھا۔

اس سافٹ ویئر میں سوالات اور جوابات اس طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں جن کی مدد سے ملازمت کے لیے درخواست دینے والے کی شخصیت اور ذہانت کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ ساتھ مختلف صورتحال میں ہنگامی انداز سے نمٹنے کی صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکے۔

سادہ الفاظ میں اس پورے عمل کو آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ’صرف 25 منٹ میں امیدوار کی علمی اور شخصی صفات کی منصفانہ اور درست طریقے سے جانچ پڑتال کرنا۔‘

اس طرح کی مصنوعی ذہانت والے سافٹ ویئرز اب متعدد معروف ملٹی نیشنلز کمپنیوں جیسا کہ میکڈونلڈز، جے پی مورگن بینک، اکاؤنٹنگ فرم پی ڈبلیو سی اور کرافٹ ہینز میں امیدوار کی قابلیت کی جانچ پڑتال کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

اور اگر کمپیوٹر آپ کی درخواست منظور کر لیتا ہے تو آخری مرحلے میں آپ کو کمپنی کی جانب سے فائنل انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہے۔ یہ انٹرویو کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار یعنی انسان کرتے ہیں۔

ایسے ہی ایک مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر ’پیمیٹرکس‘ کی بانی فریدہ پولی کا کہنا ہے کہ درحقیقت یہ سافٹ ویئر کمپنیوں کو بڑی تعداد میں موصول ہونے والی نوکری کی درخواستوں سے نمٹنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کون سا امیدوار کسی مخصوص پوسٹ کے لیے کتنا موزوں ہے یا نہیں۔

’ہر کمپنی چاہتی ہے کہ اسے موزوں ترین امیدوار کی خدمات حاصل ہوں اور ہر امیدوار چاہتا ہے کہ اسے موزوں ترین نوکری ملے۔ اسی لیے مصنوعی ذہانت کے اس سافٹ ویئر کے استعمال میں سب کا برابر کا فائدہ ہے۔‘

امریکہ ہی میں تیار کردہ ایک اور مصنوعی ذہانت کا سافٹ ویئر ’ہائریوے‘ ہے۔ یہ سافٹ ویئر لیپ ٹاپ کے ویب کیم اور مائیکروفون کے ذریعے انٹرویو دینے والے سے دیے گئے جوابات اور پوچھے گئے سوالات کی ویڈیوز اور آواز ریکارڈ کرتا ہے۔

اس کے بعد یہ ریکارڈنگ متن (تحریر) میں بدل جاتی ہے اور مصنوعی ذہانت کا الگورتھم فیڈ کیے گئے کلیدی الفاظ کا تجزیہ کرتا ہے، جیسا کہ ٹیم ورک سے متعلق کیے گئے سوالوں کے جواب میں انٹرویو دینے والے نے کتنی مرتبہ ’ہم‘ کے بجائے ’میں‘ لفظ کا استعمال کیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر انٹرویو کے دوران آپ ’میں میں ہی کرتے رہے ہیں تو آپ ٹیم کو ساتھ لے کر چلنے یا بڑی ٹیم کے ساتھ کام کرنے کے لیے موزوں امیدوار نہیں۔

انھیں بنیادوں پر مصنوعی ذہانت کا یہ سافٹ ویئر بغیر کسی دوسری انسانی تصدیق کے کسی بھی امیدوار کو مسترد کر سکتا ہے یا موزوں امیدوار کو اگلے مرحلے کے لیے منتخب کر سکتا ہے۔

ہائریوے کمپنی کا کہنا ہے کہ ستمبر 2019 سے لے کر اب تک انھوں نے مجموعی طور پر ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کے انٹرویوز کیے ہیں، جن میں سے 20 فیصد صرف اور صرف مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر کے ذریعے تھے جبکہ 80 فیصد میں ویڈیو سکرین کے دوسری طرف سافٹ ویئر کے ساتھ ساتھ کوئی نا کوئی انسان بھی موجود تھا۔

اس کمپنی نے سنہ 2016 میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے انٹرویو لینے کا سافٹ ویئر پیش کرنا شروع کیا تھا۔ اس کمپنی کے بڑے صارفین میں کمپیوٹر چپ ڈیزائنر کمپنی ’اے آر ایم‘ اور ٹریول سروسز کمپنی ’سابر‘ بھی شامل ہیں۔

سنہ 2019 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ سنہ 2029 تک 16 فیصد ملازمتیں صرف اور صرف مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئرز کے ذریعے لیے گئے انٹرویوز سے دی جائیں گی۔

شفاف عمل

ہائریوے کے سی ای او کیون پارکر کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی جانب سے لیے گئے انٹرویوز کے مقابلے میں زیادہ غیر جانبدار اور منصفانہ ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہائرنگ میں منصفانہ عمل کو یقینی بنایا جا سکے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے تمام امیدواروں کا منصفانہ اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔‘

’پائمیٹرکس‘ نامی سافٹ ویئر کمپنی کا بھی کہنا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت کا نظام زیادہ سے زیادہ شفافیت کو یقینی بناتا ہے اور یہ کہ ’ہر ایک الگورتھم کی تعصب کے لیے سخت جانچ کی جاتی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ کمپنیوں کے لیے کسی امیدوار کی سی وی پر انحصار کرنے کے بجائے اس کی شخصیت اور تجربے کو جانچنے کا یہ زیادہ بہتر طریقہ ہے۔

’سی وی صرف کسی کی بہترین مہارت (صلاحیتوں۔۔ جو تربیت اور پیشہ ورانہ تجربے کے ذریعے حاصل کی جاتیں ہیں) کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتی ہے لیکن مصنوعی ذہانت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ امیدوار کی دوسری صلاحیتیں (عام فہم افکار، سماجی، گفتار وغیرہ) کیسی ہیں جو ملازمت میں اہداف کی کامیابی کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔‘

تعصبات اور چیلنجز

تو کیا مصنوعی ذہانت کے ذریعے بھرتیاں کرنے کا عمل کسی تشویش کا باعث نہیں ہیں؟ آن لائن شاپنگ کمپنی ’ایمازون‘ ایسا نہیں سوچتی ہے۔

سنہ 2018 میں ایمازون کو بھرتیاں کرنے کے اپنے ایک سافٹ ویئر کو اس وقت ہٹانا پڑا جب بڑے پیمانے پر یہ الزامات عائد ہوئے کہ یہ نظام اہم عہدوں پر امیدوار خواتین کے لیے متعصب ہے۔

امازون

Getty Images

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ ایمازون کے مصنوعی ذہانت کے نظام نے ’اپنے آپ کو یہ سکھا دیا تھا کہ مرد امیدواروں کو خواتین پر ترجیح حاصل ہے۔‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ عموماً مرد حضرات نے اپنی درخواستوں میں ٹیکنالوجی انڈسٹری میں کام کا تجربہ تھوڑا زیادہ لکھا ہوتا ہے۔

تاہم اس معاملے پر ایمازون نے اس وقت کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

انگلینڈ میں برطانوی بزنس سائیکالوجی کنسلٹینسی ’پیرن کنڈولا‘ کے جیمز میچن ریکروٹنگ کی صنعت میں ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام کو اب بھی متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔

’امیدواروں کے انتخاب میں پہلا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ ہر اس بات کا درست تجزیہ کیا جائے جو امیدوار کہہ اور لکھ رہا ہے۔ اس بنیادی سطح پر ہی گوگل، ایمازون اور ایپل کے دستیاب وائس اسٹینٹس (معاونِ آواز) ابھی بھی کہنے اور سننے کا بالکل درست اندازہ نہیں لگا سکتے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی سکاٹش لہجے میں بات کر رہا ہے تو یہ ایک طرح کا چیلنج ہے۔‘

’اگر مصنوعی ذہانت کا کوئی نظام ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو دوسرا اور بڑا چیلنج بولے جانے والے الفاظ کے اصل معنی اور سیاق و سباق کا پتا لگانا ہے (یعنی امیدوار کی جانب سے کون کا لفظ کس سینس میں بولا گیا) اور یہ وہ چیز ہے جس کو سمجھنے کی صلاحیت شاید فی الحال مصنوعی ذہانت کے نظام میں نہیں۔ اس کے برعکس گفتگو کو سننے والا انسان فوری طور پر سمجھ جائے گا کہ امیدوار اگر کوئی مخصوص لفظ استعمال کر رہا ہے تو اس سے اصل میں اس کی کیا مراد ہے۔‘

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت کی سینیئر محقق سینڈرا واٹر کا کہنا ہے کہ ’مجھے بہت تشویش ہو گی اگر یہ کہا جائے کہ بھرتیوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا بس فائدہ ہی فائدہ ہے۔

’تمام مشین لرننگز ایک ہی بنیادی انداز میں کام کرتی ہے: یعنی یہ اعداد و شمار کی ایک بڑی تعداد کا تجزیہ کر کے نتائج وضح کرتی ہیں۔‘

’ملازمت کے لیے سب سے اہم بات تو ڈیٹا ہوتا ہے جس کی بنیاد پر آپ کامیاب امیدواروں کا چناؤ کر سکتے ہیں۔ یہ ڈیٹا ہی بتا سکتا ہے کہ ماضی میں کون چیف ایگزیکٹو رہا اور کون آکسفورڈ یونیورسٹی کا پروفیسر تھا۔ ملازمت کے چناؤ کے لیے بنائے جانے والے الگورتھمز تو زیادہ مرد حضرات کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔‘

مصنوعی ذہانت

Getty Images

اگر آپ یہاں کوئی مناسب طریقہ کار وضع نہیں کریں تو ممکن ہے کہ خواتین اور غیر سفید فام امیدوار نظر انداز ہو جائیں گے۔‘

پروفیسر سینڈرا نے گذشتہ برس اس معاملے پر اپنے ایک تحقیقی مقالے میں لکھا کہ کمپنیوں اور اداروں کو تعصب سے بچنے کے لیے نہ صرف ملازمتوں میں بلکہ اپنے تمام آپریشنز میں مصنوعی ذہانت کے نظام میں پائے جانے والے تعصب سے گریز کرنا ہو گا۔

ان کی تجاویز پر ایمازون نے عمل بھی کیا۔

تاہم ملازمتوں کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے دوسرے طریقوں پر بھی عمل کیا جا رہا ہے۔

سیٹل میں ٹیکسٹو اس کی ایک مثال ہے۔ اس کا سوفٹ ویئر کمپنیوں کی مصنوعی ذہانت کے ذریعے ملازمتوں کے لیے عام فہم اور غیر امتیازی بنیادوں پر اشتہارات دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

یہ سوفٹ ویئر ورلڈ بینک سے لے کر ڈراپ باکس، سپوٹیفائی سے ٹیسکو تک سب ہی استعمال کر رہے ہیں۔

لاس اینجلس میں کارن فیری کمپنی ہے جس کا مصنوعی ذہانت سے متلعق سوفٹ ویئر اسے ملازمتوں کے لیے انٹرنیٹ سے ممکنہ امیدوار تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔

اس طریقے سے یہ کمپنی موزوں امیدواروں کی طرف سے درخواست آنے کا انتظار کیے بغیر ان تک خود پہنچ جاتی ہے۔

مگر میرے مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہونے والے انٹرویو کا کیا بنے گا؟ مجھے کسی انسان کی طرف سے انٹرویو کے لیے نہیں بلایا گیا۔ کسے معلوم ہے کہ وہ ابھی بھی اس ملازمت کے لیے بھرتی کر رہے ہیں یا نہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17780 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp