افغان صدر اشرف غنی: ’افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ میز کے پیچھے بیٹھ کر کوئی خواب دیکھنے والا نہیں بلکہ عوام کریں گے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اشرف غنی

BBC

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ان کے دور اقتدار کی معیاد کا مکمل ہونا، ملک میں امن قائم کرنے سے کم اہمیت کا حامل ہے تاہم افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ میز کے پیچھے بیٹھ کر کوئی خواب دیکھنے والا نہیں بلکہ عوام کریں گے۔

اشرف غنی نے بی بی سی کی لائس ڈوسیٹ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں طالبان کی کامیابی کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ویتنام نہیں، حکومت نہیں گر رہی۔‘

اشرف غنی نے کہا کہ نیٹو کے اس اعلان کے بعد کہ اس نے افغانستان سے فوج واپس بلانے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ’امن کے عمل کو مزید تیز کرنے کا موقع ملا ہے۔‘

’نیٹو کے اعلان سے اس تنازع کے تمام فریقین کو دوبارہ جائزہ لینے اور اس نتیجے پر پہنچنے کا موقع ملا ہے کہ طاقت کا استعمال اس مسئلے کا حل نہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ہمیں جنگ جیتنی نہیں بلکہ اسے ختم کرنا ہے: اشرف غنی

اشرف غنی کی طالبان کو دفتر کھولنے کی پیشکش

طالبان کا افغان حکومت سے قیدیوں کی رہائی پر غیر مشروط عملدرآمد کا مطالبہ

واضح رہے کہ جنگ سے متاثرہ افغانستان میں نیٹو فوجی اتحاد کے تقریباً دس ہزار فوجی موجود ہیں۔ امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق ان فوجیوں کو تقریباً 20 برس بعد اس سال مئی تک افغانستان سے نکال لیا جائے گا لیکن یہ خدشات موجود ہیں کہ اس سے طالبان کی پرتشدد کارروائیوں میں شدت آ سکتی ہے۔

اشرف غنی

BBC

اشرف غنی، جو امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے اس معاہدے کا حصہ نہیں تھے، نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ اپنے تعلقات اور افغانستان کے مستقبل کے بارے میں عالمی برادری کے نقطہ نظر میں ایک نئی ’ہم آہنگی‘ پر خوش ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں طے پانے والےاس معاہدے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اگرچہ افغانستان میں موجود زیادہ تر غیر ملکی فوجی امریکی نہیں تاہم امریکی حمایت نہ ملنے پر نیٹو آپریشن کو جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں امریکہ کی حالیہ موجودگی سنہ 2001 میں نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سامنے آئی جب فوجیوں نے طالبان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے حملہ کیا۔ لیکن یہ تحریک دوبارہ منظم ہو گئی اور سنہ 2018 تک منتخب حکومت کو دھمکی دیتے ہوئے ملک کے دو تہائی سے زیادہ حصے میں سرگرم عمل ہو گئی۔

افغانستان کے صدر نے مزید کہا کہ ’یہ پیغام بھیجنے کے لیے کہ مخصوص قسم کے طرز عمل ناقابل قبول ہیں، بین الاقوامی سطح پر ’ٹھوس کوشش‘ کی ضرورت ہے۔‘

افغان صدر کو طالبان کو اقتدار میں لانے کے لیے ایک عبوری حکومت لانے کے مطالبے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تاکہ انتشار اور ممکنہ خانہ جنگی سے بچا جا سکے۔

اشرف غنی نے انٹرویو میں کہا ’میں سانحات سے بچنے کے لیے اتفاق رائے کی طاقت کی طرف ہی دیکھ رہا ہوں۔‘ تاہم انھوں نے یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ دونوں فریق جنگ کی تیاری کر رہے ہیں کہا کہ ’خانہ جنگی شروع ہونے کے بارے میں بہت سے خدشات ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ہماری طرف عجلت کا ایک احساس ہے، ہم سخت فیصلے کرنے پر راضی ہیں اور سخت فیصلوں کی ضرورت ہو گی۔ اس ملک میں چالیس سال کا تشدد کافی ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17828 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp