محبت اور دکھ کا شہر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"

شہر اتنا چھوٹا کہ اگر بڑا جہاز ٹیک آف کرے تو پڑوسی ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہونے کا ڈر ہوتا ہے، سردی اس قدر شدید کہ پانی کا گلاس لبوں تک آتے آتے برف بن جائے اور لوگ ایسے بھلے مانس کہ خواہ مخواہ جن پر پیارا ٓجائے۔ ویلکم کو سراجیوو۔
جہاز کے پہیوں نے رن وے کو چھوا تو کھڑکی سے باہر نظر ڈالی، ہوائی اڈے کے ساتھ والی سڑک پر گاڑیاں دوڑتی نظر آئیں، سنا تھا کہ سراجیوو کا ہوائی اڈہ چھوٹا ہے پر اتنا چھوٹا ہوگا یہ اندازہ نہیں تھا۔ پہلی نظر میں ہی احساس ہوگیا کہ ملک بھلے وسطی یورپ میں ہے مگر ’’چوہدریوں‘‘ کی طرح امیر نہیں۔ جرمنی، فرانس یا اٹلی جیسی آن بان تو نہیں مگر ایک مڈل کلاس فیملی جیسا رکھ رکھائو ضرور ہے، بیش قیمت گاڑیاں یا بلند و بالا شاپنگ مالز اُس طرح یہاں دکھائی نہیں دیتے جیسے یورپ حتّیٰٓ کہ ایشیا کے جگ مگ کرتے شہروں میں بھی اب عام ہیں۔ پورے شہر کی البتہ ایک عجیب سی فضا ہے، کبھی یوں لگتا ہے جیسے آپ پندرہویں صدی میں جی رہے ہیں اور کلیسا کی گھنٹیاں آپ کے کانوں میں گونج رہی ہیں، پھر یکدم اداسی کی ایک لہر آتی ہے اور آنکھوں کے سامنے وہ منظر آجاتا ہے جب اس شہر میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا، سراجیوو میں یہ کرب لوگوں کی آنکھوں میں دکھائی دیتا ہے، پھر پردے پر منظر بدلتا ہے اور آپ اولڈ سٹی کی گلیوں میں جا پہنچتے ہیں جہاں زندگی رگوں میں خون کی طرح دوڑتی نظر آتی ہے اپنی بھرپور رومانویت اور شوخی کے ساتھ۔
منفی آٹھ ڈگری کی سردی محسوس کرنے کا میرا یہ پہلا تجربہ تھا، شوق بہت تھا مگر سردی نے سارے کس بل نکال دئیے، ایسی سردی فریب دے جاتی ہے، کمرے میں ہوں تو باہر کی ٹھنڈ کا اندازہ نہیں ہو پاتا اور باہر نکلیں تو پچھتاتے ہیں کہ اوور کوٹ کے نیچے ایک سویٹر مزید کیوں نہ چڑھایا۔ یورپ میں دکانیں شاپنگ مالز عام طور پر شام پانچ چھ بجے بند ہو جاتی ہیں اور ساتھ ہی ٹریفک بھی معدوم ہو جاتا ہے مگر سراجیوو اس معاملے میں پاکستان کا پیٹی بند بھائی ہے، یہاں رات گیارہ بجے تک شاپنگ مالز کھلے رہتے ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک اور رونق رہتی ہے۔ شہر میں پرانی ٹرام بھی ہے جس کی پٹری شہر کی مرکزی شاہراہ کے بیچوں بیچ چلتی ہے، ساتھ میں دریا ہے جسے اصولی طور پر بہنا چاہئے مگر اپنی شرافت اور وضعداری کی وجہ سے یہ دریا ہمارے وہاں قیام کے دوران کچھ شرمایا شرمایا سا رہا۔ مرکزی شاہراہ کے ساتھ ساتھ چلتے جائیں تو دائیں طرف پہاڑ نظر آتے ہیں جس میں ڈبیوں کی طرح مکانات تعمیر ہیں، پہلی نظر میں شہر کا یہ حصہ مری کی یاد دلاتا ہے۔ بائیں طرف کو مڑ جائیں تو آپ پرانے شہر کی گلیوں میں داخل ہو جاتے ہیں، اسے آپ اندرون شہر بھی کہہ سکتے ہیں، یہاں پرانی مساجد بھی ہیں گرجا گھر بھی، چھوٹی چھوٹی دکانیں بھی ہیں، کیفے، ریستوران اور شراب خانے بھی۔ کہیں کہیں بھکاری بھی نظر آجاتے ہیں۔ سراجیوو شہر میں یورپ جیسا کروفر تو نہیں مگر اپنی انفرادیت ضرور ہے، اندرون شہر کی اونچی نیچی بل کھاتی گلیوں میں کیفے بھی ہیں، پرانے گرجا گھر بھی، ریستوران بھی، پر شکوہ مساجد بھی، شراب خانے بھی اور چھوٹی چھوٹی دکانیں بھی۔ دیواریں اور مکانات پر رنگوں کی قوس قزاح جن میں زرد رنگ نمایاں نظر آتا ہے، پورے شہر میں ایک عجیب نفاست، شائستگی اور بردباری سی ہے، رواداری کا یہ عالم کہ مسلمان اکثریتی شہر ہونے کے باوجود جگہ جگہ کرسمس کی روشنیاں جگمگاتی نظر آئیں۔ مساجد اس قدر خوبصورت کہ بے نمازی کا بھی سجدہ ریز ہونے کو دل چاہے، وہی گنبد کے ساتھ مینار کا نمونہ مگر تراش شاہکار اور رنگوں کا انتخاب جاندار۔
سراجیوو کے لوگ دوستانہ ہیں، خاص طور سے پاکستانیوں کے ساتھ ان کی محبت کی گرمی محسوس کی جا سکتی ہے، عادات بھی ہم سے ملتی ہیں، آپ کسی بھی وقت کسی کے ساتھ گپ شپ شروع کر سکتے ہیں اور وہ یوں ساتھ دیتا ہے جیسے دنیا میں اسے کوئی اور کام نہیں، راستہ پوچھو تو کوشش کرتے ہیں کہ گھر تک چھوڑ آئیں، نہ پتہ ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا کہ شہر ہی بالشت بھر کا ہے۔ زبان کا یہاں کوئی مسئلہ نہیں، زیادہ تر لوگ انگریزی سمجھتے ہیں اور کچھ تو ایک سے زائد زبانیں بول سکتے ہیں، سکولوں میں انگریزی اور عربی بطور اختیاری مضمون پڑھائی جاتی ہے، اکثر لوگوں کے نام بھی بالکل ہمارے جیسے ہیں جس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ بالکان کا یہ شہر ایک طرح سے یورپی، عرب اور ترک تہذیب کا امتزاج ہے۔ ایک بات کا شدت سے احساس ہوا کہ غریب اور محدود ذرائع کا ملک ہونے کے باوجود یہاں ڈسپلن کی کمی نہیں، لوگ ٹریفک قوانین کی پاسداری کرتے ہیں، ٹیکسی ڈرائیور میٹر کے مطابق کرایہ وصول کرتے ہیں، صفائی کا معیار سوئٹزر لینڈ یا ناروے جیسا تو نہیں مگر ہم ایشیائی ممالک سے ہزار درجے بہتر ہے، کچھ مدد موسم بھی کرتا ہے کہ سردی میں بدنما نظارہ بھی خوبصورت لگتا ہے، ٹنڈمنڈ سی جھاڑیاں برف کی وجہ سے چاندی کی جھالروں کا روپ دھار لیتی ہیں اور سڑک کے کنارے درختوں کی شاخیں بھی چاندی کا لباس اوڑھ لیتی ہیں۔ پہاڑیوں کے دامن میں بسے ہوئے شہر کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ان پہاڑوں نے اسے اپنی آغوش میں پناہ دے رکھی ہو مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ بیس برس قبل انہی پہاڑوں سے سرب فوجوں نے سفاکانہ بمباری اور سراجیوو کی جنت کو جہنم میں تبدیل کر دیا۔ سراجیوو کے باسی یہ دکھ آج بھی اپنے سینوں میں چھپائے ہیں، اُن کی آنکھوں میں آج بھی اُن دردناک یادوں کے سائے لہراتے ہیں جب ان کی نسل کشی کی گئی۔ یہ ایک ایسی المیہ داستان ہے جسے سُن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کیا کوئی قوم ایسی بربریت سہنے کے بعد بھی اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکتی ہے، یقین نہیں آتا۔ سراجیوو کو دیکھ کریقین آگیا ! (جاری ہے )

(بشکریہ روزنامہ جنگ)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 339 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada