ریوینج پورن: ’بچپن میں لی گئی میری نجی تصاویر آج بھی مجھے پریشان کرتی ہیں‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

BBC

(تنبیہہ: یہ مضمون کچھ صارفین کے لیے پریشانی کا باعث ہو سکتا ہے۔)

’میں بس چاہتی تھی کہ مجھے پسند کیا جائے۔ میں نے یہ اپنے آپ کو زیادہ مشہور کرنے کے لیے کیا، لیکن اس کا الٹا منفی اثر ہوا۔‘

لو آئیلینڈ کی سابق سٹار زارا میکڈرمٹ اپنے بچپن کے ایک خاص مشکل دور کا ذکر کرتی ہیں۔ جب وہ 14 برس کی تھیں تو ان کے سکول کے ایک دوست نے انھیں مجبور کیا کہ وہ اسے اپنی برہنہ تصاویر بھیجیں۔

زارا کے لیے سکول کا تجربہ کوئی خوشگوار تجربہ نہیں تھا۔ انھیں بُلی (یعنی بے جا دباؤ ڈالنا) کیا گیا، انھیں بتایا گیا کہ اگر کوئی لڑکا انھیں پسند کرے گا تو اس سے دوسرے کلاس فیلوز میں ان کی سماجی حیثیت بہتر ہو گی۔ لیکن اس لڑکے نے ان کی تصاویر کو سکول میں دوسرے لڑکوں کے ساتھ شیئر کیا، اور چیزیں بگڑتی گئیں۔

زارا نے زوم کال پر بتایا کہ وہ اسے سمجھ ہی نہ سکیں۔ ’یہ میری زنگی کے ایک نہایت اہم موڑ پر ہوا تھا۔ آپ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ آپ کون ہیں، اور کچھ زیادہ بالغ ہو رہے ہوتے ہیں۔‘

’وہ بہت سیاہ دور تھا، جسے میں نے بھلانے کی کوشش کی ہے۔ تصویروں کے گردش کرنے کے کچھ دن بعد بہت زیادہ تھک گئی تھی۔ میرا خیال ہے کہ مجھے یاد ہے کہ میں مناسب طریقے سے کھا پی نہیں رہی تھی، مجھے یاد ہے میں مناسب نیند نہیں لے رہی تھی، مجھے یاد ہے کہ میرا موڈ متواتر بجھا ہوا تھا جسے آپ بہتر نہیں بنا سکتے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

فیس بک انتقامی پورن کو دوبارہ پوسٹ کرنے سے روکے گا

’جنسی ویڈیوز کی فروخت کے لیے سنیپ چیٹ کا استعمال‘

پورن جو دیکھنے نہیں، سننے سے تعلق رکھتا ہے

جعلی پورن ویڈیوز کے سنگین نتائج

’میں خود کشی کا سوچنے لگی تھی۔ اتنی بری حالت تھی۔ مجھے پتا تھا کہ جب یہ تصاویر باہر آئیں گی تو مجھے زیادہ تنگ کیا جائے گا، یہ ایک ایسی چیز تھی جسے میں برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ میں کہتی ہوں کہ اس کا اثر آج بھی مجھ پر ہوتا ہے۔‘

بی بی سی تھری کی ایک نئی دستاویزی فلم ’زارا میکڈرمٹ: ریوینج پورن‘ میں زارا نے اس بات کا جائزہ کیا ہے کہ ریوینج پورن کا ان افراد پر کیا اثر ہو سکتا ہے جن کی رضا مندی کے بغیر ان کی نجی تصاویر کو بدنیتی کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔ وہ دستاویزی فلم میں ایسے افراد کے لیے دستیاب مدد کی بھی بات کرتی ہیں۔

یہ واقعہ واحد موقع نہیں تھا جب کسی نے، جس پر زارا نے بھروسہ کیا ہو، نجی تصاویر کے حوالے سے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہو۔ 21 سال کی عمر کو پہچنے کے بعد جب 2018 میں انھوں نے لو آئیلینڈ پروگرام میں حصہ لیا تو اس دوران ان کے ساتھ ایک بار پھر ایسا ہوا۔

واٹس ایپ کے متعدد گروپوں میں وہ تصاویر بھیجی گئیں۔ لیکن زارا کو ان کا علم نہیں تھا کیونکہ وہ لو آئیلینڈ کے شو کے دوران اپنے فون کے بغیر تھیں۔

جب انھوں نے شو چھوڑا تو، لو آئیلینڈ کی تشہیر کرنے والے ایک شخص نے ان کے ہوٹل آ کر ان تیزی سے گردش کرنے والی تصاویر کے متعلق انھیں بتایا۔ اس وقت تک ان کی کہانی پریس تک بھی پہنچ چکی تھی۔

زارا آنسو بہاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میں آپ کو یہ احساس بھی نہیں بتا سکتی، یہ احساس کہ آپ کے والدین کو آپ پر شرم آ رہی ہو گی۔ وہ پھر کیسے کبھی مجھے پہلے کی طرح دیکھیں گے۔ یہ بہت شرمناک تھا۔ میں صرف مرنا چاہتی تھی۔‘

زارا الزام لگاتی ہیں کہ جس آدمی کو وہ لو آئیلینڈ میں آنے کے لیے مل رہی تھیں اسی شخص نے ان کی نجی تصاویر شیئر کی تھیں۔ جب ان کی بہترین دوست نے واٹس ایپ پر انھیں ان تصاویر کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے اس کی تردید کی۔

دنیا کے سامنے اپنے نجی لمحات ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ آنے کی آزمائش سے گزرنے کے بعد زارا کا ناراض ہونا سمجھ میں آتا ہے۔

وہ صرف ان لوگوں سے ہی ناراض نہیں ہیں جنھوں نے تصاویر شیئر کیں، بلکہ وہ ان واقعات کے ردعمل پر بھی ہیں۔ آن لائن ٹرولنگ اور متاثرہ شخص کو موردِ الزام ٹھہرانے پر بھی، جہاں بقول ان کے لوگ اس حقیقت پر تو توجہ مرکوز کرتے ہیں کہ انھوں نے خود کسی کو تصاویر بھیجی تھیں بلکہ اس پر نہیں کہ ان کی رضامندی کے بغیر تصاویر شیئر کی گئیں۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ لوگوں کو شاید یہ جان کر دھچکہ لگے، کیونکہ یہ ایک ممنوعہ بات سمجھی جاتی ہے، کہ اپنے پارٹنر کے ساتھ تصاویر شیئر کرنا ایک عام چیز ہے۔

’مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب لوگ کہتے ہیں کہ ‘اس نے ایسا کیوں کیا؟’ اور پھر کچھ سننے سے انکار کر دیتے ہیں۔‘

’میں نے آن لائن ایک مضمون کے نیچے کچھ تبصرے پڑھے تھے جو کچھ اس طرح تھے، ’میں اس بارے میں پریشان ہوں کہ وہ کیوں (ریوینج پورن کے بارے میں بیداری کے لیے مہم چلا رہی ہیں)، کیونکہ انھوں نے خود ہی انسٹاگرام پر بیکنی میں تصویر بنائی ہیں۔‘

’ان کو بات بالکل سمجھ ہی نہیں آئی۔ میرے ساتھ مکمل طور پر زیادتی ہوئی اور میرا اعتماد ٹوٹ گیا تھا، کسی نے قانون توڑا تھا۔ انسٹاگرام پر بیکنی تصاویر لگانا قانون کے خلاف نہیں ہے۔‘

’انسٹاگرام پر میری برہنہ تصاویر‘

زارا تنہا نہیں ہے۔ جنسی استحصال کے خلاف کام کرنے والی خیراتی تنظیم، صف لائن کے مطابق بدلہ لینے کے لیے فحش تصاویر شیئر کرنے کی خبریں عام طور پر نوعمر اور درمیانی عمر کے نوجوانوں کی طرف سے آتی ہیں۔

جنسی زیادتی کے خلاف کام کرنے والے خیراتی ادارے سیف لائن کے مطابق زارا اس میں اکیلی نہیں ہیں۔ ریوینج پورن کی سب سے زیادہ رپورٹس ٹین ایجرز اور ان کی طرف سے آتی ہیں جو بیس کی دہائی کے وسط میں ہیں۔

کلوئی کو، جو کہ اس وقت ایک ٹین ایجر تھیں، بس پر کام سے گھر جاتے ہوئے سنیپ چیٹ پر ایک ایسے اکاؤنٹ سے پیغام آیا جس کا انھیں علم نہیں تھا۔

جب انھوں نے اسے کھولا تو ان کے اوسان خطا ہو گئے۔ ان کے سامنے ان ہی کی ایک برہنہ تصویر تھی، اور پیغام میں دھمکی دی گئی تھی کہ اگر انھوں نے شام آٹھ بجے تک اپنی مزید ایسی تصاویر نہ شیئر کیں تو ان کی تصاویر کو ہر جگہ پوسٹ کر دیا جائے گا۔

اس اکاؤنٹ سے لگاتار انھیں ایسی تصاویر بھیجی جاتی رہیں جو انھوں نے صرف اپنے سابق دوست کے ساتھ شیئر کی تھیں۔

کچھ گھنٹوں بعد ایک دوست نے انھیں فون کیا اور کہا ’کلوئی، یہ تم نے کیا اپنی انسٹاگرام سٹوری میں لگایا ہے؟‘ کلوئی کا کہنا ہے کہ ان کی سابقہ گرل فرینڈ نے، جو کبھی ان کے ساتھ کافی جذباتی بدسلوکی کیا کرتی تھی، ان کے اکاؤنٹ کے پاس ورڈ کا اندازہ لگایا اور اپنی سٹوری پر ان کی برہنہ تصاویر لگا دیں۔

’میری پہلی سوچ تھی کہ اگر میرے خاندان نے انھیں دیکھا تو کیا ہو گا؟ اگر میرے دوست یہ دیکھیں گے تو کیا ہو گا؟ یہ (تصاویر) پھیل جائیں گی، میں بدنام ہو جاؤں گی اور پھر شاید کام کی جگہ بھی لوگ انھیں دیکھ لیں اور مجھے شاید کام سے نکال دیا جائے۔‘

’میرے ذہن میں دس لاکھ خیالات آ رہے تھے، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔‘

کلوئی نے روتے ہوئے اپنی پہلی پریشانی کی کیفیت کو یاد کیا جس میں وہ اس بات سے خوفزدہ تھیں کہ وہ اپنے والدین کو اس کی کیا وضاحت دیں گی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے وہ رات یاد ہے کہ جب یہ ہوا تھا اور میں گھر واپس آئی تھی اور میں تنہا تھی۔ میں وہاں بیٹھی اور سوچنے لگی کہ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ میں واقعتاً اس سے نکلنے کے لیے جدو جہد کر رہی تھی جو کچھ ہو رہا تھا۔ میں اب کیسے کسی پر دوبارہ اعتماد کر سکوں گی؟‘

’وہ میرے لیے واقعی، واقعی ایک سیاہ دور تھا، میں نے اپنے آپ کو تکلیف پہنچانے کے بارے میں بھی سوچا کیوں کہ میں خود کو حقیر محسوس کر رہی تھی۔‘

ہفتوں تک، کلوئی کسی کو اپنا چہرہ دکھانے سے ڈرتی رہیں، آخر کار ایک دوست نے انھیں اپنے ساتھ باہر جانے پر راضی کیا۔ اس رات لڑکوں کا ایک گروہ ان کے پاس آیا۔ یہ لڑکے ان سے کچھ سال بڑے تھے۔ انھوں نے کلوئی کی چھاتی کے بارے تبصرے کیے اور بتایا کہ ان کے پاس یہ تصاویر ایک واٹس ایپ گروپ کے ذریعے آئی ہیں۔

کلوئی چاہتی ہیں کہ لوگ یہ سمجھیں کہ نجی تصویر شیئر کرنے کی زیادتی سے متاثرہ شخص کی ذہنی صحت پر کس حد تک اثر پڑ سکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے اپنی زندگی میں واقعی اپنے آپ کو کبھی اتنا حقیر اور بے عزت محسوس نہیں کیا تھا، کہ ان لڑکوں نے وہ تصویر دیکھیں اور سوچا کہ اسے گروپ چیٹ میں بھیجنا ٹھیک ہے۔‘

قانون کیا کہتا ہے؟

کسی بھی دوسرے شخص کی ذاتی جنسی تصاویر یا ویڈیوز اس کی رضامندی کے بغیر شیئر کرنا ایک جرم ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب یہ ثابت کیا جا سکتا ہو کہ ملزم نے ایسا دوسرے کے لیے شرمندگی یا پریشانی پیدا کرنے کے لیے کیا۔ یہ قانون 2015 میں نافذ کیا گیا تھا اور اس میں دو سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

کیٹ آئزکس ’ناٹ یور پورن‘ نامی مہم چلاتی ہیں، جو کمرشل پورن کے لیے بہتر ضوابط کا مطالبہ کرتی تاکہ ان تصاویر اور ویڈیوز کو روکا جا سکے جو بغیر کسی کی رضامندی کے اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اس قانون کو عملی جامہ پہنانا واقعی بہت مشکل ہے۔ آپ کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ تصاویر کو بری نیت سے شیئر کیا گیا ہے جسے عدالت میں ثابت کرنا بہت مشکل ہے، اور اس کا دفاع یہ کہہ کر آسانی سے کیا جا سکتا ہے کہ آپ بس اپنے دوستوں کو دکھانا چاہتے ہیں اور یہ محض ایک غلطی تھی۔‘

’سکول میں تصاویر تقسیم کرنے کے حوالے سے، جیسا کہ زارا کے ساتھ ہوا، بچوں کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اگر وہ تصاویر پر مبنی جنسی زیادتی کا شکار بنتے ہیں تو ان پر یہ الزام نہیں لگایا جائے گا کہ انھوں نے شروع میں ہی تصاویر کیوں لی۔ انھیں بغیر کسی مشکل میں پڑے ان کے متعلق آسانی سے سکول یا پولیس کو بتانے کی ضرورت ہے۔‘

ریوینج پورن متاثرہ شخص کی زندگی کے ہر حصے کو تباہ کرسکتا ہے، اور اگرچہ اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں ہوتی پھر بھی انھیں شرمندگی اور زیادتی کا احساس رہتا ہے۔

متاثرہ افراد نے نجی تصاویر کے ناجائز استعمال کے تجربے کے متعلق بتاتے ہیں کہ وہ ایسا کہ جیسے ان کی پوری دنیا اس پریشانی سے سکڑ رہی ہے کہ ہر راہگیر نے ان کی تصاویر دیکھی ہیں اور بہت سے کیسز میں اس سے ان کی ذہنی صحت کو دیرپا نقصان پہنچتا ہے۔

بی بی سی تھری کے ساتھ شیئر کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2020 میں ریوینج پورن ہیلپ لائن پر نجی تصاویر کی زیادتی کا شکار ہونے کے بعد مدد مانگنے والے بالغ افراد کی تعداد میں 87 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اب تک 3136 کیسز درج کیے جا چکے ہیں، جو کہ ہیلپ لائن کے لیے آج تک سب سے بڑی تعداد ہے۔

ان میں سے آدھے سے زیادہ افراد کو ذہنی صحت کی سروسز حاصل کرنے کے لیے کہا گیا ہے، اور ان میں سے 45 افراد ایسے تھے جو تصاویر کی وجہ سے خود کشی کا بھی سوچ رہے تھے۔

ہیلپ لائن کے منیجر سوفی مورٹیمر نے بی بی سی تھری کو بتایا کہ نجی تصاویر کو شیئر کرنے کی زیادتی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہر ہفتے ان لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو مدد کے لیے ہم سے رابطہ کرتے ہیں۔ ہم وبائی مرض سے پہلے ہی کیسوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔‘

’ہمیں کچھ اضافی فنڈنگ ملی تھی جس کی وجہ ہم نے اپنی کچھ صلاحیت بڑھائی، لیکن ہمیں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کو مارچ سے آگے بڑھایا جائے گا یا نہیں۔‘ ہیلپ لائن، جس کا عملہ صرف تین کل وقتی ممبران پر مشتمل ہے، وزارتِ داخلہ سے اضافی طویل مدتی فنڈنگ کے لیے اپیل کر رہی ہے تاکہ وہ متاثرین کی امداد جاری رکھ سکے۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان کہتے ہیں کہ ’یہ ایک گھناؤنا جرم ہے اور ہم متاثرہ افراد کے لیے بے حد ہمدردی رکھتے ہیں۔ ہم نے 2015 میں اس ظالمانہ رویے کو غیرقانونی قرار دیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک 900 سے زائد افراد کو مجرم قرار دیا جا چکا ہے ۔ ان میں سے 190 سیدھے جیل بھیج دیے گئے۔‘

’متاثرین کو مدد فراہم کرنا ہماری ترجیح ہے اور اسی وجہ سے ہم مخصوص خدمات کی مد میں اضافی چار کروڑ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور ریوینج پورن ہاٹ لائن کو خاطر خواہ مالی اعانت فراہم کرتے رہیں گے۔‘

’میں نے اپنے آپ کو مجرم سمجھا‘

کلوئی نے پولیس کو اپنی سابقہ گرل فرینڈ کے متعلق پولیس کو اطلاع دی، لیکن ان کا کہنا ہے کہ پولیس افسران نے انھیں متنبہ کیا کہ اگر وہ اس پر الزامات لگاتی ہیں تو وہ بھی اپنی عمر کی وجہ سے مشکل میں پڑسکتی ہیں۔ 18 سال سے کم عمر کی واضح جنسی تصاویر لینا اور بھیجنا، وہ چاہے خود ہی کی ہوں، بچوں سے جنسی استحصال کے زمرے میں آتا ہے جو کہ ایک جرم ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ پھر ’میں نے سوچا، تو پھر ٹھیک ہے، یقیناً یہ میری ہی غلطی ہے، کیونکہ میں نے اسے بھیجا اور یہ ایک جرم ہے۔‘

کلوئی کا کہنا ہے کہ ان کی ذہنی صحت پر اس کے دائمی اثرات صرف اب کم ہونا شروع ہوئے ہیں۔

کلوئی کی طرح زارا کو بھی جب وہ 14 سال کی تھیں ایسا لگا تھا کہ وہ قصور وار ہیں۔ اور اس شخص کی بجائے جس نے تصاویر پھیلائی تھیں انھیں تصاویر کھینچنے کے الزام میں سکول سے معطل کیا گیا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے ذہن میں یہ آخری چیز ہو گی کہ میں اپنے لیے مدد حاصل کروں، کیونکہ میں اس کیس میں مجرم تھی، جب میں 14 سال کی تھی۔ لوگوں کو اس چیز کا جوابدہ ٹھہرایا جا رہا ہے جو ان کے ساتھ ہوئی ہے، اور وہ اس کے بعد ہونے والے اثرات کے لیے مدد حاصل نہیں کریں گے کیونکہ وہ تو خود کو ہی مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔‘

کراؤن پراسیکیوشن سروس کے ترجمان نے مزید کہا ’اگرچہ یہ عام طور پر عوامی مفاد میں نہیں ہو گا کہ ایک ہی عمر کے دو بچوں کے مابین کسی تصویر میں اتفاق رائے سے شیئرنگ کا مقدمہ چلایا جائے لیکن دوسری وجوہات کی بنا پر پروسیکیوشن ہو سکتی ہے۔‘

زارا کہتی ہیں کہ ریوینج پورن کے ان کی دماغی صحت پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے انھیں کوئی تھراپی نہیں ملی، لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ شاید اس کے بارے میں کسی سے بات کرنا ان کے لیے مفید ثابت ہو۔

ناٹ یور پورن مہم کی کیٹ کہتی ہیں کہ ’ریوینج پورن کو جنسی زیادتی کی ایک قسم کے طور پر سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا ہے۔ اس کو روکنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان لوگوں پر سے اس کا قصور ختم کریں جنھوں نے تصویر بنائی ہے اور مجرم (جس نے اس تصویر کو شیئر کیا) کو بتائیں کہ یہ ایک غیر قانونی فعل ہے اور یہ ذہنی اور جذباتی طور پر بہت نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘

دس سال کے بعد زارا کو امید ہے کہ ان کی دستاویزی فلم ریوینج پورن اور اس کے نتائج کے بارے میں زیادہ آگاہی لائے گی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں چاہتی ہوں کہ لوگ اس دستاویزی فلم سے اپنے آپ کو بااختیار محسوس کریں اور جان لیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں، بہت سے دوسرے لوگ بھی اس سے گزر چکے ہیں۔‘

’میں چاہتی ہوں کہ متاثرین کی بہتر سپورٹ ملے۔ میں چاہتی ہوں کہ لوگ اس موضوع کے بارے میں کھل کر بات کرنا شروع کریں اور احتساب کے بارے میں متاثرہ شخص پر بہت کم زور دیا جائے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18624 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp