مقعد سواب ٹیسٹ: امریکیوں کا اس طرح کے ’کووڈ ٹیسٹ‘ نہیں لیا، چین کی تردید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ اس نے چین میں موجود امریکی سفارت کاروں کو کہا تھا کہ وہ کووڈ 19 کے لیے مقعد سے نمونے لے کر ٹیسٹ دیں۔

چین کے قومی اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق بیجنگ میں 25 فروری کو ایک پریس کانفرنس کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے 17 فروری کو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والی اس رپورٹ کو مسترد کیا ہے جس کے مطابق امریکی حکام نے شکایت کی تھی کہ چینی حکام نے کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے ان کے مقعد کے سواب لیے تھے۔

جب زاؤ سے اس رپورٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’تصدیق کے بعد، چین نے کبھی بھی چین میں موجود امریکی سفارت کاروں سے مقعد سواب ٹیسٹ لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔‘

تاہم، امریکی نیوز ویب سائٹ وائس نے 25 فروری کی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے چینی حکومت سے شکایت کی تھی کہ عملے کو مقعد سواب ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس: سواب ٹیسٹ کے بارے میں بے بنیاد دعوؤں کی حقیقت

کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

سمارٹ لاک ڈاؤن: حکومت کیسے پتا چلاتی ہے کس علاقے کو بند کرنا ہے؟

امریکی وزارتِ خارجہ نے اس خبر کے متعلق تو کوئی بات نہیں کی لیکن اس کے ایک نمائندے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ ’پرعزم ہیں کہ امریکی سفارتکاروں اور ان کے خاندان کی حفاظت یقینی ہو جبکہ ان کی عزت نفس بھی محفوظ رہے۔‘

برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ میں چھپنے والے اطلاعات کے مطابق چین نے نئے سال کے آغاز سے ہی کووڈ 19 کی انفیکشن کا پتہ لگانے کے لیے مقعد کے سواب ٹیسٹ کا استعمال شروع کیا تھا اور کچھ چینی ماہرینِ صحت کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیسٹ زیادہ درست ہیں اور ان سے ممکنہ طور پر انفیکشن کا پتہ چلانے کے امکانات زیادہ ہیں۔

اخبار کے مطابق نئے چینی سال کی تقریبات کے دوران علاقائی پھیلاؤ کے خدشات کے پیشِ نظر یہ پریکٹس زیادہ زور پکڑ گئی، کیونکہ خدشہ تھا کہ کہیں چھٹیوں اور لوگوں کے سفر کرنے کی وجہ سے کووڈ زیادہ نہ پھیل جائے۔

چینی محققین کی جانب سے اگست میں جریدے فیوچر مائکروبیالوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بیجنگ نے گذشتہ سال کے اوائل میں مقعد سواب ٹیسٹ کے طریقے کی کوشش کی تھی۔

محققین کا کہنا تھا کہ بحال ہونے والے کچھ مریضوں کے جب مقعد سواب ٹیسٹ لیے گئے تو ان میں وائرس مثبت آیا جبکہ ان کے گلے اور ناک سے سواب کا منفی ٹیسٹ آیا تھا۔

یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ بیجنگ میں دس لاکھ سے زیادہ افراد کے مقعد سواب ٹیسٹ پہلے ہی ہو چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بیجنگ میں سانس کی بیماریوں کے ایک ڈاکٹر لی ٹونگ زینگ نے گذشتہ ماہ سرکاری ٹیلی ویژن پر بتایا تھا کہ مقعد سواب ٹیسٹ کے استعمال سے انفیکشن کا پتہ بہتر طریقے سے لگایا جا سکتا ہے کیونکہ سانس کے راستے کی نسبت وائرس مقعد کے سواب اور جسم میں خارج ہونے والے فضلے میں زیادہ عرصے تک رہ سکتا ہے۔

چائنیز یونیورسٹی ہانگ کانگ کے محققین نے گذشتہ سال شائع ہونے والے ایک مقالے میں کہا تھا کہ بچوں اور نوزائیدہ بچوں میں انفیکشن تلاش کرنے میں بھی سٹول ٹیسٹ زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کے فضلے میں بالغوں سے زیادہ وائرس ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18484 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp