کورونا ویکسین لگواتے ہی دجال کا حملہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ویکسین سنٹر پہنچا تو قطار بہت لمبی تھی۔ میرے آگے ایک ادھیڑ عمر دیسی خاتون کھڑی تھیں۔ بتانے لگیں کہ انہیں محکمہ صحت نے دو لیٹر بھیجے لیکن انہوں نے پھاڑ کر پھینک دیے تھے۔ ڈاکٹر کے اصرار پر آ تو گئی ہوں لیکن میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ کہنے لگی میں نے ایک لال ٹوپی والے مولوی صاحب کی ویڈیو دیکھی ہے جن کا کہنا ہے کہ جو عورت یہ ویکسین لگوائے گی وہ بچہ نہیں پیدا کر سکے گی۔ میں نے مائی جی کی ڈھلتی عمر کو دیکھا اور پھر ان کی پریشانی پر پشیمان ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔

ان کا دل رکھنے کے لئے بس اتنا ہی کہہ سکا کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ وہ لال ٹوپی والے صاحب وائرالوجسٹ نہیں بلکہ دفاعی تجزیہ نگار ہیں۔ بولیں کہ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ اس ویکسین سے لوگ مر جاتے ہیں۔ میں نے کہا لیکن اس وقت تک برطانیہ میں تقریباً دو کروڑ لوگ ویکسین لگوا چکے ہیں، کوئی مرتا نظر تو نہیں آیا۔ کہنے لگیں یہ صرف مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے تیار کی گئی ہے۔ میں نے کہا لیکن اس قطار میں تو مسلمان صرف دو یا چار ہی ہیں، باقی سب تو گورے ہی ہیں۔

کہنے لگی، ہمیں ویکسین کی ضرورت ہی کیا ہے کہ یہ وائرس مسلمانوں کو ہو ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ ہر وقت باوضو رہتے ہیں۔ میں نے پوچھا پھر مولانا طارق جمیل صاحب کو کیسے ہو گیا۔ بولی میری بیٹی نے واٹس ایپ پر میسج بھیجا ہے کہ اس ویکسین میں حرام اجزا شامل ہیں۔ میں نے کہا محترمہ اس ویکسین کا موجد تو جرمنی میں موجود ایک ترکی مہاجر ہے۔ مسلمانوں کی تمام بڑے ریسرچ سنٹر اسے جائز قرار دے چکے ہیں۔ دبئی، مصر، سعودی عرب وغیرہ اس ویکسین کو استعمال کر رہے ہیں۔ غامدی صاحب لگوا چکے ہیں اور ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سکائی نیوز کے انٹرویو میں مسلمانوں سے اپیل کر چکے ہیں کہ ویکسین لگوائیں۔ کہنے لگی وہ تو کینیڈا میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ تو ایسا ہی کہیں گے نا۔ میں نے کہا تو پھر اپنی بیٹی سے کہیں کہ واٹس ایپ دیکھنے کی بجائے قرآن مجید پڑھ لیا کرے۔ خود رب رحیم نے جان بچانے کے لئے حرام تک کھانا جائز قرار دیا ہے۔

قطار ہال کے اندر داخل ہوئی۔ بیسیوں رضا کار لڑکیاں اور لڑکے سب کی راہنمائی کے لئے موجود تھے۔ جگہ جگہ سینی ٹائزر نصب تھے۔ فرش پر سبز لائن سمت کے لئے اور بلیو لائنیں ایک میٹر کے فاصلہ برقرار رکھنے کے لئے لگائیں گئیں تھی۔ رضا کار آئی پیڈ پر آنے والوں کی اپوائنٹ منٹ چیک کر رہے تھے۔ مائی جی کی پریشانی تو میں نے اپنی جانب سے کم کرنے کی کوشش کر دی تھی لیکن ان کی باتوں سے اب میں خود پریشان ہو گیا تھا کیونکہ واٹس ایپ تو میرے فون میں بھی ہے اور اعلی درجے کے تحقیقی میسج مجھے بھی آتے رہتے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی ایک مرد رازدان نے اپنے ٹی وی شو میں بتایا تھا کہ اصل مہنگی ویکسین تو فائزر کی ہے جو صر ف امیر لوگوں کو لگے گی۔ مجھے ڈاکٹر نے جب بتایا کہ وہ مجھے فائزر لگانے والا ہے تو حوصلہ ہوا کہ میں بھی امیر ہوں حالانکہ مجھے یہ ویکسین مفت میں لگنے والی تھی۔ ویکسین لگانے کے بعد اس نے کہا آپ ابھی جا نہیں سکتے آپ کو ہال میں پندرہ منٹ رکنا پڑے گا اس نے ایک اسٹکر پر وقت لکھا اور میری جیکٹ پر لگا دیا۔

کیبن سے باہر نکلا تو پیلی جیکٹ پہنے رضا کار مجھے انتظار گاہ کی جانب راہنمائی کے لئے موجود تھے۔ کرسی پر بیٹھا تو پندرہ منٹ میرے لئے مشکل ہو گئے تمام سازشی تھیوریاں فلیش بیک کی طرح میرے ذہن پر چلنا شروع ہو گئیں۔ معروف اینکر کی دجال کی آمد والی ریسرچ، قیامت ٹی وی والی بل گیٹس کی نانو چپ تھیوری اور کورونا پاسپورٹ کے ذریعے میری مکمل معلومات کی رسائی۔ میں سوچنا شروع ہو گیا کہ اگر چپ ڈال دی گئی ہے تو کیا اب سی آئی اے، ایم آئی سکس اور ایف بی آئی میری حرکتیں نوٹ کرنا شروع ہو جائیں گے۔

بل گیٹس کو میری معلومات سے کیا لینا دینا ہے۔ سوچا میرے فون میں وہ سارے نمبر جو میں نے رفیق ٹائر والا اور جمیل پلمبر کے نام سے سیو کیے ہیں ان کی حقیقت جان کر بل گیٹس کو کیا فائدہ ہوگا۔ البتہ میری بیوی کو اگر پتہ چل گیا کہ وہ رفیق نہیں، کسی رفیقہ کا نمبر ہے تو گھریلو مسئلہ ہو سکتا ہے۔ میرے بنک کی تفصیل کا کیا ہو گا؟ پھر یہ سوچ کر دل کو ڈھارس دی کہ اگر سی آئی اے اہلکار کوئی یہودی ہوا تو وہ میرا درد سمجھے گا۔ میں بھی اس کی طرح ایک دیوار گریہ کے سامنے روتا ہوں۔ اور وہ دیوار اے ٹی ایم مشین کی دیوار ہے۔

روزنامہ مشکوک تیقن کی وہ رپورٹ ذہن میں گھومنے لگی کہ اس ویکسین سے ڈی این اے تبدیل ہو جائے گا اور جسم سے مسلمانیت کھینچ لی جائے گی۔ انہیں سوچوں میں گم میں نے اپنی بائیں دیوار کی طرف دیکھا تو دیوار پر قد آدم تصاویر پر نظر پڑی۔ یہ انڈین بھگوانوں کی تصویریں تھیں۔ انگریزوں کے ملک میں بھگوان کیسے؟ کیا ویکسین نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے۔ اسی مخمصے میں تھا کہ میری نظر ان دیواروں کے درمیان میں لگے جے ایس ایم کے الفاظ پر پڑھی تو تب یاد آیا کہ یہ سنٹر جین سماج کمیونٹی سنٹر میں بنایا گیا ہے۔

مانچسٹر میں اس مرکز کو بنے ابھی بمشکل دو تین سال ہوئے ہوں گے۔ بہت سے لوگوں کو تو شاید جین مذہب کا ہی پتہ نہ ہو کیونکہ دنیا میں اس کے پیروکاروں کی تعداد صرف بیالیس لاکھ ہے۔ مانچسٹر میں ان کی کل تعداد ایک سو پچھتر خاندانوں پر مشتمل ہے۔ لیکن اس کمیونٹی نے کیا کمال کا سنٹر بنایا ہے۔ کھلی پارکنگ، کشادہ ہالز اور اب انہوں نے اپنا مرکز تمام انسانوں کے لئے بطور کورونا ویکسین سنٹر حکومت کو رضا کارانہ مہیا کر دیا ہے۔

میں سوچنا شروع ہو گیا کہ برطانیہ میں مسلمانوں کی تقریباً پندرہ سو مساجد ہیں۔ لیکن کورونا ویکسین کے لئے مہیا کیے جانے والے مراکز کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ پھر سوچا ہمارے سنٹر اس مقصد کے لئے استعمال نہیں ہو سکتے کیونکہ ان میں سے اکثر تو ہمیشہ زیر تعمیر ہی رہتے ہیں۔ جب بھی نماز پڑھنے جائیں تو مولوی صاحب کہتے ہیں مسجد کی توسیع کا کام جاری ہے، چندہ دے کر جائیں۔

یہ خیال ذہن میں آئے تو مجھے پھر دجال کا خیال ہے کہ یہ ویکسین کا اثر ہے جو اتنے تنقیدی خیالات لا رہا ہے۔ اتنے میں ایک رضا کار نے آ کر پوچھا آپ ٹھیک ہیں؟ میرے سر ہلانے پر وہ بولی تو پھر آپ جا سکتے ہیں۔ پندرہ منٹ ہو گئے ہیں۔ میں کرسی سے اٹھ تو آیا لیکن میرا دل ابھی بھی پریشان تھا۔ گیٹ سے نکلا تو دیکھا کہ روزنامہ طبل جنگ برطانیہ کے ایڈیٹر اور ہفت روزہ نوائے راز کے مشہور کالم نگار ویکسین کی قطار میں کھڑے تھے۔ وہ بڑے تحقیقی کالم لکھتے ہیں۔

کالم پڑھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ جب سامراجی قوتیں سازش کر رہی تھیں تووہ بھی ان کی میٹنگ میں موجود تھے۔ جس دن سے کورونا کا بحران شروع ہوا ہے وہ ہر ماہ ایک نئی سازشی تھیوری لکھتے رہے ہیں کہ کوورنا شرونا کچھ نہیں ہے ان کی ایک تھیوری غلط ثابت ہوتی ہے تو ہمت نہیں ہارتے بلکہ اگلے کالم میں دوسری تھیوری لے آتے ہیں۔ آج انہیں قطار میں دیکھ کر تسلی ہوئی کہ اتنا بڑا محقق اور مفکر آج ویکسین لگوانے آ گیا ہے تو پھر مجھے گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے ابھی دجال نے اپنا پروگرام بدل دیا ہو اور ویکسین واقعی لوگوں کی زندگی بچانے میں کامیاب ہو جائے۔ اعداد و شمار تو یہی بتاتے ہیں کہ برطانیہ میں ویکسی نیشن کے نتیجے میں ہسپتالوں پر نوے فیصد بوجھ کم ہو گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *