گینگ ریپ کا ملزم 22 برس بعد پولیس کی گرفت میں کیسے آیا

گیتا پانڈے - بی بی سی نیوز، دلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کی ریاست اوڑیسہ میں سنہ 1999 میں ہونے والے ایک گینگ ریپ کے واقعے میں پولیس کو مطلوب ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ ملزم 22 سال بعد حکام کی گرفت میں آیا ہے۔

جب گذشتہ ہفتے پولیس مغربی ریاست مہاراشٹرا کے ضلع پونے میں ملزم ببکناندا بسوال کے گھر پہنچی تو ملزم نے ایک بار پھر بھاگنے کی کوشش کی لیکن اس مرتبہ قسمت نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔

اوڑیسہ میں پولیس اہلکار سدھانسو سارنگی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس نے ٹیم کو آتے دیکھا اور چھپنے کی کوشش کی۔ جب اسے پکڑا گیا تو اس نے بتایا کہ ’لے جاؤ! مجھے یہاں سے لے جاؤ، میں آپ کو سب بتا دوں گا‘۔

9 جنوری 1999 کی شب ایک 29 سالہ خاتون کا گینگ ریپ کیا گیا تھا۔ ببکناندا بسوال پر الزام ہے کہ اس گینگ ریپ میں وہ ان تین آدمیوں میں سے ایک تھے۔ تاہم وہ ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جب دو ماہ کی حاملہ شبنم نے اپنے والدین سمیت پورے خاندان کو قتل کر دیا

گردن توڑ کر قتل کرنے والا لاہور کا مالشیا ’سیریل کِلر‘ کیسے بنا؟

خاتون کا ریپ اور قتل: مندر کے پجاری کو گرفتار کر لیا گیا

’ریپ کی کوشش میں ایک فوجی سے بچنے کے دوران میں نے اپنا ہاتھ گنوا دیا‘

دیگر دو افراد پرادیپ کمار ساھو اور دھرندرا موہانٹی کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور سزا کے بعد ان کو جیل ہوگئی تھی۔ گذشتہ برس ساھو کی جیل میں موت ہوگئی تھی۔

خاتون پر حملہ اور واقعے پر ہنگامہ آرائی

یہ خاتون ریاستی دارالحکومت بھونیشور سے اس کے جڑواں شہر کٹک جا رہی تھیں اور ان کے ہمراہ ایک صحافی دوست اور ڈرائیور تھے۔ ان کی کار کو سکوٹر پر سوار تین آدمیوں نے روکا تھا۔

حملہ آوروں نے انھیں بندوق دکھا کر کار چلانے کو کہا اور ایک ویران جگہ لے گئے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق چار گھنٹوں تک اس خاتون کو کئی بار ریپ کیا گیا۔ انھیں اور ان کے دوست کو دھمکیاں دی گئیں اور ان پر تشدد کیا گیا۔ ان کے پیسے اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا گیا۔

یہ جرم پھر کئی دن تک اخباروں کی ہیڈلائن بنا رہا۔ اس کی وجہ نہ صرف متاثرہ خاتون پر ہونے والا حملہ تھی بلکہ ان کی جانب سے بااثر افراد پر سنگین الزامات تھے، جیسے اس وقت کے اوڑیسہ کے وزیر اعلیٰ جے بی پٹنایک۔

سابق وزیر اعلیٰ جے بی پٹنایک پر الزام تھا کہ انھوں نے اس اہلکار کو بچانے کی کوشش کی تھی جس کے خلاف اس واقعے سے 18 ماہ قبل اس خاتون نے ریپ کی کوشش کی شکایت درج کروائی تھی۔ خاتون نے الزام لگایا تھا کہ ان کے ریپ کے پیچھے ان دونوں کا ہاتھ تھا ’تاکہ مجھے ڈرایا جائے اور میں اس اہلکار کے خلاف اپنی شکایت واپس لے لوں۔‘

پٹنایک کے مطابق ان کے خلاف الزامات ایک ’سیاسی سازش‘ تھی۔ اس کے ایک ماہ بعد جب وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دیا تو اخباروں میں یہ خبریں چھپیں کہ اُن کے جانے کی بڑی وجہ ’کیس کی مِس ہینڈلنگ‘ تھی۔

اور اس کے ایک برس بعد ایک پولیس اہلکار کو ریپ کی کوشش کے الزام میں تین سال قید کی سزا ہوگئی۔

انڈیا

Getty Images

انڈیا کے تحقیقاتی ادارے سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن (سی بی آئی) کو اس گینگ ریپ کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔لیکن بسوال، جو عدالتی حکمنامے کے تحت مرکزی ملزم اور ’ماسٹر مائنڈ‘ تھے، غائب رہے اور ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔

وقت گزرنے کے ساتھ اس واقعے کو بھلایا جانے لگا اور اس کی فائل کٹک کے پولیس سٹیشن کی دھول کی نذر ہوگئی۔

آپریشن سائلنٹ وائپر

نومبر میں پولیس اہلکار سارنگی اپنے ایک دوسرے کیس کی خاطر جیل گئے جہاں اتفاقاً ان کی ملاقات اسی گینگ ریپ کے ایک مجرم موہانٹی سے ہوئی۔

وہ بتاتے ہیں ’ان سے بات کرنے کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ ان کے ایک قریبی ساتھی کو کبھی گرفتار نہیں کیا جاسکا تھا۔ اگلے دن میں دفتر آیا اور دوبارہ فائل کھول لی۔ میں نے کیس کی تفصیلات پڑھیں اور سوچا ’اسے پکڑنا چاہیے۔ یہ ایک سنگین جرم تھا۔‘

سارنگی ریاستی دارالحکومت اور اس کے جڑواں شہر کے پولیس کمشنر ہیں۔ انھوں نے فائل دوبارہ کھول کر اس کیس کا نیا خفیہ نام ’آپریشن سائلنٹ وائپر‘ رکھ دیا۔

’وائپر (سانپ) اپنے اردگرد کے ماحول میں ڈھل جاتا ہے اور بغیر کسی شور آگے بڑھتا ہے تاکہ اسے پکڑا نہ جاسکے۔ تو میں نے سوچا یہ اس آپریشن کے لیے بہترین نام ہوگا کیونکہ اس شخص کو 22 سال تک پکڑا نہیں جاسکا تھا۔‘

پولیس نے ایک چار رکنی ٹیم بنائی اور کیس کے بارے میں صرف چند ہی لوگوں کو علم تھا تاکہ ’معلومات باہر نہ جاسکے۔‘

پولیس نے ملزم کو کیسا ڈھونڈا؟

سارنگی کہتے ہیں کہ ’19 فروری کو شام پانچ بج کر 30 منٹ پر مجھے یقین تھا کہ مجھے صحیح آدمی مل گیا ہے۔ سات بجے کے میرے تین اہلکار فلائٹ پر پونے کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔‘

’اوڑیسہ اور مہاراشٹر کی پولیس کی مشترکہ ٹیم نے اگلے دن چھاپہ مارا اور اسے پکڑ لیا۔‘

پولیس نے معلومات جمع کرنے اور منصوبہ بندی کرنے کے لیے تین دن لگائے اور پھر جا کر اس شخص کو گرفتار کیا۔

’جب ہم نے تحقیقات شروع کیں تو ہمیں معلوم ہوا کہ یہ شخص اپنے خاندان، اہلیہ اور بچوں سے رابطے میں ہے۔ اسے تب پکڑا گیا جب اس کا خاندان اس کے نام پر ایک زمین فروخت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

ضلع کٹک کے ایک گاؤں نارنپور میں اس کے گھر کے قریب اس کی ایک زمین ہے۔ سارنگی کے مطابق اس خاندان کو امید تھی کہ پلاٹ کی فروخت سے انھیں اچھے پیسے مل جائیں گے۔

ایک پیشرفت مزید ہوئی جب پولیس نے خاندان کے بینک اکاؤنٹس پر نظر ڈالی۔

انھوں نے دیکھا کہ اس کی اہلیہ یا بیٹوں کے پاس کوئی نوکری نہیں ہے، اس کے باوجود ان کے پاس آمدن کا ایک مستحکم ذریعہ ہے۔ پونے میں کسی جلندھر سوان نامی اکاؤنٹ سے انھیں پیسے منتقل کیے جاتے ہیں۔

بسوال کی گرفتاری کے بعد ان کی اہلیہ گیتانجلی نے کہا کہ گذشتہ 22 برسوں کے دوران ان کے خاندان کا ان کے شوہر سے رابطہ نہیں ہوا۔

انھوں نے اخبار ٹائمز آف انڈیا کو بتایا ہے کہ ’گینگ ریپ کے بعد وہ چھپ گئے تھے اور ہم سے فون پر اور نہ گھر آ کر کوئی رابطہ کیا۔‘

ان کے مطابق انھوں نے اپنے شوہر سے کوئی رقم وصول نہیں کی۔ پولیس کے مطابق انھوں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا جس میں ان سے پوچھا گیا کہ جالندھر سوان کون ہے جس نے انھیں اور ان کے خاندان کو اتنے عرصے تک پیسے دیے ہیں۔

ملزم کہاں چھپا ہوا تھا؟

سارنگی کہتے ہیں کہ ’انڈیا ایک بڑا ملک ہے۔ بسوال نے کہیں نوکری ڈھونڈ لی ہوگی اور ان کا ایک بینک اکاؤنٹ، پی اے این کارڈ (ٹیکس کی ادائیگی کے لیے لازم) اور آدھار کارڈ (شناختی کارڈ) بھی تھا۔‘

سنہ 2007 سے وہ امبی ویلوی نامی علاقے میں ملازمین کی ایک رہائش گاہ میں زندگی گزار رہے تھے۔ اس جگہ انڈیا کے کئی بااثر اور امیر افراد رہتے ہیں اور یہ ان کے آبائی گاؤں سے 1740 کلومیٹر دور ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ ایک نئی شناخت کے ساتھ پلمبر کا کام کر رہے تھے۔

’وہ امبی ویلوی کے 14 ہزار سے زیادہ ملازمین میں سے ایک تھے۔ انھوں نے حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیا تھا، ایک وائپر کی طرح۔‘

ان کے آدھار کارڈ پر اب ان کا نام جالندھر سوان تھا اور ان کے والد کا نام پی سوان بن درج ہے۔ لیکن ان کے گاؤں کا صحیح نام لکھا گیا تھا۔ پولیس کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس نام کا کوئی بھی شخص اس گاؤں میں نہیں رہتا۔

پولیس کے مطابق ملزم نے ریپ کے الزامات کی تردید کی ہے۔ لیکن انھوں نے اپنی نئی شناخت کی تردید نہیں کی۔ ’کئی ذرائع سے ان کی شناخت کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس میں ان کے خاندان کے افراد بھی شامل ہیں۔ ہم نے مزید تحقیقات کے لیے انھیں سی بی آئی کے حوالے کر دیا ہے۔‘

پیر کو جب اس شخص کو عدالت لایا گیا تو ٹی وی چینلز ان کی ایک جھلک دیکھنے کی تگ و دو میں مصروف رہے۔

انھوں نے نیلے رنگ کی شرٹ اور گرے ٹراؤزر پہن رکھا تھا اور وہ ننگے پاؤں تھے۔ پولیس نے ان کے چہرے پر کپڑا ڈالا ہوا تھا۔

بسوال کے بارے میں سارنگی نے بتایا کہ اب ان کی عمر قریب 50 سال ہے۔ ’ان کی جسامت درمیانی ہے، وہ گنجے ہیں، جسمانی طور پر زیادہ طاقتور نہیں۔ وہ کافی عام سے شخص ہیں۔‘

آگے کیا ہوگا؟

پولیس اہلکار سارنگی کہتے ہیں کہ ابھی کئی سوالوں کے جواب موجود نہیں۔ جیسے وہ کیسے بھاگے تھے؟ سنہ 2007 سے پہلے تک وہ کہاں تھے؟ اتنے عرصے تک انھیں پکڑا کیوں نہ جاسکا؟ انھوں نے نوکری کیسے ڈھونڈی؟ کیا کسی نے ان کی مدد کی تھی؟

وہ کہتے ہیں کہ یہ سوال اہم ہیں کیونکہ متاثرہ خاتون نے بااثر افراد پر سنگین الزام لگائے تھے۔

پولیس کو کئی مشکلات درپیش ہیں۔ متاثرہ خاتون کو انھیں پہچاننا ہوگا اور اس جرم کو اب کافی سال گزر چکے ہیں۔ اس کیس میں انھیں سزا مل سکتی ہے اور وہ بری بھی ہوسکتے ہیں۔

سارنگی کہتے ہیں کہ ’ہم یقینی بنائیں گے کہ انھیں سزا ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ اپنی باقی زندگی جیل میں گزاریں اور انھیں جیل سے نجات صرف موت سے ملے۔‘

متاثرہ خاتون نے پولیس ٹیم کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وہ ملزم کے لیے موت کی سزا چاہتی ہیں۔ مقامی چینل سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ انھیں امید نہیں تھی کہ یہ گرفتاری ہوسکے گی۔

’میں خوش ہوں کہ اب آخر کار اسے پکڑ لیا گیا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18550 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp