وہ جزیرے جو جرمنی کو نارتھ سی یعنی بحیرہ شمال میں ڈوبنے نہیں دیتے

سوفی ہارڈک - بی بی سی فیوچر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جرمنی کے ایک چھوٹے ہموار جزیرے نورڈ ستراندشمور پر بحیرہ شمال کی وجہ سے سالانہ تقریباً 50 بار سیلاب آتا ہے۔ یہاں روتھ ہارٹوگ کروز اپنے بچوں اور پوتوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ بعض اوقات یہ جزیرہ سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ اس عمل کو 'لینڈ انڈر' کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ جب یہ طغیانی اپنے ذور و شور پر ہوتی ہے تو یہاں انسانوں کے بنائے صرف چار ٹیلے نظر آتے ہیں جن میں فارم ہاؤسز اور مویشیوں کے رہنے کی جگہ ہے۔ یہاں اس جزیرے کے 25 رہائشی اپنی بھیڑ بکریوں کے ساتھ قیام کرتے ہیں اور پانی واپس سمندر میں جانے کا انتظار کرتے ہیں۔

ہارٹوگ کروز یہاں اس وقت سے رہ رہی ہیں جب ان کے خاندان کا پہلا فرد 1717 میں آیا تھا۔ نورڈ ستراندشمور ان 10 ہیلیگن جزیروں میں سے ایک ہے جو جرمنی کے بحیرہ شمال کے ساحل پر مخصوص سطح سمندر پر واقع ہیں۔ انھیں کسی رکاوٹ کی حفاظت حاصل نہیں اور اس لیے ان میں سیلاب آتے رہتے ہیں، خاص کر موسم سرما میں۔

ان میں سے دو سب سے بڑے جزیرے لینگنس اور ہوج میں قریب 100 لوگ بستے ہیں۔ سب سے چھوٹے جزیرے گروڈ میں صرف 10 لوگ رہتے ہیں۔

ماضی میں ہیلیگن میں بدترین سمندری طوفان آ چکے ہیں جن سے یہ علاقے ڈوب جاتے تھے۔ لیکن ان سیلابوں سے ایسے مادے بھی یہاں داخل ہوتے ہیں جن کی مدد سے زمینی پیداوار بڑھتی ہے۔ نمکیات کے بنے دلدل پرندوں اور پودوں کی پرورش کے لیے مفید ہیں۔ ان جزیروں میں پرندوں کی کچھ نسلیں کافی اچھی پرورش پاتی ہیں اور یہاں جرمنی کے پرندوں کی کل آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ بستا ہے۔

لیکن اب ان جزیروں کو ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے بڑا خطرہ لاحق ہے۔ اس سے سطح سمندر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جزیرے کی قدرت کی آغوش میں واپسی

جرمنی: دیوارِ برلن کا انہدام کیسے ممکن ہوا؟

کراچی کے لاپتہ جزائر

جرمنی کی ساحلی ریاست شلسویگ-ہولشتائن، جس میں ہیلیگن کو شمار کیا جاتا ہے، لاکھوں یورو خرچ کر کے جزیروں کے رہائشیوں کی مدد کر رہی ہے تاکہ وہ ٹیلے کی اونچائی بڑھا سکیں۔ وہ سطح سمندر میں ایک میٹر اضافے کی تیاری کر رہے ہیں۔

لیکن وہ ایسی تحقیق پر بھی سرمایہ لگا رہے ہیں جو بظاہر خلاف عقل نظر آتی ہیں جن سے جزیروں پر مزید سیلاب آ سکتے ہیں مگر ان سے سمندر کے ذریعے جزیروں پر زمینی پیداوار بڑھ سکتی ہے۔

ہارٹوگ کروز کہتی ہیں کہ ‘ہمیں ہیلیگن کی پیداوار بڑھانے کے ذرائع ڈھونڈنے ہوں گے۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ بس ایک بلند و بالا ٹیلے پر بیٹھ جائیں اور روز لینڈ انڈر برداشت کریں۔’

وہ اس جزیرے اور ایک اور ہمسایہ جزیرے کی میئر ہیں۔

جورج اینگسٹ یونیورسٹی میں جغرافیہ کے ماہر میتھیاس ڈائیک سنہ 2007 سے ہیلیگن کی پیداوار پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا اندازا ہے کہ اسے سمندر کا مقابلہ کرنے کے لیے سالانہ چار سے پانچ ملی میٹر بڑھنا ہو گا۔ اس وقت ایسا کسی جزیرے میں نہیں ہو رہا۔

ان جزیروں میں سے ہوگ ایسا جزیرہ ہے جو اپنے گرد تعمیرات کی وجہ سے چھوٹے سیلابوں سے محفوظ رہتا ہے۔ مٹی کے تحفظ کے لیے دوسرے جزیروں کے بند چھوٹے ہیں۔ میتھیاس ڈائیک کے مطابق ہوگ کے بیریئرز کی وجہ سے یہاں سال میں صرف دو بار جزیرہ زیر آب آتا ہے۔ یہاں پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے۔ جبکہ نورڈ ستراندشمور میں کثیر تعداد میں سیلابوں کے باوجود ہر سال ایک سے دو ملی میٹر کی پیداوار ہوتی ہے۔

گذشتہ تین موسم سرما کے دوران ہارٹوگ کروز کے خاندان اور ڈائیک نے کئی طریقوں کا تجربہ کیا ہے تاکہ جزیرے پر زیادہ سے زیادہ سمندری ذرات باقی رہ سکیں۔

انھوں نے کم درجے کے سیلاب سے بچانے کے لیے قائم بند کو کچھ حد تک کم کر دیا ہے اور موسم سرما کے سمندری طوفانوں کے دوران وہ سیلاب کے لیے قائم گیٹ کھول دیتے ہیں۔ انھوں نے بیریئر کے ذریعے ایک پائپ بھی لگایا ہے جس کا رُخ اوپر کی طرف ہے۔ موسم سرما کے سیلاب، طوفان اور اونچی لہروں کے دوران سمندر کے گہرائی میں ذرات سے بھرا پانی اب جزیرے میں براہ راست داخل ہوتا ہے۔

ڈائیک کہتے ہیں کہ یہ جزیرے ‘سائنس کے لیے اہم ہیں۔ کیونکہ ہم یہاں ایسے طریقے آزما سکتے ہیں جو دوسری جگہوں پر بھی کام آئیں گے۔’

ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف جرمنی کے شمالی ساحلی علاقے بلکہ امریکہ کا مشرقی ساحل بھی یہاں سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کے ایسے علاقے جنھیں سمندری طوفانوں کا خطرہ ہے اور سطح سمندر وہاں بڑھ رہی ہے اُن کو اِن تجربات سے فائدہ ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘اونچے بند بنانے سے طویل مدتی حل نہیں نکلے گا۔ زمین کی پیداوار سمندر کے ذریعے بڑھانا بھی ضروری ہے کیونکہ تعمیرات یا بند کبھی بھی ٹوٹ سکتے ہیں۔ یہ تباہی کا بہترین نسخہ ہے کیونکہ پانی اپنی پوری قوت سے علاقے سے ٹکراتا ہے۔’

خطرناک ساحل سمندر

یہ جزیرے ایک بڑے ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں۔ یہ ویڈن سمندر میں واقع ہیں جو جرمنی کے ساحل کو بحیرہ شمال کی لہروں سے بچاتے ہیں اور یہ جنگلی حیات کے لیے بھی مفید جگہ ہے۔ اس ماحولیاتی نظام کا ایک ڈرامائی پہلو یہ ہے کہ یہاں پانی کی لہروں پر شدید اثر پڑتا ہے۔

جب لہروں کی اونچائی کم ہوتی ہے تو اس دوران پانی پیچھے چلا جاتا ہے جس سے سمندر کی گہرائی کم ہو جاتی ہے اور لوگ باآسانی چل کر ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس منفرد علاقے میں سیلاب کو احتیاط سے قابو کرنا بہت ضروری ہے۔ اس سے صرف جزیرے کے رہائشی ہی نہیں بلکہ ان کے مویشی اور پرندے بھی محفوظ رہیں گے۔

ان جزیروں پر قریب 60 ہزار پرندے بستے ہیں۔ ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی تحقیق کے مطابق اس میں جرمنی میں سینڈوچ ٹرن نامی پرندے کی کل افزائش کا 71 فیصد حصہ، آرکٹک ٹرن کا 49 فیصد حصہ اور سیاہ کمر والے گلز کا 53 فیصد حصہ شامل ہے۔

جب لہروں کی اونچائی کم ہوتی ہے تو اس دوران ان پرندوں کو یہاں کے نمکین دلدل میں کافی خوراک مل جاتی ہے۔ موسم سرما کے سیلاب کے دوران زمین پر ان کے شکاری نہیں ہوتے۔ پرندوں کی حفاظت کے لیے بہار اور گرمیوں کے دوران ڈائیک اور ان کی ٹیم یہاں سیلاب کے تجربے نہیں کرتی۔

اس تحقیق کے ابتدائی اور غیر شائع شدہ نتائج، جنھیں رواں سال کے اواخر تک ختم کر لیا جائے گا، ڈائیک کے مطابق ان اقدامات سے جزیرے کی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ پائپ کا طریقہ کار کافی مفید ہے اور اس سے ذرات کی تہیں زمین پر آ جاتی ہیں جنھیں عام آنکھ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پانی کی واپسی کی رفتار کم کرنے سے ذرات یہاں ٹھہر سکتے ہیں جس سے مدد مل سکتی ہے۔

اصولی طور پر یہ اقدامات یہاں کے تمام جزیروں پر کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن یہ مصنوعی سیلاب رہائشیوں کو کافی تنگ کر سکتے ہیں۔

عام طور پر جزیرہ 12 گھنٹوں تک سمندر میں ڈوبا رہتا ہے اور اس کے بعد سیلاب کا پانی واپس جاتا ہے۔ اگر طوفان سے یہ پانی بار بار جزیرے پر دھکیلا جائے تو یہ کئی دن تک یہاں ٹھہر جاتا ہے۔ اس دوران جزیرے پر رہنے والے باقی دنیا سے کٹ جاتے ہیں، ایک دوسرے سے مل نہیں سکتے اور سکول یا دکان تک نہیں جا سکتے۔ یہ ان کے لیے ایک لاک ڈاؤن جیسی صورتحال ہوتی ہے۔ بچوں کو سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے، خاندان ذخیرہ کی گئی خوراک استعمال کرتے ہیں اور وہ دوسرے ٹیلوں یا جرمنی کے دوسرے علاقوں تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔

اگر مصنوعی طور پر سیلاب پیدا کیا جاتا ہے اور پانی کی واپسی کی رفتار کم کر دی جاتی ہے تو اس سے ان لوگوں کی تنگی بڑھ سکتی ہے۔ ایسا کرنے سے جزیرے پر پانی ٹھہرا رہتا ہے اور رہائشی زیادہ وقت تک اپنے ٹیلوں تک محدود رہتے ہیں۔

ہوگ کی میئر جسٹ کہتی ہیں کہ ‘میں مصنوعی سیلاب کے حق میں ہوں لیکن مجھے لگتا ہے کہ ان جزیروں کو اس کی حمایت کرنی چاہیے۔’ ان کے جزیرے پر اس کے بند کی وجہ سے زیادہ سیلاب نہیں آتے۔

‘لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو جزیرے کو زیادہ دیر تک زیر آب دیکھنا نہیں چاہتے اور اس سے بچ نہیں سکتے۔’ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ تنگی فائدہ مند ہو سکتی ہے اور ہوگ مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکتا ہے۔

اگر یہ اقدام تمام جزیروں پر کیے جاتے ہیں تب بھی ماحولیاتی تبدیلی سے بچنے کے لیے مصنوعی سیلاب جیسا اقدام ان مہنگے منصوبوں کی ایک کڑی ہو گی جس پر وسیع پیمانے پر عمل کیا جا سکے۔

ہسم گاؤں میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ویڈن سمندر کے دفتر کے ڈائریکٹر ہینس الرچ روزنر کہتے ہیں کہ ان جزیروں کے تحفظ کے لیے کچھ بنیادی باتیں ضروری ہیں۔

‘پہلے ان ٹیلوں کو اونچا کرنا ہو گا جہاں لوگ رہ رہے ہیں۔ دوسرا یہاں زمینی پیداوار بڑھانی ہو گی اور یہ زیر آب زمین سے ہی ممکن ہوگا۔ تیسرا ان کے کناروں کو کٹ کر بہہ جانے سے بچانا ہو گا۔‘

اس آخری مرحلے کو گذشتہ کئی دہائیوں سے دہرایا جا رہا ہے۔ اس جزیرے پر پتھر سی بنے کنارے کو کم کیا جا رہا ہے۔ روزنر کہتے ہیں کہ ویڈن سمندر کے ماحولیاتی نظام کو بچانے کی ضرورت ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو جزیرے اپنی اس حالت میں نہیں رہ پائیں گے۔

روزنر کہتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی سے تحفظ کے لیے عالمی پیرس معاہدے پر تمام ملکوں کے عملدرآمد کے بغیر یہ کوششیں ناکام ہوں گی۔

’ماحولیاتی تبدیلی سے بچنے کے عالمی طریقہ کار پر عمل کے بغیر کسی کو بھی نہیں بچایا جا سکتا۔‘

روزنر کی پہلی تجویز ٹیلوں کو بلند کرنا ہے۔ اس پر کام جاری ہے۔ شلسویگ-ہولشتائن ریاست کے حکام ان ٹیلوں کو آہستہ آہستہ ‘موسمی ٹیلوں’ سے بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سمندر میں پانی کی سطح بڑھنے سے بچ سکتے ہیں۔ روایتی ٹیلے کی نسبت موسمی ٹیلے کی اونچائی 1.5 میٹر تک ہو گی۔ یہ اتنے چوڑے ہوں گے کہ مزید وسعت برداشت کر سکیں گے۔ ان میں مغرب کی طرف ایک ڈھالان ہو گی تاکہ مغربی ہواؤں سے پیدا ہونے والے سیلاب کے زور سے بچایا جاسکے۔

ہوگ، نورڈ ستراندشمور اور لینگنس پر موسمی ٹیلے بنانے کا تجرباتی منصوبہ تکمیل کے قریب ہے۔ یہ اندازوں کی نسبت کافی مہنگا ثابت ہوا ہے۔ ہر ٹیلے پر 37 لاکھ سے 90 لاکھ یورو کا خرچ آیا ہے۔ یہ اس لیے ہے کیونکہ تعمیرات کے لیے کافی ریت اور اس کی آمد و رفت درکار تھی۔ چونکہ محفوظ ویڈن سمندر سے کوئی ریت نہیں لی جاسکتی اس لیے ریت کو بحیرہ شمال یا دوسرے علاقوں سے لانا پڑتا تھا۔

ہارٹوگ کروز اور ان کا خاندان جس ٹیلے پر مقیم ہے اسے بھی منصوبے کے تحت وسیع کیا گیا ہے۔ اس منصوبے سے ان کے ٹیلے پر اتنی جگہ بڑھ گئی ہے کہ دوسرا گھر تعمیر ہو سکتا ہے۔ یہاں ان کے بچے اور ان کے خاندان رہیں گے۔ ہوگ پر ٹیلے کو بڑھانے سے یہاں اضافی زمین آگئی ہے۔

یہ زمین بلدیہ کی ہے اور خیال ہے کہ یہاں ایک الگ گھر بنایا جائے گا جس میں نچلےعلاقوں میں مقیم لوگوں کو اس وقت تک جگہ دی جائے گی جب تک وہ اپنے گھر دوبارہ تعمیر نہیں کر لیتے۔ انھیں یہاں کی زمین کی سطح اونچی کرنی ہو گی اور اس طرح تمام جگہ زیر آب آنے سے بچ سکے گی۔

ہوگ کے میئر کٹاجا جسٹ کا کہنا ہے کہ جو اتنے غیر آباد جزائر میں اتنی زیادہ سرمایہ کاری کرنے پر سوال اٹھاتے ہیں ان کو وسعت نظر سے کام لینا چاہیے۔

’اگر ہیلیگن ڈوب جاتے ہیں تو پورے ساحل پر سمندری کی لہروں کا ذور بڑھ جائے گا اور اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی اور بہت نقصان ہو گا۔ ہیلیگن کو محفوظ کرنے کا مطلب ساحل کو محفوظ کرنا ہے۔

برجٹ میلسکی ساحلی علاقوں کو محفوظ بنانے اور نیشنل پارک اور سمندری حیات کے ادارے کی ڈائریکٹر ہیں جو شیلوگ ہولسٹین کے صوبے میں موسمیاتی پشتے اور سیلاب روکنے کے لیے سرمایہ فراہم کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کے جزیرے پر بسنے والے بہت سے لوگ ساحلی علاقوں کو محفوظ کرنے کے کاموں میں مدد دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں ان جزائر کے سمندر میں غرق ہو جانے سے ثقافتی اور ماحولیاتی میراث مٹ جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ہیلیگن کو بچائیں گے۔’ ‘ہیلیگن کو بچانے کا مطلب یہ ہو گا کہ ان کو آباد رکھا جائے اور اگر وہ آبادی کے قابل نہ رہے تو ان کا بچانا مشکل ہو جائے گا۔’

چند مقامی لوگوں کو ماحولیاتی پشتے بنانے کے بارے میں شکوک و شبہات ہیں۔ ان کے مطابق اتنے وسیع پیمانے پر تعمیراتی کام کی وجہ سے سیاح نہیں آئیں گے۔ باغات اور چراہ گاہیں یا تو کم ہو جائیں گے یا ان کی شکل بدل جائے گی۔

گورڈ جس پر صرف دس افراد آباد ہیں اور جو ایک پشتے پر رہتے ہیں اس پر تعمیراتی کام پہلے ہی تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ ان کی مرضی کے بغیر اس پشتے کو وسعت دینے کا منصوبہ آ گے نہیں بڑھ سکتا اور ابھی تک ان سے کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔

گورڈ کے میئر جرگن کولک کا کہنا ہے کہ ‘اس طرح کا کوئی حل نکالنا جو سب کے لیے قابل قبول ہو اس پر پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔‘ انھوں نے کہا ضرورت تو ہے اور ہر کوئی یہ جانتا ہے۔

روتھ ہارٹوگ کروز کا کہنا ہے’ کہ وہ سمجھتی ہیں کہ یہاں رہنا کسی تحفے سے کم نہیں اور یہاں بچے پالنا، یہاں کی آزادی اور یہاں کا انوکھا ماحول۔’

ہوگ اور نورسٹرینشومر کے میئروں کی طرح کولک نے اس بات پر ذور دیا ہے کہ ہیلیگن کو آباد رکھنے کے لیے صرف مضبوط پشتوں سے کام نہیں چلے گا اس کے لیے بہت زیادہ کام کرنے ضرورت ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ یہاں انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہاں تعلیمی سرگرمیاں ہو سکیں۔ ہیلیگن کے سکولوں میں ایک درجن سے بھی کم بچے آتے ہیں اور ایک ہی استاد ہوتا ہے جو تمام عمر اور تمام درجوں کے بچوں کو تمام مضامین پڑھاتے ہیں۔ گورڈ میں اس وقت کوئی سکول نہیں ہے اور سکول کی عمارت اس وقت خالی پڑی ہے۔

اس چھوٹے سے جزیرے پر سکول کا خیال بہت دلکش لگاتا ہے لیکن کولک کا کہنا ہے کہ عملاً بہت سے لوگ اپنے بچوں کی تعلیم کی وجہ سے جزیرہ چھوڑ کر ساحلی علاقوں میں چلے جاتے ہیں۔

ہرٹوگ کروز کا کہنا ہے کہ ہیلگ پر رہنے میں جو پریشانیاں درپیش آتی ہیں وہ یہاں کے دلکش مناظر میں بھول جاتی ہیں۔ ہر سال سردیوں کے آخر میں وہ کیکڑوں کا شکار کرنے والوں کا انتظار کرتی ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ موسم بدل رہا اور گرمیاں آنے والی ہیں۔

جب سمندر کی سطح کم ہوتی ہے تو وہ سیپیاں ڈھونڈنے جاتی ہیں۔ جب کبھی ‘لینڈ انڈر’ یا سمندر کے پانی کے چڑھنے کی وارننگ دی جاتی ہے وہ اپنے پوتوں پوتیوں سے کہتی ہیں کہ وہ اپنی سائکلیں اور کھلونے اٹھا لیں تاکہ وہ سمندر میں نہ ڈوب جائیں۔ جب تک پانی اتر نہیں جاتا وہ اپنے کمپیوٹر کے ذریعے کام کرتی ہیں اور گھر کا کام کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہاں رہنا، بچے پالنا اور یہاں کی آزادی اور ماحول سے لطف اندوز ہونا کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔

جب وہ اپنے بزرگوں کے بارے میں سوچتی ہیں جن کی زندگی کا ڈھنگ ان سے مختلف نہیں تھا تو ہرٹوگ کروز ہیلیگن کے مستقبل کے بارے میں پر امید ہو جاتی ہیں۔

آخر کار صدیوں سے یہاں رونما ہونے والی ڈرامائی تبدیلیوں سے وہ اپنے آپ کو ہم آہنگ کرتے رہے ہیں اور جزیروں کے سمندر برد ہو جانے سے وہ اپنے پشتوں کی جگہ دو مرتبہ بدل چکے ہیں۔ آخری مرتبہ انھیں سنہ 1919 میں محفوظ جگہوں پر منتقل ہونا پڑا تھا جب ایک طوفان کی وجہ سے سمندر میں تغیانی سے ان کے گھر کے ڈوب جانے کا خطرہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ نقل مکانی نہ کرتے تو یہاں کوئی بھی نہ ہوتا۔ وہ ہمیشہ اس سے پہلے کے دیر ہو جائے آگے کی سوچتے ہیں۔ ہم نے ان سے یہ ہی سیکھا کہ مشکل آنے سے پہلی ہی اس کا مقابلہ کرنے کی تیاری کر لینی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18484 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp