کورونا موت نہیں،موت زندگی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جی ہاں اگر موت حقیقت نہ ہوتی تو زندگی کو زندگی نہ کہا جاتا، شاید دوام کہا جاتا یا پھر کچھ نہ کہا جاتا یا کچھ نہ کچھ کہا جاتا مگر زندگی یا حیات بہرحال نہ کہا جاتا ، یوں موت کے بنا زندگی زندگی ہرگز نہ ہوتی۔ ایسی صورت میں چاہے انسانی طبع میں وہ ساری کیفیات ہوتیں جو کسی موجود کو لاوجود میں تبدیل کرنے کے قابل جانی جاتی ہیں تب بھی وجود لاوجود نہ ہو پاتا۔ یہ نہ کوئی فلسفیانہ بات ہے، نہ شاعرانہ تعلی اور نہ ہی مبالغہ آرائی ۔

چنانچہ زندگی کے سارے سکھ اور سارے دکھ موت سے وابستہ ہیں۔ تبھی زندگی کو عارضی کہا جاتا ہے اور موت کو ایک مرحلہ، چاہے کسی اور جہاں جیسے عالم برزخ میں کیونکہ جدید مذاہب یعنی یہودیت، مسیحیت اور اسلام کے مطابق بہشت اور دوزخ روز قیامت برپا ہو جانے کے بعد ہی کھولے جائیں گے اور فعال ہوں گے یا قدیم مذاہب کے مطابق نرگ اور سورگ میں جانے کے یا اب تک کی سائنس کے مطابق خاک ہو جانے کے۔

کورونا سے ڈرنا نہیں چاہیے کیونکہ نہ تو یہ پہلا وائرس ہے اور نہ آخری ، البتہ وبا گھبراہٹ طاری کر دیتی ہے کہ موت کا چلن تیز، تیز تر یا تیز ترین ہو جاتا ہے۔ اپنے آپ کے زندگی کی راحتوں اور رنجشوں سے جدا ہونے یا اپنوں کے خود سے جدا ہونے کا خوف طاری ہو جاتا ہے۔ یہ خوف بھی اپنے سے باہر کی وائرس کے ہاتھوں مارے جانے کا نہیں بلکہ اپنے اندر ازل سے جاگزیں خوف کے باہر آ کر خود کو ظاہر کرنے کے سبب ہوتا ہے۔

وائرس آپ کے جسم سے باہر ہو تو آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا مگر آپ کے اندر جا کر آپ کو اتھل پتھل کر سکتا ہے بلکہ کورونا وائرس ایک سو متاثرہ افراد میں سے دو یا تین ایسوں کو جن کے جسم کا اندرونی مدافعتی نظام کمزور ہو، موت سے ہمکنار بھی کر سکتا ہے۔ ہم میں سے بہت زیادہ لوگوں کو معلوم نہیں کہ وائرس کوئی زندہ شے نہیں ہے جیسے بیکٹیریا یعنی جرثومہ یا طفیلی کیڑا۔ وائرس ایک کیمیائی مادہ ہے یعنی ڈی این اے جو ڈی آکسی رائبو نیوکلییک ایسڈ کا مخفف ہے۔

یہ کیمیائی مادہ جو انتہائی مہین شکل میں ہوتا ہے ، کسی زندہ بدن سے باہر چند لمحوں سے ایک آدھ گھنٹے سے زیادہ فعال یعنی مضر ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ ایک مخصوص مدت کے بعد یہ پاش پاش ہو جاتا ہے البتہ جونہی کسی بدن کے کسی خلیے میں جا گزیں ہو تو یہ اس خلیے سے اپنی قوت لیتا ہے، بہت تیزی سے تقسیم ہو کر خلیہ خلیہ منتقل ہوتا ہے، یوں ہر خلیہ سے حصول توانائی، تقسیم اور منتقلی کے اس عمل کے دوران خلیے کمزور تر ہو جاتے ہیں۔ اعضاء چونکہ خلیوں سے ہی بنے ہوتے ہیں اس لیے جسم کا اندرونی مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ جو عضو بہت زیادہ متاثر ہو اس کا کام شدید متاثر ہوتا ہے اور بالآخر وہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

جسم کے سارے اعضاء متصل و مربوط ہیں ، اس لیے سبھی متاثر ہوتے ہیں۔ جب اعضائے رئیسہ بہت زیادہ متاثر ہو جائیں تو کسی بھی ایک عضو (جیسے جگر، پھیپھڑا، گردہ، دل یا دماغ) کا کام رک جانے سے انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ ویسے چند ایک وائرس کے علاوہ کوئی بھی وائرس بلڈ برین بیریئر کے حفاظتی نظام کی وجہ سے دماغ کو متاثر نہیں کر پاتا۔

ہم عام زکام کی مثال لیتے ہیں، دو تین روز زکام میں مبتلا ہونے کے بعد انسان انتہائی نقاہت محسوس کرتا ہے۔ اس کے جسم کے مختلف حصوں میں درد ہوتا ہے۔ اس میں چلنے پھرنے کی اتنی قوت باقی نہیں رہتی جو اس سے پہلے موجود تھی۔ اس کا دل بجھا بجھا سا رہتا ہے۔ وہ کچھ بھی کرنے سے گریز کی جانب مائل ہوتا ہے۔ یہ سب جسم کے اندرونی مدافعتی نظام کی عارضی کمزوری کی علامات ہوتی ہیں۔ دیکھنے والا یہی کہتا ہے کہ بھئی اچھے بھلے تو دکھائی دیتے ہو مگر جس کو محسوس ہو رہا ہوتا ہے وہی جانتا ہے کہ وہ اچھا بھلا نہیں ہے۔

بہت پہلے ایک عام زکام سے جسے ”سپینش فلو“ نام دیا گیا تھا، امریکہ اور یورپ میں کروڑوں لوگ مرے تھے۔ تب وائرس سے متعلق علم کم تھا اور احتیاطی تدابیر میں جدت و مستعدی اتنی نہیں تھی جتنی آج ہے۔ مگر آج علم بھی زیادہ ہے اور احتیاطی تدابیر بھی ان ملکوں میں جہاں سب اچھا ہوتا ہے، بہتر ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ابلاغ کے ذرائع بھی زیادہ اور عام ہو چکے ہیں۔ ہر کس حقائق لوگوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ افواہیں، غلط معلومات اور ایسے علاج جن کا دور پار سے اس قسم کی امراض سے تعلق نہیں ہوتا بتاتا بلکہ پھیلاتا ہے۔

شکر ہے کہ وائرس گندگی سے نہیں بلکہ جہل اور بے احتیاطی سے پھیلتا ہے۔ اگر گندگی سے پھیلتا تو پاکستان جیسے ملکوں میں اس نوع کی وبا سے لاکھوں لوگ لقمۂ اجل بن جاتے۔

اب چونکہ مختلف ملکوں میں اس مرض کے خلاف ویکسین بن چکی ہے اور نئے سال کے اوائل سے لگنا بھی شروع ہو چکی ہے اس لیے کچھ بہتری کی امید پیدا ہو رہی ہے مگر جب تک دنیا کی آبادی کا 60 فی صد ویکسین نہ لگوا لے یا مریض ہو کے صحت یاب نہ ہو جائے تب تک احتیاطی اعمال پر عمل پیرا رہنا ضروری ہے۔

احتیاطوں میں یہ کہ ایک دوسرے سے مصافحہ نہ کیجیے، گلے نہ ملیے۔ پبلک میں خاص طور پر جہاں آپ کو کسی شخص یا اشخاص سے ایک میٹر سے کم دوری پر ہونا پڑے تو ماسک ضرور استعمال کیجیے۔

کچھ بھی کھانے سے پہلے اور باہر سے گھر پہنچنے کے بعد ہاتھ ضرور دھو لیجیے۔ کرنسی نوٹ، اخبار وغیرہ کو ہاتھ لگانے کے بعد جب تک ہاتھ دھو نہ لیں، ہاتھ اپنے چہرے سے مس مت کیجیے۔ پانی بار بار مگر بہت کم پی لیں تو اچھا ہے لیکن یہ ساری احتیاطیں وہاں کریں جہاں اس نوع کا کوئی مریض سامنے آ جائے یا آپ کہیں بھی پبلک مقام پر ہیں جیسے مسجد، بس، ریستوران یا ایسی کسی بھی جگہ جہاں آپ کو ہجوم سے واسطہ ہو۔ ضرورت ہو باہر جائیں ورنہ خود کو گھر اور کام کی جگہ تک محدود رکھیں البتہ کام کی جگہ پر ماسک ضرور استعمال کریں۔ وٹامن سی استعمال کریں یا ترش پھل کھائیں جیسے کینو، مالٹا وغیرہ۔

آخر میں یہ کہ بہت زیادہ پریشان مت ہوں۔ احتیاط کریں گے تو آپ کو ان شاء اللہ کچھ نہیں ہو گا۔ خدانخواستہ آپ کورونا سے متاثر ہو بھی گئے تو ضروری نہیں کہ آپ مر جائیں۔ ویسے کوئی بھی مر جائے تو بھی کار جہاں چلتا رہتا ہے۔

ایک چھوٹی سی کہانی سنیے تاکہ آپ سے موت کا ڈر کم ہو۔ ایک بڑھیا کے بیٹے کو سانپ نے کاٹ لیا وہ مر گیا۔ ایک شکاری نے سانپ کو پکڑ لیا اور بڑھیا سے کہا کہ سانپ نے تیرے بیٹے کو کاٹا تو وہ مرا، کہو تو سانپ کو آگ میں ڈال کے جلا دوں، چاہو تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں۔

بڑھیا بولی سانپ کو کچھ نہ کہو، اسے چھوڑ دو۔ شکاری حیران ہو کے سانپ کو تھامے رہا۔ اللہ نے سانپ کو زبان دی، سانپ نے کہا مجھے تو اجل نے حکم دیا تھا کہ اسے کاٹ لے سو میں نے کاٹ لیا، میرا کیا قصور۔ اجل سامنے آ گئی بولی، میرا کوئی قصور نہیں مجھے تو اس کے وقت نے کہا تھا کہ اس کے جانے کی گھڑی آ گئی۔ وقت بھی اکڑ کے سامنے آ گیا کہ ارے، وقت کا کیا قصور یہ شخص تو اپنے اعمال کے باعث مرا ہے تو بھائیو ہمارے اعمال ہی ہماری حیات ہیں اور ہمارے اعمال ہی ہماری موت کا سبب جس میں وقت، اجل اور کورونا تو عامل ہیں۔ جب آپ کو مرنا ہو گا تو آپ مر جائیں گے ، چاہے جراثیموں اور وائرس سے پاک کیپسول میں ہی کیوں نہ زندگی بسر کر رہے ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *