شہزادہ محمد بن سلمان کو فوری سزا دی جائے، مقتول صحافی جمال خشوگی کی منگیتر کا امریکی انتظامیہ سے مطالبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمال خشوگی کی ترک نژاد منگیتر خدیجے چنگیز نے امریکی صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی شہزادے محمد بن سلمان کو بلاتاخیر سزا دیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خشوگی کے 2 اکتوبر 2018  کو ہونے والے پراسرار کے قتل کی تحقیقات کے بعد امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ جمال خشوگی کے قتل میں سعودی شہزادے محمد بن سلمان کا براہ راست عمل دخل شامل ہے۔

26 فروری کو جاری ہونے والی چار صفحات پر مشتمل ”یو ایس انٹیلی جنس اسسمنٹ“ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے سعودی نژاد صحافی کو محمد بن سلمان پر تنقید کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے اور اس معاملے میں شہزادہ محمد بن سلمان کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔

جمال خشوگی کی منگیتر خدیجے چنگیز نے امریکی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کہا ہے کہ ”وہ حقیقت جب سب کو پہلے ہی سے معلوم تھی، ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے۔ لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ سچائی اسی وقت بامعنی ہو سکتی ہے جب اس کی بنیاد پر انصاف کو یقینی بنا دیا جائے۔‘‘

خدیجے چنگیز نے کہا ہے کہ ”محمد بن سلمان کو فوری طور پر سزا دی جائے تاکہ مستقل میں ایسے واقعات پیش نہ آئیں“

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان جین پساکی نے محمد بن سلمان کو نشانہ نہ بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ”مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے دیگر طریقے بروئے کار لائے جا سکتے ہیں۔ فی الحال سعودی عرب کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر کام جاری رکھیں گے“

امریکی انٹیلی جنس اسسمنٹ کے ساتھ ”خشوگی پالیسی“ بھی سامنے لائی گئی ہے جس کے تحت ایسے افراد کے ویزوں پر پابندیاں لگائی جا سکیں گی جن کے بارے میں یہ اطلاعات ہوں کہ وہ ’اختلافی آوازوں‘ کو دبانے یا صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو ہراساں کرنے یا انہیں نقصان پہنچانے کا ارداہ رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے اس سے قبل سعودی عرب کی یمن کی خلاف جنگ کی حمایت روکنے کا اعلان کیا تھا لیکن ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ وہ دفاعی ہتھیاروں کے معاملے میں سعودیہ کی مدد جاری رکھیں گے۔ تجزیہ کار سوال اٹھا رہے کہ امریکی انتظامیہ ان ’دفاعی ہتھیاروں‘ سے کیا مراد لیتی ہے ۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply