مارکل کا برطانوی شاہی محل پر اپنے خلاف جھوٹی مہم چلانے کا الزام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سابق امریکی اداکارہ میگھن مارکل نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانوی شاہی محل ‘بکنگھم پیلس’ اُن سے اور اُن کے شوہر ہیری سے متعلق مستقل جھوٹ سے کام لے رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار مارکل نے امریکی ٹی وی شو کی میزبان اپرا وینفری کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ اس انٹرویو کا کچھ حصہ بدھ کو ‘سی بی ایس’ ٹی وی پر دکھایا گیا تھا۔

شو کا یہ کلپ بکنگھم پیلس کے اُس اعلامیے کے بعد دکھایا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ میگھن کے خلاف محل کے عملے کے ساتھ مبینہ طور پر ناروا سلوک رکھنے کے الزامات کی تحیققات کی جا رہی ہیں۔

برطانوی اخبار ‘دی ٹائمز’ نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ میگھن مارکل نے اکتوبر 2018 میں محل کے کچھ اہلکاروں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا۔

محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیومن ریسورس کا دفتر ان الزامات کی تحقیقات کر رہا ہے جس میں الزام لگانے والے محل کے موجودہ اور سابقہ اہلکاروں کو بھی طلب کیا جائے گا۔

محل کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ محل کے اندر کسی بھی طرح کی ہراسانی یا دھونس برداشت نہیں کی جائے گی۔

اس معاملے پر میگھن نے بھی ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا تھا کہ “وہ اپنے اوپر ہونے والے ان ذاتی حملوں سے پریشان ہیں۔ خاص طور پر جب کہ وہ خود دھونس کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔”

امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں میگھن مارکل اور ہیری نے کہا ہے کہ ‘دی ٹائمز’ کی رپورٹ اُن کے خلاف پہلے سے جاری جھوٹی مہم کا حصہ ہے۔

اپرا وینفری کو دیا گیا یہ انٹرویو اتوار کو نشر ہو گا جس میں متوقع طور پر یہ ہیری اور میگھن محل میں گزاری گئی زندگی اور الگ ہونے کی وجوہات کا تذکرہ بھی کریں گے۔

برطانوی ملکہ الزبتھ دوم کے پوتے شہزادہ ہیری نے 2018 میں ونڈ سیر کیسل میں ہونے والی ایک پرشکوہ تقریب میں غیر سفید فام سابقہ امریکی ادکارہ میگھن مارکل سے شادی کی تھی۔

البتہ، جوڑے نے گزشتہ سال کے آغاز پر محل کو چھوڑنے کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ اُنہوں نے میڈیا کی اُن کے حوالے سے غیر منصفانہ کوریج قرار دیا تھا۔ دونوں نے شاہی اعزازات واپس کرتے ہوئے عام شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنے کا اعلان کیا تھا۔

بکنگھم پیلس نے گزشتہ ماہ ایک جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ دونوں اب امریکہ منتقل ہو گئے ہیں۔ لہذٰا اُن سے تمام شاہی اعزازت واپس لیے جا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1934 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *