کشمیر اظہارِیکجہتی سے آزاد نہیں ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج قلم اٹھایا ایسی جگہ کے بارے میں لکھنے کے لئے کہ ہاتھ کپکپانے لگے، دل غموں اور صدموں سے چور ہو گیا، کبھی میری نظروں کے سامنے نوجوانوں کے جنازے آئے جو اب شہادت کا درجہ پا چکے تھے، کبھی نوجوانوں کے زخموں سے چور جسم نظر آئے، کبھی ماؤں کی غم میں ڈوبی آنکھیں، کبھی عصمتیں لٹانے والی ہماری بہنوں کی بے بسی کی تصویر، کبھی غموں سے نڈھال بیویاں جو اب بیوہ ہو چکی تھیں، کبھی بچوں کی سسکیاں جو کھانے کو ترس رہے ہیں، اسکول جانے کو ترس رہے ہیں، بے بس لاچار مرد، بچے، بوڑھے اور نوجوان جو سالوں سے گھروں میں محصور ہیں۔ احساس کرنے والا ہی ان کے دکھ درد کو سمجھ سکتا ہے لیکن انسانیت کے ٹھیکیدار جو اپنی تقریروں میں ہمیشہ انسانیت کا سبق دیتے ہیں اور یہ اقوام متحدہ، بڑی طاقتیں اور اسلامی ممالک سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یہ جگہ کشمیر ہے.

5 اگست 2019 سے 5 فروری 2021 تک مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پوری دنیا کے سامنے ہر ایک زاویے سے عیاں ہو چکی ہے۔ میرا دل ہرگز یوم یکجہتی کشمیر منانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ یوم یکجہتی کی حقیقت کیا ہے اور اکثر لوگ اسے یوم فراڈ یا پھر محض چھٹی کا ایک دن کیوں سمجھتے ہیں , یہ الگ بحث ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارے سیاسی رہنماؤں کے کیمروں کے سامنے آ کر بیان جاری کرنے یا تصویریں کھنچوانے سے کشمیریوں کی مشکلات میں کوئی کمی واقع نہیں ہو رہی۔

وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر ہو یا ہر جمعے کو کشمیری قوم کے ساتھ یکجہتی کے لئے گھروں سے باہر آدھے گھنٹے کے لئے نکلنے کی کال ہو, اس سے ہندوستان کی سرکار پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وزیراعظم عمران ٹرمپ سے ملاقات میں بار بار کشمیر کا ذکر کریں یا ڈی جی آئی ایس پی آر آخری گولی اور آخری سپاہی کی ٹویٹ جاری کریں، نریندر مودی اور اس کی حکومت کو کشمیر کے معاملے پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ اپنی کشمیر پالیسی کو اسی ترتیب سے جاری رکھے ہوئے ہیں ، جس کے لئے انہوں نے برسوں سے تیاری کر رکھی تھی۔

ہندوستان نے جس حکمت عملی کے ذریعے کشمیری عوام کے حقوق کو سلب کیا ہوا ہے ، اس کا مقابلہ پاکستان کی موجودہ حکومت کرنے سے یکسر محروم نظر آتی ہے۔ کشمیر ایشو پر حکومت پاکستان کی پالیسی ہر ایک ہفتے میں مختلف نظر آتی ہے ، کبھی تو وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم یک دم کشمیر ایشو پر بیانات اور ٹویٹ شروع کر دیتے ہیں اور کبھی ہفتوں کشمیر ایشو پر کوئی بات نہیں ہوتی۔

ہندوستان کی ہٹ دھرمی دیکھیے ، سینئر کشمیری سیاسی قیادت کو عوام سے دور نظربند یا قید میں رکھا ہوا ہے۔ ہندوستان حکومت کی جانب سے کشمیری عوام کو سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ جیسی سہولیات سے محروم رکھ کر کشمیری عوام کی سوچ کو محدود کرنے کی دور رس پالیسی کے تحت مطلوبہ نتائج برآمد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کشمیر ایشو پر 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر منانے اور پاکستان بھر میں سرکاری سطح پر چھٹی منانے سے مسئلہ کشمیر کتنا اجاگر ہوتا ہے ، یہ اب غور طلب سوال ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت کی رہائی کے لئے حکومت پاکستان نے آج تک کیا عملی اقدامات کیے یہ سوال میرے ذہن میں ایک کشمیری ہونے کی حیثیت سے ہر روز نئے انداز میں جنم لیتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو کرفیو سے نجات دلانے اور مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت واپس بحال کرنے کے لئے وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب اور اقوام متحدہ میں تقریر کے علاوہ کیا عملی اقدامات اٹھائے ہیں ، یہ ایسے سوالات ہیں جو جواب طلب ہیں۔

کنٹرول لائن سے ملحقہ علاقے میں ہندوستان کی جانب سے مسلسل گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں بے گناہ انسانی جانوں سمیت بے زبان جانوروں کا ہلاک ہونا اب بس خبر کی حد تک محدود ہو چکا ہے۔ ایک جانب ہندوستان آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کی دھمکی دیتا ہے تو دوسری جانب پاکستان ذمہ دار ملک ہونے کی حیثیت سے اقوام عالم کو اپیل کرتا ہے کہ ہندوستان کو ایسے اقدامات سے باز رکھیں تاکہ جنگ جیسا ماحول پیدا نہ ہو لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں اپنی پالیسی کے مطابق ہر نئے دن میں پہلے سے سخت کنٹرول حاصل کر رہا ہے۔

اقوام عالم ہوں یا اقوام متحدہ ، اس وقت مسئلہ کشمیر ہندوستان کی مکمل گرفت میں ہے جبکہ پاکستان 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کا فراڈ دن منا کر اپنی ذمہ داری سے جان چھڑانے کی بھرپور کوشش میں مصروف ہے۔ بھلا یوم یکجہتی منانے سے بھی کوئی خطہ کبھی آزاد ہوا ہے ، یہ سوال صحافی حضرات کو وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ضرور کرنا چاہیے۔

کشمیری عوام کو اب یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کب تک یکجہتی کے منتظر رہیں گے، دوسری قومیں آپ سے اظہار یکجہتی تو کر سکتی ہیں مگر آپ کو آزادی نہیں دلوا سکتیں۔ کشمیری عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے کی ضرورت ہے، کیا وہ ہر سال ایک رسمی یکجہتی چاہتے ہیں یا پھر اپنی آزادی کے لیے لڑنا چاہتے ہیں؟ کیا وہ محض تقریریں چاہتے ہیں یا پھر آزادی کا علم اٹھانا چاہتے ہیں؟ کیا کشمیری عوام اپنے فیصلے خود کرنے کے لیے تیار ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply