گرمیاں اور گاؤں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے گھر میں ہمیشہ سے ایک کمرہ امتحان جیسی نگرانی کا ماحول رہا ہے ، جس کی روٹین میری بورڈ میں انٹری یعنی نویں جماعت سے یکساں ہے کہ ناشتے کے فوراً بعد کتابیں اٹھا لینی ہیں، کسی بھی مضمون کے حل طلب سوالات کی مشق بنا چوں چرا شروع کر دینی ہے اور پھر اس کے بعد رٹا لگا کر نصاب کے ہر مضمون کو باری باری ایک گلاس پانی کے ساتھ گھول کر پی جانا ہے اور اس کے بعد امتحانی کمرے میں جوابی پرچے پر الٹ کر آ جانا ہے جس کا میں میٹرک کے امتحانات میں اعلیٰ نمبر لے کر کامیاب تجربہ کر چکی ہوں، یہ الگ بات کہ مجھے اب تک ریاضی کی نہ تو سمجھ ہے اور نہ ہی اس میں کوئی دلچسپی جس میں خاص طور پر سو فیصد نمبر لیے۔

اس سخت ماحول کے باوجود ہماری ماں ہمیں ٹی وی پر ایک ڈرامہ روزانہ ضرور دیکھنے دیتی ہیں جس کا انتخاب بھی ان کی ہٹلر نما طبیعت ہی کا استحقاق ہے مگر اس جبر پر ہم اس لیے خاموش رہتے ہیں کیونکہ ایک دو اقساط کے بعد وہ ڈرامے کی کہانی ہمیں اچھی لگنے لگتی ہے اور اس کے ذریعے ہماری والدہ ہمیں زمانے کے وہ رویے دکھا دیتی ہیں جو عام طور پر ہماری نظر سے اوجھل رہتے ہیں، یوں انہوں نے ہمیں بہت سی وہ غلطیاں سکرین پر دکھا دیں جن کو خود کر کے وقت ضائع کرنے کی بجائے دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

کل ہم لوگ روٹین ک مطابق ڈرامہ آور میں ڈرامہ دیکھ رہے تھے کہ ڈرامے کے کردار میں ایک عورت بار بار یہ کہہ کر رو رہی تھی، ’ہائے میری بوری مر گئی‘ ، ’ہائے اب میں بوری کے بغیر کیسے رہوں گی‘ ، ’ہائے میری بوری‘ ، ’ہائے میری بوری‘ ، ’ہائے میں اجڑ گئی بوری‘ ۔ میں اس کے رونے دھونے سے یہ سمجھی کہ بوری اس کی ماں ہے، جیسے ہی میں نے اس نادر خیال کا اظہار کیا تو میری والدہ کی ہنسی نکل گئی اور انہوں نے ہنستے ہوئے بمشکل مجھے بتایا کہ بوری دیہات میں اس بھینس کو کہتے ہیں جس کا رنگ بھورا ہوتا ہے اور چونکہ مویشیوں سے دیہات کے لوگوں کو بہت لگاؤ ہوتا ہے، ان کے معیشت کا انحصار فصلوں اور مویشیوں پر ہوتا ہے تو اس لگاؤ اور نقصان پر یہ عورت اس قدر رو رہی ہے کہ دیکھنے والے کو گمان ہوا کہ اس کی ماں مر گئی ہے۔

پچھلے سال ہم لوگ پاکستان گئے تو گاؤں پہنچتے پہنچتے رات ہو گئی، رات چاندنی تھی، کسی گھر کے باہر ایک خچر عین دروازے کے سامنے بندھا ہوا تھا تو ہم سمجھے کہ یہ مجسمہ ہے، ابھی ہم اس سحر میں گرفتار تھے کہ گاؤں کے لوگ کتنے اعلیٰ ذوق ہیں کہ گھروں کے سامنے اتنے بڑے بڑے مجسمے لگا رکھے ہیں مگر ہماری حیرت اس وقت چیخ کی شکل اختیار کر گئی جب وہ خچر اپنا سر ہلا کر اپنے اوپر سے مچھر اڑانے کی کوشش کرنے لگا۔

اس کے علاوہ بھی ہمیں وہاں بہت سی چیزوں نے محظوظ کیا کہ دادی اماں کے آس پاس بہت سی مانوس پالتو بلیاں پھرتی رہتی تھیں اور ہم انہیں ہاتھ بھی لگاتے تو ڈرتی نہیں تھیں، دادی کے گھر سے منسلک ایک صحن میں خوب بڑے بکرے بندھے ہوئے تھے کہ قربانی کا دن قریب تھا اور ان کی بطور مہمان خوب ہری بھری گھاس سے خاطر ہوتی تھی، بچے بڑے سب ان کو ہاتھ سے چارا کھلاتے تھے، ہمارے تایا ابو کا سرکاری گھر ایک فارم ہاؤس کی طرح تھا، جب ہم باہر نکلتے تو مینڈک اچھل اچھل کر لان میں ادھر ادھر مستیاں کرتے تو ہمارے لئے یہ نظارہ نیا تھا اور ہم ڈر کر جلدی سے وہاں سے آگے بھاگ جاتے۔

دادی کے گھر میں آنے کے لئے لوگ پہلے فون نہیں کرتے بلکہ سیدھا آ جاتے کہ گاؤں میں لوگ تکلف سے بالاتر زندگیاں گزارتے ہیں جس کے کچھ فائدے اور کچھ نقصانات ہیں مگر لوگ سادہ اور پرخلوص ہیں کہ لوڈ شیڈنگ ہو جانے پر ایک ہی درخت کی چھاؤں تلے اکٹھے بیٹھ جاتے ہیں۔ گاؤں کے لوگوں کی اپنے مویشیوں کے لئے محبت دیدنی ہوتی ہے، اگر کوئی جانور بیمار ہو جائے تو ان کی جان پر بن جاتی ہے۔ اور جانور بھی اپنے مالک کو پہچانتے اور ان کو دیکھ کر مخصوص حرکات سے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پالتو جانوروں کا اپنے مالک سے محبت کا عدیم النظیر مظاہرہ حال ہی میں سعودی عرب میں دیکھا گیا۔ یہ واقعہ ایک اونٹنی کا ہے جسے اس کے پہلے مالک محمد بن شویشان السبیعی نے ایک دوسرے شخص کو فروخت کر دیا تھا۔ الشویشان نے بتایا کہ سات ماہ بعد اس نے اونٹوں کی ایک ریس میں شرکت کی۔ اس ریس میں الشیخ عبدالمحسن الراجحی نے مجھ سے خریدی گئی اونٹنی بھی شامل کر رکھی تھی۔

دوستوں نے بتایا کہ اونٹنی نے میری آواز سن کر مجھے پہچان لیا اور گاڑیوں کے بیچ میں سے نکلتے ہوئے میرے پاس آ پہنچی۔ اونٹنی نے اپنی لمبی گردن اٹھائی اور مجھے اس میں لپیٹ لیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ الشویشان کا کہنا تھا کہ ہم لوگ جانوروں کو صرف اپنی اغراض کے لیے پالتے ہیں۔ ان کے جذبات کا قطعی خیال نہیں رکھتے ہیں حالانکہ جانور بھی محبت کے جذبات رکھتے ہیں۔

ہمارے گاؤں میں کچھ مکان مٹی سے بنے تھے، ہم بہت حیران ہوئے، ایسے لگ رہا تھا، یہ اس کھیلنے والی مٹی (Playing Clay) سے بنے ہیں جو ہم کھیلنے کے لئے شاپنگ مال سے لاتے ہیں۔

پاپا کچھ دن پہلے اپنے پنجابی دوست شاہد شبیر جو کہ آج کل پنجابی روایت کے احیاء کے لئے سرگرم ہیں، سے باتیں کرتے کرتے اس قدر آبدیدہ ہو گئے کہ گھر کا سارا ماحول ناسٹالجک ہو گیا، پاپا اپنے دادا جو کہ گاؤں کے نمبردار تھے کے ڈیرے کے قصے، پگڑی کے انداز اور اس وقت کے رکھ رکھاؤ کو یاد کرنے لگے، اماں بھی وقت کی دھول میں کھوئی ہوئے رستوں اور کھو جانے والے قصوں کو اپنی شاعری میں یوں بیان کرنے لگیں:

پہلے ایسا ہوتا تھا
اب گھروں میں چڑیوں کا شور نہیں ہوتا ہے
رات کو کوئی الو پیڑ پر نہیں روتا ہے
لڑتے لڑتے چڑیاں بھی فرش پر نہیں گرتی ہیں
پہلے ایسا ہوتا تھا

بلبلیں بھی گاتی تھیں، مور ناچا کرتے تھے
صبح سویرے آنگن میں مرغ بانگ دیا کرتے تھے
گھر کے آنگن میں پرندے گھونسلے بناتے تھے
پہلے ایسا ہوتا تھا

گائے بھینس کا ریوڑ روز ہی گزرتا تھا
بیلوں کی گھنٹیوں سے سورج نکلا کرتا تھا
چوزوں کے شور سے پورب کا در کھلتا تھا
پہلے ایسا ہوتا تھا

پہلے تو درختوں پر گھونسلے بناتے تھے
فضاء سے لوٹ آنے پر پکھو ان میں سوتے تھے
رات کو بوڑھی دادیاں کہانیاں سناتی تھیں
پہلے ایسا ہوتا تھا

جب گلی میں کتوں کا شور سنائی دیتا تھا
ہم ڈر سے جاتے تھے،
ہم کو ڈرتے دیکھ کر نانا سینے سے لگاتے تھے
پہلے ایسا ہوتا تھا

اب تو نہ کوئی بلبل ہے اور نہ ہی کوئی مینا ہے
کس سے پوچھنے جائیں اب یہ بھی کوئی جینا ہے
اب گلی میں کوئی شجر بھی نہیں ہوتا
گرمیوں میں کوئی بھی چھت پر اب نہیں سوتا
پہلے ایسا ہوتا تھا

ان کہانیوں والی نانیاں بھی اب نہیں رہیں
چاہتوں بھری وہ کہانیاں بھی اب نہیں رہیں
اپنے بہت سارے ہیں چاہتیں اب نہیں رہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *