کورونا: اسلام آباد کی ایک 30 سالہ خاتون کو ویکسین لگنے کا معاملہ

سحر بلوچ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کورونا ویکسین

EPA

جمعرات کو پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں 70 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کے بیچ ایک 30 سالہ خاتون ثمر احمد کو کووڈ ویکسین لگا دی گئی ہے۔

یہ سوچا جا سکتا ہے کہ شاید ثمر ہیلتھ ورکر ہوں گی جنھیں عمر رسیدہ شہریوں کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر ویکسین لگائی جا رہی ہے، تاہم ایسا نہیں ہے۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا؟

ثمر احمد پیشے کے لحاظ سے پیسٹری شیف ہیں اور ان کی والدہ ڈاکٹر ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جب حکومت کی جانب سے فروری میں کورونا ویکسین کے لیے رجسٹر کروانے کو کہا گیا تو اُن کی والدہ نے خود کو رجسٹر کیا۔ ’میں نے سوچا میں بھی اپنی تفصیلات بھیج کر دیکھتی ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

سائنو فارم ویکسین کن افراد کے لیے موزوں نہیں ہے؟

کورونا ویکسین کے پیچھے ترک نژاد جوڑے کی کہانی

کورونا وائرس: کیا انڈیا پاکستان کو اپنے خرچے پر مفت ویکسین فراہم کرے گا؟

اس دوران ثمر نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کی ویب سائٹ پر اپنے کوائف کا اندراج کیا۔ تھوڑی دیر بعد تقریباً رات کے پونے دو بجے ثمر کو نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی طرف سے ویریفیکیشن کوڈ موصول ہوگیا۔

ثمر نے کہا کہ ’میرے لیے حیرانی کی بات تھی کیونکہ میرے 60 سالہ والد ابھی تک رجسٹر نہیں ہو پا رہے ہیں۔ اور مجھے ویریفیکیشن کوڈ تک موصول ہوگیا۔‘

نادرا کی طرف سے موصول ہونے والے اس پیغام میں ثمر کو بتایا گیا کہ وہ پمز ہسپتال یا کسی قریبی ویکسینیشن سینٹر جا کر خود کو کووڈ ویکسین لگوا سکتی ہیں۔

کورونا ویکسین

BBC

’لیکن میں نے اس کے باوجود اس لیے ویکسین نہیں لگوائی کیونکہ مجھے لگا کہ شاید مجھے غلطی سے میسج مل گیا ہے۔‘

دو ہفتے گزرنے کے بعد ثمر کو ان کی والدہ نے یاد دلایا کہ وہ ایک دفعہ ہسپتال جا کر دیکھ لیں کہ کیا صورتحال ہے۔ اگر کوڈ مل گیا ہے تو اس کے پیچھے کوئی بات ضرور ہوگی۔

پھر 18 مارچ کو ثمر اپنی والدہ کے ہمراہ صبح سوا آٹھ بجے پمز ہسپتال پہنچیں۔ پمز ہسپتال میں داخل ہوتے ہی اُنھیں موبائل فون پر موصول ہونے والا کوڈ دکھانے کو کہا گیا۔ ثمر نے کہا کہ اس دوران انھیں لگا کہ انھیں واپس جانے کا کہا جائے گا۔ ’لیکن اس کے برعکس نا صرف مجھے ٹوکن دے کر بیٹھنے کو کہا گیا بلکہ تھوڑی دیر بعد مجھے ویکسین بھی لگا دی گئی۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان سے کوئی سوالات پوچھے گئے یا شناختی کارڈ مانگا گیا؟ تو ثمر کا کہنا تھا کہ ’مجھ سے ویریفیکیشن کوڈ لینے کے بعد کچھ بھی نہیں پوچھا گیا۔ ہسپتال میں خاصی بِھیڑ تھی تو اس دوران عملے کی پہلی کوشش لوگوں کو موصول ہونے والے کوڈ لینے پر اور ان کو جلد از جلد فارغ کرنے پر تھی۔‘

نادرا سے تصدیق ہوچکی ہے تو ہمیں ویکسین لگانی ہے

اب یہی سوال جب پمز ہسپتال کے جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر منہاج السراج سے کیا گیا تو انھوں نے اس بات کی وضاحت کچھ یوں کی کہ وہ ہیلتھ کیئر ورکر ہوسکتی ہیں۔

لیکن جب انھیں بتایا گیا کہ وہ 30 سالہ پیسٹری شیف ہیں تو انھوں نے کہا کہ ’دیکھیں یہ جو کوڈ جنریٹ ہو رہے ہیں، یہ نادرا سے شناختی کارڈ کی تصدیق ہونے کے بعد ہو رہے ہیں۔ اس میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ جس کسی کے پاس بھی کوڈ ہے اور نادرا سے تصدیق ہوچکی ہے تو ہمیں ویکسین لگانی ہے۔ تو ایسے میں ہم کسی کی عمر کو لے کر مزید پوچھ گچھ نہیں کرسکتے۔‘

اسی سلسلے میں نادرا کے ترجمان فائق علی چاچڑ نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک تو وہ اور اُن کا عملہ خود کو رجسٹر نہیں کر پا رہے ہیں۔ ایسے میں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک 30 سالہ خاتون کو ویکسین لگا دی گئی ہو۔

انھوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ ’اگر ایسا کوئی بھی کیس ہوگا تو اس کی تفتیش کی جائے گی۔ اور اگر ایسا ہوا بھی ہے تو شاید ویب سائٹ پر ان کو ہیلتھ کیئر ورکر کے زمرے میں غلطی سے شامل کر لیا گیا ہو۔‘

اگر تھوڑا پیچھے جائیں تو رواں سال جنوری میں چینی ویکسین کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچی تھی جس کے بعد پہلے مرحلے میں سائنو فارم ویکسین صحت عامہ کے عملے سے منسلک افراد جیسے کہ ڈاکٹرز، نرسوں، اور ہسپتال کے عملے کو مفت لگائی گئی۔

اس دوران دو طریقوں سے رجسٹریشن کی جا رہی تھی۔ ایک طرف نادرا کو 1166 پر شناختی کارڈ کا نمبر بھیج کر اندراج کروایا جا سکتا تھا جبکہ اس دوران نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کی طرف سے عارضی طور پر ایک اضافی پورٹل بنایا گیا تھا اور اس کا ویب لنک شئیر کیا گیا تھا تاکہ صرف نادرا پر بوجھ نہ پڑے۔

کورونا ویکسین

EPA

اس ویب لنک کو استعمال کرتے ہوئے ہیلتھ ورکرز خود کو رجسٹر کر سکتے تھے۔ اسی لنک کو استعمال کرتے ہوئے ثمر نے بھی خود کو ’دیگر‘ کے خانے میں درج کروایا تھا۔ جس کے بعد انھیں نادرا کا کوڈ موصول ہوا۔

ویب لنک کی تصدیق کرتے ہوئے شباہت علی شاہ نے بتایا کہ ’این آئی ٹی بی نے اس وقت ایک عارضی لنک بالکل بنایا تھا اور وہ ہیلتھ کیئر ورکرز کی آسانی کے لیے بنایا گیا تھا۔ لیکن یہ لنک عارضی طور پر ہونے کی وجہ سے ہم نے اسے بعد میں بند کر کے نادرا کے ساتھ ایک لنک کی شکل میں کر لیا تاکہ ایک ہی جگہ سے رجسٹریشن ہوسکے۔‘

دوسری جانب جن عمر رسیدہ افراد کو ویکسین لگائی گئی ہے ان کو ابھی اس کی تصدیق کے لیے ویکسینیشن کارڈ نہیں دیے گئے ہیں۔ اسی طرح ثمر کو بھی ابھی تک ویکسینیشن کارڈ نہیں موصول ہوا ہے۔

‘مجھے ویکسین لگنے کے بعد 21 دن کے بعد دوسرے ڈوز کے لیے واپس بلایا گیا ہے۔‘ اُنھوں نے بتایا کہ اس دوران جب دوسرا ڈوز لگ جائے گا تب اُنھیں ویکسین کارڈ دیا جائے گا کہ ’میں نے تمام خوراکیں پوری کر لی ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18520 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp