فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹا کی سروس میں تعطل: ’پانچ منٹ میں سو بار اپنا فون ری سٹارٹ کر چکا ہوں‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


Logos for WhatsApp, Messenger and Instagram

BBC

جمعے کی شام دنیا بھر میں سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد بیک وقت یا تو اپنے فون یا پھر وائی کے ساتھ الجھتی نظر آئی، دنیا بھر میں گویا کسی اجتماعی سرگرمی کی طرح پھیلی اس بے چینی وجہ کچھ دیر بعد صارفین کو اس وقت سمجھ آئی جب اکثریت نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر کا رخ کیا۔ وہاں معلوم ہوا مسئلہ فون یا انٹرنیٹ کنکشن میں نہیں بلکہ سماجی رابطوں کے تین بڑے پلیٹ فارمز فیس بک، انسٹا گرام اور واٹس ایپ نے کام کرنا چھوڑ دیا۔

اس موقع پر فیس بک نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا ’ہم جانتے ہیں کہ کچھ لوگوں کو ہماری ایپس پر پیغامات، تصاویر، ویڈیوز اور دیگر فائلز بھیجنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ہم اس دقّت کے لیے معذرت خواہ ہیں اور ہم جلد از جلد چیزوں کو معمول کے مطابق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ‘

اگرچہ سروسز بحال کی جا چکی ہںی تاہم اس کی وجہ کے بارے میں تاحال کچھ نہیں بتایا گیا۔

تکنیکی خرابی پیش آنے سے متعلق فیس بک کے اس اعتراف کے بعد کئی صارفین نے اپنے جھنجھلاہٹ اور بوکھلاہٹ کا اعتراف کرتے ہوئے کچھ دلچسپ تبصرے کیے۔

انہی میں سے ایک سریش پیلانیا کا کہنا تھا ’میں پچھلے پانچ منٹ میں سو بار اپنا فون ری سٹارٹ کر چکا ہوں اور مجھے علم نہیں تھا کہ دراصل واٹس ایپ اور انسٹا گرام ہی کریش ہو گئے تھے۔ ‘

واٹس ایپ اگرچہ اب بحال ہو چکا ہے اور کئی صارفین سوشل میڈیا پر اپنے اطمینان کا اظہار بھی کر چکے ہیں تاہم واٹس ایپ کے آفیشل اکاؤنٹ سے صارفین کا شکریہ ادا کیا اور کہا گیا ’آپ کے تحمل کا شکریہ، یہ طویل 45 منٹ تھے لیکن اب ہم واپس لوٹ چکے ہیں۔‘

سوشل میڈیا کی لت اور لوگوں کی جانب سے ان ایپس کے ہمہ وقت استعمال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا رہا ہے کہ نہ صرف صارفین نے ان ایپس کی بندش کی کھوج لگانے کے لیے دوسری ایپس کا رخ کیا بلکہ اپنے رابطوں میں تعطل پر ناراضی کا اظہار کرتے بھی نظر آئے۔

یہ تلاش اور خفگی ٹوئٹر پر دلچسپ میمز کی شکل میں دیکھنے کو ملی۔ دیکھتے ہیں دیکھتے فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور مارک زکربرگ ٹرینڈ کرنے لگے۔

رابطوں میں تعطل پر ایک صارف ایان خان نے لکھا ’واٹس ایپ، انسٹا، فیس بک کے صارفین مارک زکربرگ سے ’سارا موڈ خراب کر دیا۔‘

اتنے بڑے پیمانے پر اور اتنی دیر تک بڑی ایپس کا بند رہنا یقینا کوئی معمولی بات نہیں اور اس وقت جو انسان سب سے زیادہ بے چینی کا شکار ہوں گے وہ یقینا ان ایپس کے مالک اور کمپنی کے سی ای او مارک زکربرگ ہیں۔

کئی صارفین میمز کے ذریعے ان کی موجودہ کیفیت کی ترجمانی کرتے نظر آئے۔

ایک صارف محمد حذیفہ کا کہنا تھا ’واٹس ایپ فیس بک انٹسا گرام 50 منٹ کے لیے بند ہوئے، اس موضوع پر 24 گھنٹے تک بات ہو گی۔ اور مارک زکربرگ کو ساری عمر اس بات کے طعنے ملیں گے۔‘

اسی افرا تفری میں کئی سوشل میڈیا صارفین ایسے بھی ہیں جنہیں اس سارے معاملے کی خبر تک نہ ہوئی اور انہیں اس کا علم ٹرینڈ کرتے ناموں سے ہوا۔

انہی کا ذکر کرتے ہوئے طیب شاہ نامی صارف کا کہنا تھا ’اصل لیجنڈ تو وہ ہیں جنہیں واٹس ایپ اور انسٹا کے معاملے کا پتا نہیں چلا اور وہ فون ری سٹارٹ کرنے پر لگے ہیں۔‘

ایسے میں جب تینوں مقبول سوشل پلیٹ فارم بند تھے تو سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر صارفین کی سرگرمی بہت زیادہ ہو گئی۔

کچھ کھوج میں تو کچھ رابطے بحال کرنے کے لیے ٹوئٹر کا رخ کرتے نظر آئے۔ فیس بک اور واٹس ایپ صارفین کا ٹوئٹر استعمال کرنا گویا میمز بنانے والوں کے لیے ایک دلچسپ موضوع بن گیا۔

ایسی ایسی میمز بننے لگیں کہ جس سے طاہر ہوتا تھا کہ واٹس ایپ اور فیس بک کے معطل ہونے سے ٹوئٹر بہت خوش ہے۔

ایسی ہی ایک میمز افرا نامی صارف سے شیئر کی جس میں جشن مناتے لوگ دکھائی دے رہے ہی اور ساتھ لکھا ہے ’واٹس ایپ اور انسٹا کا سرور ڈاؤن ہو گیا۔ اور اس دوران ٹوئٹر ہیڈ کوراٹر کا منظر‘

اسی طرح لوگوں سے کچھا کچھ اندر باہر سے بھری ٹرین کی ایک تصویر کے ساتھ ایک ٹوئٹر اکاونٹ سے لکھا گیا کہ ’سب لوگ ٹوئٹر کی طرف جا رہے ہیں جبکہ مارک زکربرگ نے انسٹا گرام، فیس بک اور واٹس ایپ کا سرور بند کر دیا۔‘

اسی طرح ایک کرس نامی صارف نے ایک میم ٹویٹ کی جس میں تین پینگوئنز کو چکراتے دکھاتے گیا ہے جن پر انسٹا گرام، فیس بک اور واٹس ایپ کے نام لکھے ہیں جبکہ ایک پینگوئن تن کر چلتا ہوا دکھائی دیتا ہے جس پر ٹوئٹر کا نام لکھا ہے۔

اگرچہ یہ سماجی رابطے کی ایپس بحال ہوچکی ہیں لیکن اب بھی ان کے نام اور مارک زکربرگ ٹرینڈ کر رہے ہیں اور اب لوگوں کے پھر سے انہی ایپس پر لوٹ جانے کی ٹویٹس اور میمز گردش میں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18469 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp