سری لنکا کے ’بے بی فارمز‘ جہاں یورپی جوڑے معمولی رقم دے کر بچے گود لے لیتے

سروج پاتھی رانا - بی بی سی ورلڈ سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سری لنکا، ماں، بچے، گود

Handout
یساوتی کو اپنے بچے کی تصویر موصول ہوئی جسے گود لیا گیا تھا، اب وہ ان سے ملنے کے لیے بےتاب ہیں

سری لنکا کے ہزاروں بچوں کو سنہ 1960 اور سنہ 1980 کے دہائیوں کے دوران یورپی والدین نے گود لیا تھا۔ مگر ان میں سے کچھ کو ‘بچوں کے فارمز’ کے ذریعے یورپ بھر کے والدین کو فروخت کیا گیا تھا۔

ہالینڈ، جہاں کے والدین نے ان میں سے بہت سارے بچوں کو گود لیا تھا، نے حال ہی میں زبردستی اور رشوت ستانی کے تاریخی الزامات کے بعد دیگر ممالک سے بچوں کو گود لینے کا سلسلہ معطل کردیا ہے۔

اس تفتیش سے ان خاندانوں کو امید ملی ہے جن کے بچے ان سے بچھڑ گئے تھے۔

اندیکا واڈج کو یاد ہے کہ ایک سرخ کار میں ان کی والدہ اور بہن نیلانتی ان کی آنکھوں کے سامنے روانہ ہوئے تھے۔ وہ اور ان کی دوسری بہن دامیانتی گھر پر ہی تھے اور اپنی والدہ کے واپس آنے کا انتظار کرتے رہے۔ جب اگلے دن وہ واپس آئیں تو وہ اکیلی تھیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ‘جب ہم نے ایک دوسرے کو الوداع کہا تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ نیلانتی بیرون ملک جانے والی ہے یا یہ آخری بار تھا جب ہم ایک دوسرے کو دیکھیں گے۔’

یہ بھی پڑھیے

نیروبی کی بلیک مارکیٹ جہاں بچوں کو 300 پاؤنڈ میں بیچا جا رہا ہے

ایک ماں کی ایسی مجبوری کہ وہ بچے کو چند ہزار روپوں میں بیچنے پر آمادہ ہوگئی

جسم فروشی: ایک ’روحانی‘ حلف ہے جو عورتوں کو اپنے سمگلروں کے نام لینے سے روکتا ہے

یہ یا تو 1985 یا 1986 کی بات ہے جب اندیکا کے والد ان کی والدہ سوماوتی کو چھوڑ کر چلے گئے تھے اور ان کی والدہ کو خود تین بچوں کی پرورش کرنا پڑی۔

اس دوران اس خاندان نے زندہ رہنے کی جدوجہد کی۔ انھیں یاد ہے کہ ایک شخص کے ذریعے ان کی والدہ نے ان کی بہن نیلانتی کو گود لیے جانے کے لیے رابطہ کیا۔ ان کی والدہ نے اپنی چار یا پانچ سالہ بیٹی نیلانتی کو ایک غیر ملکی جوڑے کو دے دیا تھا۔

اندیکا واڈج

Indika Waduge
اندیکا واڈج کا کہنا ہے کہ انھیں یاد ہے کہ وہ کسی ‘بیبی فارم’ پر گئے جہاں مائیں فرش پر بچھی چٹائیوں پر سو رہی تھیں

اندیکا کا کہنا ہے کہ یہ شخص دارالحکومت کولمبو کے نواحی علاقے کوٹھا ہینا میں ’بے بی فارم‘ کا ایجنٹ تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عدالت میں ایک خاتون اہلکار اور اس کا شوہر دونوں غیر ملکی والدین کے لیے بچے گود لینے کا انتظام کرتے تھے، خاص طور پر ہالینڈ سے آنے والے جوڑوں کے لیے۔

بیٹے کا کہنا ہے کہ سوماوتھی جانتی تھیں کہ یہ ایک ایسا مرکز تھا جس نے بچوں کو کاروبار کے طور پر گود لینے کا بندوبست کیا ہوا تھا۔ لیکن اس وقت انھیں لگا کہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ انھیں سری لنکا کے تقریباً 1500 روپے (اس وقت کے تقریباً 55 ڈالرز) ادا کیے گئے تھے۔

اندیکا کا کہنا ہے کہ ‘اُنھوں نے یہ کام اس لیے کیا کہ وہ ہم تینوں کو کھانا نہیں کھلا سکتی تھیں۔ میں اُن پر کوئی الزام نہیں لگاتا۔’

اندیکا کو نیلانتی کو گود دیے جانے سے پہلے اُنھیں اپنے دونوں والدین کے ساتھ بے بی فارم میں جانا یاد ہے، حالانکہ وہ اس کی وجہ یاد نہیں کرسکتے۔ وہ ایک دو منزلہ مکان بیان کرتے ہیں جہاں متعدد مائیں بچوں کے ساتھ فرش پر چٹائیوں پر سو رہی تھیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘یہ ایک گندی سی کچی آبادی تھی، یہ ہسپتال کے ہال کی مانند تھا۔ اب میں سمجھ گیا ہوں کہ یہ بے بی فارم تھا۔ وہ ماؤں کی دیکھ بھال کرتے یہاں تک کہ وہ بچے پیدا کرواتے اور پھر ان نومولود بچوں کو فروخت کر دیتے۔ وہ وہاں ایک منافع بخش کاروبار کر رہے تھے۔’

Panikkarge Somawathie

Handout
پانی کارجے سوماوتی نے اپنی بیٹی کسی اور کو گود لینے کے لیے اپنے سے جدا کردی تھی

کچھ سال بعد ریاست کے خلاف ‘جناتھا وموکتی پیرامونا’ (پیپلز لبریشن فرنٹ) کی بغاوت کے دوران، تقریباً 60 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ اندیکا کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک بے بی فارم کا ایجنٹ تھا جسے اپنی کار میں جلا کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘سارے میڈیا’ میں یہ خبر آئی تھی، اور جب انھوں نے گاڑی کی تصویر دیکھی تو انھیں معلوم تھا کہ وہ بھی وہی شخص تھا جو اس کی بہن کو کار میں لے گیا تھا۔

بیالیس برس کے اندیکا کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ علیل ہیں اور وہ نیلانتی کو ڈھونڈنے کی شدت سے کوشش کر رہی ہیں، جن کا خیال ہے کہ وہ ہالینڈ یا آسٹریا میں رہائش پذیر ہیں، لیکن ان کے پاس اس کی ایک بھی تصویر نہیں ہے۔

‘میری والدہ 63 برس کی ہیں۔ ان کی واحد امید مرنے سے پہلے اپنی اس بیٹی کو دیکھنا ہے جسے انھوں نے دے دیا تھا۔ لہٰذا میں اپنی والدہ کی خواہش پوری کرنے کے لیے یہ تگ و دو کر رہا ہوں۔’

یہ بہت سی ماؤں کی مشترکہ خواہش ہے جو محسوس کرتی ہیں کہ انھیں اپنے بچوں سے مجبوراً دور ہونا پڑا۔

رانا ویرا اراچّھی لاج یساوتی کا اصرار ہے کہ ان کا اپنا بچہ بیچنے کا ’کوئی ارادہ نہیں تھا‘، لیکن اسے اپنے سے اس لیے جدا کیا کیونکہ وہ ایک ’غیر شادی شدہ ماں بن کر اس معاشرے میں رہ نہیں سکتی تھی۔‘

‘اُن حالات میں میں سب سے بہتر یہی فیصلہ لے سکتی تھی، لیکن یہ بہت تکلیف دہ فیصلہ تھا۔ میں نے اپنے بارے میں نہیں، بلکہ اپنے بچے کے بارے میں سوچا تھا۔ میں اس کی دیکھ بھال کرنے کی حالت میں نہیں تھی۔ اور میں معاشرے کے رد عمل سے خوفزدہ تھی۔’

یساواتی

Handout
یساوتی ایک سکول کی طالبہ تھیں جب اُنھیں ایک شخص سے محبت ہو گئی اور اس کے بعد وہ حاملہ ہوگئیں

سری لنکا ایک قدامت پسند معاشرہ ہے جس میں زیادہ تر سنہالی اور بودھ مت کے ماننے والے شہری شامل ہیں۔ شادی سے پہلے جنسی تعلقات اس وقت بھی ممنوع بات تھی اور اب بھی یہی حالت ہے، اور اسقاط حمل کروانا غیر قانونی ہے۔

یساوتی 17 سال کی عمر میں ایک بڑی عمر کے مرد کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے حاملہ ہوگئی تھی۔ انھیں 1983 میں سکول کے زمانے میں اُس سے محبت ہوگئی تھی۔ ان تعلقات پر اپنے بڑے بھائیوں کی مخالفت کے باوجود، وہ اپنے ‘بوائے فرینڈ’ کے گھر رہنے کے لیے چلی گئیں، حالانکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ اُس کے ساتھ ‘جانے کی خواہشمند نہیں تھیں۔ ’میں اُس وقت کم سن اور کمزور تھی۔’

وہ کہتی ہیں کہ شروع شروع میں تو وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا رہا، لیکن اس کا طرز عمل تبدیل ہونے لگا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کے تو دیگر عورتوں کے ساتھ بھی تعلقات ہیں۔

چھ یا سات مہینوں کے بعد وہ اسے واپس اپنے خاندان پہنچا کر خود غائب ہوگیا۔ جب اُن کے بھائیوں اور بہنوں کو معلوم ہوا کہ وہ دو ماہ کی حاملہ ہیں تو انھوں نے اُنھیں گھر سے نکال دیا۔

A photo of Jagath before his adoption

Handout
جگت 24 دسمبر سنہ 1984 کو پیدا ہوئے تھے

مایوسی کے عالم میں یساوتی نے مقامی شادی بیاہ کے رجسٹرار سے مدد کے لیے رابطہ کیا۔ جب پیدائش کا وقت آیا تو رجسٹرار نے اسے رتن پورہ شہر میں ایک ہسپتال کے ملازم سے ملوایا جس نے یساوتی کے بیٹے جگت راٹھنائکا کو گود لینے کا انتظام کروایا۔ وہ 24 دسمبر 1984 کو پیدا ہوا تھا۔

‘جب میں نے جنم دیا تو کوئی بھی میری نگہداشت کرنے والا نہیں تھا۔ میں تقریباً دو ہفتوں سے ہسپتال میں تھی اور پھر مجھے کولمبو میں ایک یتیم خانے جیسی جگہ لے جایا گیا تھا۔ مجھے اس کی تفصیلات یا یہ کہ وہ کہاں واقع تھا بالکل یاد نہیں ہے۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ ’وہاں میرے بچے جیسے چار یا پانچ اور بچے بھی تھے۔’

‘وہیں ایک سفید فام جوڑے نے میرے بیٹے کو گود لیا لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں سے آئے تھے۔ مجھے سری لنکا کے 2000 روپے (1983 میں تقریباً 85 ڈالر) اور گھر لے جانے کے لیے کپڑوں کا ایک بیگ دیا گیا۔ بس اتنا ہی مجھے ملا۔’

‘میں نے بہت نقصان اٹھایا۔ میں نے خود کُشی کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔’

Yasawathie in front of her house

BBC
یساوتی کہتی ہیں کہ اُن کی ایک ہی خواہش ہے کہ وہ مرنے سے پہلے اپنے بیٹے کو دیکھ لیں

کچھ مہینوں کے بعد اُن کو ایمسٹرڈیم کے ایک جوڑے کی طرف سے ایک خط موصول ہوا جس میں اُن کے بیٹے کی تصویر تھی۔

‘میں انگریزی نہیں پڑھ سکتی اور نہ بول سکتی ہوں۔ انگریزی زبان جاننے والے کسی واقف نے مجھے بتایا کہ اُنھوں نے کہا ہے کہ میرا بیٹا ٹھیک ہے۔ گود لینے والے والدین نے بھی انھیں اپنا بچہ دینے پر اظہار تشکر کیا تھا۔ اس کے بعد مجھے اپنے بیٹے کے بارے میں کبھی کوئی اطلاع نہیں ملی۔’

یساوتی جو گوڈ کاویلا کے دیہی قصبے میں رہتی ہیں، نے بعد میں شادی کرلی اور ان کا ایک دوسرا بیٹا اور دو بیٹیاں تھیں۔ 56 برس کی ان خاتون کا کہنا ہے کہ نہ جانے ان کا پہلا بیٹا کہاں ہے لیکن ان کے دل میں قلق رہ گیا ہے۔ تاہم اب بھی وہ اس پر پریشان ہیں کہ اسے تلاش کرنا سری لنکن معاشرے میں اس کے لیے مسائل پیدا کرے گا۔

وہ لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں کہتی ہیں کہ ‘جب بھی میں کسی سفید فام عورت کو دیکھتی ہوں تو میں اس سے یہ پوچھتی ہوں کہ آیا اسے میرے بیٹے کے بارے میں کچھ پتا ہے۔ میں آج بہت بے بس ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’جو مجھ پر بیتی ہے وہ کسی اور پر نہ گزرے۔ میری صرف خواہش ہے کہ میں مرنے سے پہلے اپنے پہلے بیٹے کو ایک مرتبہ دیکھ لوں۔’

Kotahena

BBC
اندیکا واڈج کہتے ہیں کہ انھیں یہ یاد ہے کہ وہ کوٹھا ہینا کے مضافات میں ایک بیبی فارم گئے تھے

سنہ 2017 میں سری لنکا کے وزیر صحت نے ہالینڈ کے ایک حالاتِ حاضرہ کے پروگرام میں یہ تسلیم کیا کہ سنہ 1980 کی دہائی میں ہزاروں بچوں کو بیرون ملک گود لینے کے لیے غیر قانونی طریقے سے فروخت کیا گیا تھا۔

ہوسکتا ہے کہ گیارہ ہزار تک کی تعداد میں سری لنکا کے بچوں کو یورپی خاندانوں کو فروخت کیا گیا ہو۔ دونوں فریقوں، یعنی بچہ فروخت کرنے والی ماں اور بچہ گود لینے والے جوڑے، کو جعلی دستاویزات دی گئیں تھیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ہالینڈ میں تقریباً 4000 بچوں کو مختلف خاندانوں نے گود لیا، باقی بچوں کو دوسرے یورپی ممالک، جیسے سویڈن، ڈنمارک، جرمنی اور برطانیہ میں مختلف خاندانوں نے گود لیا۔

مبینہ طور پر کچھ بچے ‘بے بی فارمز’ میں پیدا ہوئے تھے جنھوں نے بچوں کو مغرب میں فروخت کردیا تھا، جس کے نتیجے میں سری لنکا کے حکام نے غیر ملکی افراد کی جانب سے بچے گود لینے پر سنہ 1987 میں عارضی پابندی عائد کردی تھی۔

تھریدی فونسیکا جنھوں نے 15 سال سے زیادہ عرصے تک گود لیے گئے بچوں کے معاملات پر تحقیق کی، کا کہنا ہے کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ کچھ بااثر اور طاقتور افراد مایوس خواتین کی ضروریات پوری کر کے کافی رقم بناتے رہے ہیں۔

سری لنکا میں ایک سیاحتی رہنما اینڈریو سِلوا کے مطابق، ہسپتال کے ملازمین، وکلا اور پروبیشن افسروں، غرض کہ سب نے فائدہ اٹھایا۔ سِلوا نے گود لیے گئے 165 بچوں کو ان کی ماؤں سے دوبارہ ملوانے میں مدد کی ہے۔

انھوں نے سنہ 2000 میں اُس وقت لوگوں کی مدد کرنا شروع کی جب ہالینڈ کے ایک شہری نے فٹ بال ٹیم کی کچھ کٹس عطیہ کیں۔ وہ دوست بن گئے اور ہالینڈ کے اس شخص نے اینڈریو سے پوچھا کہ کیا وہ ہالینڈ میں اپنے کچھ دوستوں کی انھیں پیدا کرنے والی ماؤں کی تلاش میں مدد کرسکتے ہیں؟ تب سے سری لنکن ماؤں سے ان کے ذریعے سے رابطہ کیا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘میں نے کچھ ماؤں سے سنا ہے کہ ہسپتال کے کچھ ملازمین ان بچوں کو بیچنے کے کام میں ملوث تھے۔ یہ ملازمین ایسی کمزور اور کم سن ماؤں کی تلاش کرتے تھے جو اپنے بچوں کے لیے بہتر گھر تلاش کرنا چا رہی تھیں اور یہ ان ماؤں کی ‘مدد’ کر رہے تھے۔’

‘کچھ ماؤں نے مجھے بتایا کہ چند وکیل اور عدالتی عہدیدار بچوں کو کچھ جگہوں پر چھپا کر رکھتے جب تک کہ ان میں سے کوئی ایک گود لینے کے احکامات جاری کرنے کے لیے مجسٹریٹ نہ بن جائے۔’

Andrew Silva with Sumithra

BBC
اینڈریو سلوا (بائیں جانب) اب ان ماؤں کے بچوں کی تلاش میں ان کی مدد کرتے ہیں جنھیں دوسرے والدین کو دے دیا گیا تھا

یہاں ایسی کمزور اور مظلوم عورتوں کی کہانیوں میں یہ خیال کہ با اثر افراد بچوں گود لینے کے سکینڈل میں شامل تھے کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔

جب سنہ 1981 میں کریاپےروما اتھوکورالے ڈان سومترا اپنے تیسرے بچے سے حاملہ ہوئی تھیں تو انھیں اور ان کے شوہر کو معلوم تھا کہ وہ اسے نہیں رکھ سکتے۔ تب اُنھوں نے کولمبو میں ایک مقامی پادری کی طرف رجوع کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ اس نے نومبر میں پیدا ہونے والے اُس کے بچے کو گود لینے کا اہتمام کیا تھا، اور انھیں سری لنکن 50 ہزار روپے (اس وقت تقریباً 2600 ڈالر) ادا کیے گئے تھے۔ لیکن انھیں کوئی دستاویز نہیں دی گئی تھی۔

سومترا کہتی ہیں کہ ‘ہمارے پاس رہنے کے لیے کہیں بھی کوئی جگہ نہیں تھی اور نہ ہی کوئی خاص آمدنی تھی۔ ہم نے مل کر اپنی بیٹی کو اپنے سے جدا کرنے کا فیصلہ کیا، وہ تقریباً دو یا تین ہفتوں کی تھی۔’

‘جب میں نے پادری سے پوچھا تو وہ ہمیشہ کہتا، ‘فکر نہ کرو، آپ کا بچہ ٹھیک ہے، لیکن میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا ہوں۔’

اس کے بعد سومترا کا ایک اور بیٹا پیدا ہوا تھا لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کا اپنی بیٹی کے بارے میں سوچنا اس کو مسلسل تکلیف دیتا ہے۔ کڈوئیلا میں رہائش پذیر 65 برس کی سومترا شدت سے اپنے بچے سے ملنا چاہتی ہیں، لیکن وہ سیلاب کے دوران اپنے پاس موجود صرف چند تصاویر بھی کھو بیٹھی تھیں اور اُن کے پاس اب پادری سے رابطے کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔

‘میری دوسری بیٹی مجھ سے کہتی ہے ، ‘چلیں اور اس پادری کو ڈھونڈیں۔ میری صرف ایک گزارش ہے کہ براہ کرم مجھے میری بیٹی کی تلاش میں مدد دیں۔’

اینڈریو سلوا نے سومترا کی مدد کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اب تک ان کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی تلاش میں اکثر رکاوٹ پیدا ہوتی ہے کیونکہ ان عورتوں کو جعلی دستاویزات اور غلط تفصیلات دی گئیں تھیں۔

گود لینے والے بچے اکثر اپنے اصل والدین کا سراغ لگانے میں اتنی ہی مشکل محسوس کرتے ہیں اور یہاں تک کہ اگر وہ کامیاب بھی ہوجاتے ہیں تو اس کا نتیجہ دل دہلا دینے والا ہوسکتا ہے۔

Nimal Samantha (R) with his twin brother, Djoeri Sanjeewa, and their adopted mother

Handout
نِمل سیمنتھا (دائیں جانب) اپنے جڑواں بھائی جوری سنجیوا اور اپنی ماں کے ساتھ جس نے انھیں گود لایا

نمل سیمنتھا وان اورٹ نے سنہ 2001 میں پہلی بار سری لنکا کا دورہ کیا تو اُنھوں نے ٹریول ایجنسی کے ایک ایسے شخص سے ملاقات کی جس نے اس ماں کو تلاش کرنے میں مدد کی پیشکش کی جس نے اسے اور اس کے جڑواں بھائی کو چھ ہفتے کی عمر میں گود لینے کے لیے سنہ 1984 میں اس کے حوالے کردیا تھا۔

سنہ 2003 میں اس شخص کا فون آیا کہ اُسے ایسا خاندان مل گیا ہے جس نے اپنے نومولود بچے کو گود لینے کے لیے کی کو دے دیا تھا، لیکن یہ اچھی خبر نہیں ہے۔ جڑواں بچوں کی ماں بیٹی کی پیدائش کے تین ماہ بعد سنہ 1986 میں مر گئی تھیں۔

نمل کا کہنا ہے کہ ‘یہ میری اور میرے بھائی کی زندگی کا تاریک ترین لمحہ تھا۔ میں نے ہمیشہ یہ جاننا چاہا کہ وہ کیسی ہیں اور ایسی کیا وجہ تھی کہ اُنھوں نے مجھے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ ایک عورت تھی جس نے مجھے جان دی تھی۔’

‘میرے لیے یہ جاننا سب سے اہم تھا کہ آیا اُنھوں نے میرے ساتھ اچھا سلوک کیا تھا۔’

Nimal Samantha as a schoolboy

Handout
نمل کے مطابق جب انھیں معلوم ہوا کہ ان کی اصل والدہ مر چکی ہیں تو وہ کافی افسردہ ہوئے

بعد میں نمل نے سری لنکا کے ایک گود لینے والے گروپ کے ساتھ نونا فاؤنڈیشن کے نام سے ایک غیر منافع بخش تنظیم قائم کرنے میں مدد دی۔ اس نے اب تک 1600 لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کے اخراجات کی ادائیگی کے ذریعے مدد کی ہے جو سری لنکا میں یتیم خانوں، رہائش کے متاثرین کی مالی امداد اور جنسی تشدد اور انسانی سمگلنگ کا شکار ہوئیں۔

ستمبر میں نمل کو ایک فاؤنڈیشن بورڈ کے اجلاس میں شاہی نمائندے کے اچانک دورے کے دوران اس سماجی کام کے لیے نائٹ کا خطاب دیا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘یہ ایک صدمہ تھا، لیکن یہ ایک بڑا اعزاز بھی تھا اور بہت اچھی پہچان بھی۔’

نمل سیمنتھا کا خیال ہے کہ ہالینڈ کی حکومت کا بیرون ملک سے بچے گود لینے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ‘بہترین حل نہیں’ ہے۔

تاہم حکام نے متنبہ کیا ہے کہ دو سال کی تحقیقات کے بعد ہالینڈ کے بچے گود لینے کا نظام اب بھی دھوکہ دہی کا شکار ہے جس میں سنہ 1967 سے سنہ 1997 تک سری لنکا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، برازیل اور کولمبیا سمیت کئی دیگر ممالک سے بچوں کو گود لینے کے عمل میں ‘سنگین بے قاعدگیاں’ پائی گئی تھیں۔

Nimal Samantha Van Oort was awared the Knight of the Order of Orange-Nassau during the NONA Foundation's 15th anniversary celebration held in the Netherlands

Nona Foundation
نمل سمنتھا کی بنائی گئی تنظیم کی 15ویں سالگرہ کے موقع پر انھیں نائٹ کا خطاب دیا گیا

اگرچہ گود لینے کی دھوکہ دہی اور اس کی خفیہ نوعیت نے اکثر رشتے داروں کا سراغ لگانا مشکل بنا دیا ہے، لیکن اس میں کچھ اچھی باتیں بھی ہوئی ہیں۔

سانُول وِلمر 27 فروری 1984 کو کولمبو میں پیدا ہوئے۔ وہ دس ماہ کی عمر میں، غیر قانونی طور پر گود لیے جانے سے قبل، دیہ والا قصبے میں ایک یتیم خانے میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘میں جانتا تھا کہ میں بچپن سے ہی گود لیا ہوا بچہ ہوں۔ لہٰذا میں ہمیشہ اپنے اصل والدین سے ملنا چاہتا تھا۔’

‘میں نے ہمیشہ اپنے اندر اپنی شناخت کے بحران کو محسوس کیا۔ میں کون ہوں؟ دیکھنے میں سری لنکن ہوں، لیکن اپنی پرورش کی وجہ سے میں ایک ہالینڈ کا شہری ہوں۔ مجھے ہمیشہ اپنی ابتدا کے بارے میں جاننے کی دلچسپی رہتی تھی۔’

جب ان کی عمر آٹھ برس تھی تو انھوں نے اپنے اصل والدین کو تلاش کرنے میں مدد کے لیے ہالینڈ میں بچے گود لینے والی ایجنسی کو لکھنا شروع کیا۔ آخرکار انھیں 15 برس کی عمر میں جواب ملا اور یہ ایجنسی ان کی والدہ کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوئی، جن سے ان کی ملاقت اگلے ہی سال ہوگئی۔

سانُول کہتے ہیں کہ ’مجھے پتا چلا کہ میری ایک بہن اور ایک بھائی بھی ہے اور یہ کہ میرے والد ابھی بھی اپنی والدہ کے ساتھ ہیں۔ ہم سب ہورانا میں اپنے خاندان سے ملنے گئے تھے جو ایک ہی وقت میں بہت ہی دلچسپ، جذباتی اور افسردہ لمحہ تھا۔’

‘مجھے ان سے مل کر خوشی ہوئی لیکن مجھے افسوس ہوا کہ میں ان سے بات نہیں کر سکتا تھا کیونکہ میں یہ زبان نہیں بولتا تھا اور وہ انگریزی نہیں سمجھتے تھے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی میری زندگی سے کتنی مختلف تھی۔’

وہ ایمسٹرڈیم کی ایک یونیورسٹی کے میڈیکل سینٹر میں ایسوسی ایٹ فزیشن ہیں اور ان کی عمر اب 37 برس ہے۔ وہ اب یہ زبان سیکھ چکے ہیں اور اپنے جیسے گود لیے گئے بچوں کو بھی یہ زبان سکھا رہے ہیں۔

ان کی والدہ نے انھیں بتایا کہ انھوں نے کیوں اپنا بچہ کسی اور کو دیا وہ اسے تکلیف دینے کے ڈر سے یہ وجہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی۔

سانول کا کہنا ہے کہ وہ ان سے کوئی بدگمانی نہیں رکھتے اور سری لنکا میں باقاعدگی سے ان کی عیادت کے لیے جاتے ہیں۔ جبکہ ان کی والدہ اور چھوٹا بھائی ان کی شادی میں بھی شریک ہوچکے ہیں۔

‘میں ایک خوش آدمی ہوں کیونکہ مجھے پتا چلا کہ میرا ایک بھائی اور بہن بھی ہے۔’

Sanul with the birth mother at his wedding

Handout
سانول شکر گزار ہیں کہ وہ اپنی اصل ماں کی تلاش میں کامیاب رہے۔ ان کی والدہ ان کی شادی میں بھی شریک ہوئی تھیں

ہالینڈ کی حکومت نے فروری میں انکشاف کیا تھا کہ اس کے اہلکار برسوں سے ان غیر قانونی کاموں سے آگاہ تھے لیکن وہ مداخلت نہیں کرتے تھے۔ حکومت نے حال ہی میں کہا تھا کہ آئندہ کابینہ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ بیرون ملک گود لیے جانے کے بارے میں نئی حکمت عملی کیا ہوگی۔

سری لنکا کی کابینہ کے شریک ترجمان، وزیر کیہیلیا رام بکویلا نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 1980 کی دہائی کے آخر میں سری لنکا میں جو غیرقانونی طور پر بچے گود لیے گئے تھے وہ ‘سیاحت کی آڑ میں’ لیے گئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ وہ کابینہ کے اگلے اجلاس میں ہالینڈ کی حکومت کے اِس فیصلے کو اٹھائیں گے، اس کے ساتھ ہی انھوں نے مزید کہا کہ ‘فی الحال یہ معاملہ اتنا بُرا نہیں ہے، لیکن میں یہ نہیں کہوں گا کہ اب ایسا ہونا ختم ہو گیا ہے یا نہیں۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18469 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp