بنوں میں چار کم عمر دوستوں کا قتل: ’میں خوش ہوں کہ بیٹے کی قبر تو اپنے علاقے میں بنے گی‘

عزیز اللہ خان - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’میرا بیٹا مجھے بہت پیارا تھا، میرے دل کا ٹکڑا تھا، اس کی پررورش کے لیے میں نے مزدوری کی، فصلوں کی کٹائی کی، لوگوں سے مدد مانگی لیکن وہ اتنی کم عمری میں مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔‘

یہ الفاظ ہیں ضلع بنوں میں قتل کیے جانے والے کم عمر لڑکے نظام اللہ کی والدہ کے جو بیٹے کے غم میں چار روز سے کچھ بھی نہیں کھا رہیں۔

انھوں نے بتایا کہ وہ بہت غریب ہیں۔ ایک بیٹا ان سے چھین لیا گیا اور دوسرا بیٹا معذور ہے۔ ان کے شوہر نابینا تھے اور وہ بھی کچھ عرصہ پہلے وفات پا گئے تھے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں جانی خیل کے مقام پر اتوار کے روز چار نو عمر لڑکوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی تھیں۔ ان لڑکوں کو قتل کرنے کے بعد ندی کے قریب قبرستان میں دفن کر دیا گیا تھا۔ یہ لڑکے تقریباً 20 روز پہلے شکار کے لیے گئے تھے اور اس کے بعد سے لاپتہ تھے۔

یہ بھی پڑھیے

شکار پر گئے چار کم عمر دوستوں کی ’قتل شدہ لاشیں زمین میں دفن ملیں‘

’دودھ پیتی بچی کی آنکھیں اپنی ماں کو تلاش کر رہی ہیں‘

شمالی وزیرستان: فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والی چار خواتین کون تھیں؟

ایک لاپتہ ٹیچر کی لاش 14 برس بعد برآمد، ایک صحافی سے ‘چند لمحوں کی ملاقات’ گمشدگی کی وجہ بنی؟

بنوں شہر سے تقریباً 25 کلومیٹر دور جانی خیل میں بدھ کو چوتھے روز بھی سوگ ہے، دھرنا جاری ہے اور دیگر قبیلے بھی جانی خیل قبیلے کی حمایت میں دھرنے میں شریک ہوئے۔

اس واقعے کے بعد سے علاقے میں سوگ ہے۔ چاروں لڑکوں کی لاشیں جانی خیل میں قلعے کے سامنے رکھ کر دھرنا دیا جا رہا ہے۔ بدھ کو بنوں انتظامیہ سے مظاہرین کے مذاکرات ہوئے تھے لیکن اب تک اس کا فیصلہ نہیں ہوا کہ دھرنا جاری رہے گا یا دھرنا ختم کر دیا جائے گا۔

میں خوش ہوں کہ بیٹے کی قبر تو اپنے علاقے میں بنے گی

نظام اللہ کی والدہ نے بتایا کہ ’سب مائیں رو رہی ہیں، سب کی بھوک مر چکی ہے کسی کو کچھ اچھا نہیں لگ رہا، کچھ کھانے کو دل نہیں کر رہا، ذہنی سکون کی گولیاں کھا رہے ہیں تاکہ یہ غم بھلا سکیں لیکن یہ غم ہے کہ دل کے اندر اترتا ہی جا رہا ہے۔‘

نظام اللہ کی والدہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے بیٹے کی پرورش اور گھر چلانے کے لیے مزدوری کی اور فصلوں کی کٹائی کے لیے بھی وہ خود جاتی تھیں، یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کی مرمت اور لپائی کے لیے گارا اور مزدوری خود کرتی ہیں۔

نظام اللہ کی والدہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کا حکومت سے یہی ایک مطالبہ ہے کہ ان کے علاقے میں امن قائم ہو جائے، ان کے بیٹے تو چلے گئے لیکن وہ نہیں چاہتیں کہ کسی اور ماں کا بیٹا اسی طرح قتل ہو جائے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس بات پر ’خوش ہیں کہ بیٹے کی قبر اپنے علاقے میں بنے گی، اگر وہ نہ ملتا تو جیتے جی ہی مر جاتی۔‘

نظام اللہ اور ان کے تین ساتھیوں کی لاشیں اپنے گاؤں سے دور ایک قبرستان سے ملی تھیں۔ چاروں دوست شکار کے لیے گئے تھے لیکن واپس گھر نہیں آئے۔

غربت نے مار ڈالا

نظام اللہ کی والدہ نے اپنے گھر کی حالت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کچا مکان ہے، ’مکان کیا ایک کمرہ ہے چار دیواری نہیں ہے، خود مزدوری کر کے لپائی کی ہے، باہر مرد گزرتے ہیں تو بیٹیوں سے کہتی ہوں چارپائی سے اتر کر نیچے بیٹھ جاؤ کہ لوگ دیکھ نہ لیں۔ علاقے میں لوگ خیرات زکواۃ وغیرہ دے دیتے ہیں جس سے گزارہ کر لیتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں ’اس بیٹے میں میری جان تھی۔ اس کے لیے 10 یا 20 روپے جیب میں رکھتی تھی، رات کو آتا تو کھانا کم ہوتا تھا میں اسے کہتی بیٹا پانی زیادہ پی لو پیٹ بھر جائِے گا۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’جانے سے پہلے میں دکان پر گئی تھی، اس کو آواز دی، نظام اللہ کہاں جا رہے ہیں، اس نے کہا شکار کے لیے جا رہا ہوں، میں نے کہا دیکھو جلدی واپس آ جانا بہت دور نہ جانا، تم جاتے ہو تو مجھے فکر لگی رہتی ہے، اس نے کہا معلوم ہے مجھے بھی تم بہت پیاری ہو اور پھر وہ چلا گیا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ جب شام ہو گئی لیکن وہ نہیں آیا تو وہ پڑوس میں گئیں اور عاطف اللہ کی جو نظام اللہ کے ساتھ شکار پر گیا تھا، کی ماں نے بتایا کہ بچوں کے ساتھ جو کتے گئے تھے وہ واپس آ گئے ہیں، لیکن بچے ابھی تک نہیں آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ فکر بڑھتی گئی، دونوں عورتیں جگہ جگہ بچوں کی تلاش میں گئیں لیکن ان کا کچھ پتہ نہیں چلا۔

وہ 17 روز تک اپنے بچے کی تلاش میں کرتی رہیں، ’کسی سے موٹر سائیکل مانگا، اس میں پیٹرول بھی ڈلوا دیا اور میں رشتہ دار کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر بیٹے کو تلاش کرتی رہی، لوگ مجھ پر ہنستے تھے، نقلیں اتارتے تھے کہ یہ دیکھو عورت موٹر سائیکل پر بیٹھی ہے، اس کی فکر مجھے نہیں تھی، میں کہتی تھی کہ میں بیٹے کو تلاش کر رہی ہوں، مجھے لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہیں ہے۔‘

جانی خیل کے غمزدہ خاندان

یہ حالات صرف ایک نظام اللہ کے گھر کے نہیں ہیں بلکہ اس وقت ان چاروں گھرانوں میں غم ہے، سوگ ہے، لوگوں کی آنکھوں میں آنسو ہیں، ان بچوں کی باتوں کو یاد کیا جا رہا ہے، وہ کیسے اٹھتے تھے کیسے چلتے تھے کیسی باتیں کرتے تھے، سب کچھ، کسی کو کچھ نہیں بھولا سب یاد ہے۔

دھرنے پر بیٹھے ایک نوجوان لطیف وزیر نے بتایا کہ انھیں ’سمجھ نہیں آ رہی، لوگ پریشان ہیں، دھرنا جاری ہے، تین روز سے تو بارش ہو رہی تھی، ایک ٹینٹ لگایا ہے جس کے نیچے لاشیں پڑی ہیں‘ اور لوگ بڑی تعداد میں وہاں موجود تھے۔

ایسی اطلاع ہے کہ علاقے میں ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے اور یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ہر گھر سے ایک فرد لازمی اس دھرنے میں بیٹھے گا اور جو نہیں بیٹھے گا اسے جرمانہ کیا جائے گا۔

ان کے مطالبات کیا ہیں؟

اہل علاقہ کا بنیادی مطالبہ علاقے میں امن کا قیام ہے۔ ذرائع کے مطابق مقامی لوگوں نے بتایا کہ ان کا ایک مطالبہ ہے کہ ایف آئی آر میں مقامی سکیورٹی اہلکاروں کے افسر کا نام لکھا جائے، اس کے علاوہ یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ سول انتظامیہ اور ریاستی ادارے لکھ کر دیں کہ آئندہ اس علاقے میں کسی بے گناہ کا قتل نہیں ہو گا۔ یہ مطالبہ بھی رکھا گیا ہے کہ علاقے سے ’اچھے یا برے‘ شدت پسندوں کا خاتمہ کیا جائے۔

بدھ کو اس بارے میں سول انتطامیہ سے مذاکرات بھی ہوئے جس میں کچھ ترامیم کی بات سامنے آئی ہے اور اب مقامی لوگوں کے مطابق اس پر وہ خود بات چیت کر کے فیصلہ کریں گے۔

بدھ کو عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سربراہ ایمل ولی خان نے ایک وفد کے ہمراہ دھرنے میں شرکت کی جبکہ منگل کو پختون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ اور منظور پشین بھی دھرنے میں شریک ہوئے تھے۔ صوبائی وزیر شاد محمد اور دیگر سیاسی رہنما بھی دھرنے میں شریک ہوئے تھے۔

ضلع بنوں صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں کی سرحد پر واقع ہے۔ جانی خیل بنوں شہر سے کوئی 25 کلومیٹر دور واقع ہے اور اس کی سرحد شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سے ملتی ہے۔ قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام سے پہلے یہ نیم قبائلی علاقہ یعنی فرنٹیئر ریجنز یا ایف آر کے علاقے کہلاتے تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ‘اچھے اور برے شدت پسندوں کی اصطلاح کا استعمال عام ہے۔’ اور ان کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کی تنظیموں کے کارکن متحرک ہیں۔

ان کے مطابق اچھے شدت پسند وہ ہیں جو ‘حکومت کے ساتھ’ ہیں جبکہ برے شدت پسند ‘حکومت کے خلاف’ بتائے جاتے ہیں، یہ ایسا ہی ہے جیسے ‘گُڈ طالبان اینڈ بیڈ طالبان۔’

تاہم اس دوران کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان عمر خراسانی نے ایک بیان میں اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے اس واقعے کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔

جانی خیل کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں تشدد کے واقعات ایک عرصے سے پیش آ رہے ہیں اور انھیں شکایت ہے کہ حکام اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے۔

ہلاک ہونے والے لڑکے احمد کے چچا ڈاکٹر سبحان ولی کا کہنا ہے کہ ‘اب یہ خون کا کھیل بند ہو جانا چاہیے۔’

انھوں نے کہا کہ دس سال کے عرصے سے آئے روز کسی نہ کسی کے قتل کی اطلاع ملتی رہتی ہے لیکن اب ان ‘چار معصوم بچوں کے قتل نے پورے علاقے میں کہرام برپا کر دیا ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ جانی خیل میں ہر فرد غمزدہ ہے اور ہر انسان کی آنکھ میں آنسو ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس احتجاج میں ‘پورے علاقے کے لوگ پہنچ گئے ہیں۔’

خیال رہے کہ رواں سال فروری میں شمالی وزیرستان میں ان چار خواتین کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا جو ایک غیر سرکاری تنظیم کے لیے کام کر رہی تھیں اور مقامی خواتین کو مختلف ہنر سکھاتی تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19338 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp