ڈاکٹر ذاکر نائیک اور ڈاکٹر صفدر محمود کی طرف سے پھیلائی گئی ایک غلط فہمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علامہ اقبالؒ کے والد گرامی شیخ نور محمد ( 1837۔ 1930 ) کے متعلق ایک من گھڑت قصہ مشہور کیا گیا ہے کہ علامہ کی ولادت سے قبل علامہ اقبالؒ کے والد نے بینک کی نوکری کر لی اور علامہؒ کی والدہ نے اس خیال سے اپنے زیورات بیچ کر بکری خرید لی کہ وہ نومولود کو اپنا دودھ نہیں پلائیں گی کیونکہ بینک میں سودی کاروبار ہوتا ہے جس سے علامہؒ کے والد کو تنخواہ ملتی ہے۔ جب تک علامہؒ کے والد بینک میں ملازم رہے، اس دوران ان کی والدہ علامہ اقبالؒ کو بکری کا دودھ پلاتی رہیں۔

یہ قصہ بغیر کسی تحقیق کے ڈاکٹر صفدر محمود نے ”روزنامہ جنگ“ میں ایک کالم میں لکھ دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر جگہ عام ہو گیا۔ کسی نے مزید اپنی کارکردگی دکھانے کی خاطر اسے علامہ اقبالؒ کے والدین کی ایک تصوراتی تصویر کے ساتھ ایک رنگین پوسٹ کے ساتھ سوشل میڈیا پر ڈال دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ پوسٹ وائرل ہو گئی۔

ہماری جہاں تک بساط تھی ، اس من گھڑت قصے کی تردید کرتے رہے لیکن تیر کمان سے نکل جائے تو واپس نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب کوئی بات عوام تک پہنچ آ جائے تو اس کی تردید کارگر ثابت نہیں ہوتی۔ بہت سے احباب نے یہ پوسٹ ان لوگوں تک پہچانا اپنا اولین فرض سمجھا جو بینک کی ملازمت سے وابستہ تھے۔

جب یہ بات جنگل میں لگی آگ کی طرح پھیل گئی تو فاضل کالم نگار ڈاکٹر صفدر محمود نے 17 نومبر 2017ء کے اپنے ہی ایک کالم میں اسے من گھڑت قصہ قرار دیتے ہوئے معذرت طلب کر لی۔

انہوں نے کالم میں لکھا:

”میں نے جب اس واقعے کے حوالے سے تحقیق کی، خانوادہ اقبالؒ سے پوچھا، ماہرین اقبالؒ سے کریدا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ اس واقعے کی کوئی سند موجود نہیں اور خانوادہ اقبالؒ بھی اس کی تردید کرتے ہیں۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں نے بلاتصدیق ایسی بات کیوں لکھ دی“

لیکن ضروری نہیں کہ جو بات عام قاری تک پہنچ جائے اس کی تردید بھی وہ پڑھے۔ لہٰذا کچھ عرصہ بعد معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بھی بغیر کسی تحقیق کے اس کہانی میں مزید رنگ بھر دیا، حالانکہ وہ دیگر معاملات میں بڑی خوبی کے ساتھ حوالے دیتے رہتے ہیں بلکہ انہیں مختلف صفحات کے نمبر تک ازبر ہوتے ہیں۔ لیکن اس سلسلے میں بغیر کوئی صفحہ نمبر بتائے ایک بہت بڑی غلط فہمی پھیلانے کا باعث بنے۔ ان کی ویڈیو سوشل میڈیا میں بھی وجود ہے۔ انھوں نے متعدد جگہوں پر یہ بات بار بار دہرائی بھی ہے۔

ذاکر نائیک کا کہنا تھا کہ:

”علامہ اقبالؒ کے والد پیشے کے اعتبار سے ربا (سود) سے منسلک تھے۔ ان کی اہلیہ ان کے کام سے خوش نہیں تھیں۔‘‘ تاریخی کتابوں کی روایت کا تذکرہ کرتے ہوئے ذاکر نائیک نے کہا کہ علامہ اقبال ؒ کی ولادت کے بعد ان کی والدہ نے انہیں اپنا دودھ نہیں پلایا کیونکہ وہ اپنے خاوند کے سودی کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم سے غذا کھلا رہی تھیں۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے والدین کی جانب سے ملنے والا زیور جو انہوں نے سنبھال رکھا تھا، فروخت کر کے ایک بکری خریدی اور علامہ اقبالؒ کو اس بکری کا دودھ پلایا کرتیں۔

ذاکر نائیک مزید کہا کہ یہ علامہ اقبالؒ کو ملنے والی وہ پہلی روحانی حفاظت تھی جس کا اہتمام ان کی والدہ نے کیا تھا جنہوں نے انہیں سود سے حاصل ہونے والی خوراک سے دور رکھا۔ یہی علامہ اقبالؒ پھر آگے چل کر حکیم الامت اور اتنے بڑے شاعر بنے کہ ان کے کلام کے آج بھی دنیا بھر کے مختلف ممالک میں تراجم درسی کتب میں موجود ہیں۔ ذاکر نائیک نے کہا کہ بعد میں علامہ اقبال ؒ کے والد نے بھی سودی کاروبار سے توبہ کر لی اور یوں علامہ اقبالؒ کی والدہ نہ صرف اپنے شوہر کو اس کام سے دور کرنے میں کامیاب رہیں بلکہ بیٹے کے حلق سے نیچے بھی سود کا کوئی نوالہ نہیں اترنے دیا۔

ہمیں سودی کاروبار یا اس سے منسلک لوگوں سے کوئی ہمدردی نہیں نہ ہی ہمارا ان سے کوئی لین دین ہے مگر اس بات سے اتفاق بھی نہیں کہ علامہ اقبالؒ کے والد کبھی بینک کے پیشے سے منسلک رہے ہوں۔

علامہ اقبالؒ کی سب سے زیادہ مستند سوانح عمری ”زندہ رود“ ہے جس کے مصنف علامہ اقبالؒ کے صاحبزادے جاوید اقبالؒ مرحوم ہیں ، انہوں نے شیخ نور محمد کے پیشے کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

”شیخ نور محمد اپنے والد کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹاتے رہے۔ بعد میں اس میں اضافہ کیا اور ٹوپیاں اور کلاہ بنانے لگے۔ اس سلسلے میں سلائی کی مشین سیالکوٹ میں سب سے پہلے انہی نے منگوائی تھی ۔ دکان میں شاگرد اور ملازم بھی موجود تھے۔ یہ ٹوپیاں اس زمانے میں بڑی مقبول ہوئیں اور یوں لوگ انہیں شیخ نتھو ٹوپیاں والا کہنے لگے۔ زندگی کے بیشتر حصے میں انھوں نے اپنے زور بازو سے کمایا لیکن جوں جوں عمر بڑھتی گئی وہ تصوف کی طرف مائل ہوتے گئے“ (زندہ رود ص25)

شیخ نور محمد کو ان کے خاندان میں میاں جی کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ نہایت وجہیہ و شکیل بزرگ تھے۔ پڑھے لکھے نہ تھے لیکن شروع سے ہی اہل دین کی صحبت نے انہیں ایک نہایت ہی اچھا اور متقی انسان بنا دیا اور ان کی شخصیت میں تصوف کا نمایاں پہلو تھا۔ انہوں نے محنت لگن اور خلوص سے روحانیت کی منازل طے کی تھیں ، شاید اسی وجہ سے لوگ انہیں ان پڑھ فلسفی بھی کہا کرتے تھے اور ان کے پاس آ کر تصوف کے بارے میں رہنمائی بھی لیا کرتے تھے۔

انہوں نے کبھی بینک میں ملازمت نہیں کی ۔ اگرچہ وہ حرف شناس تھے لیکن باقاعدہ تعلیم یافتہ نہیں تھے، اس لیے ایک ناخواندہ شخص کو بینک کی ملازمت ملنا نہایت مشکل ہے۔ اس کے علاوہ جب سیالکوٹ میں بینک کا قیام عمل میں آیا تو ان کی عمر اس وقت پچہتر سال سے زائد ہو چکی تھی۔  اس عمر میں ملازمت ملنا آسان نہیں ہوتا ہے۔ ہاں البتہ وہ جوانی میں ایک بار کچھ عرصہ ڈپٹی وزیر بلگرامی کے ہاں کپڑے کاٹنے اور سینے کے لیے بطور ”خیاط“ ملازمت کرتے رہے لیکن وہاں کام نہ ہونے کے برابر تھا،  وہ پورا دن ان سے تصوف پر گفتگو کرتے رہتے تھے۔

انہیں جلد ہی احساس ہوا کہ مجھے جس کام کے لیے رکھا گیا ہے ، وہ نہ ہونے کے برابر ہے ، پتہ نہیں یہاں سے مجھے جو معاوضہ ملے گا، میرے لیے جائز بھی ہو گا کہ نہیں، سو انہوں نے اسی خیال سے وہ ملازمت ترک کر دی تھی۔

آپ کا انتقال 17 اگست 1930ء کو سیالکوٹ میں ہوا اور سیالکوٹ میں ہی دفن ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments