ناروے میں ایسٹر کیسے مناتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ناروے کا سب سے بڑا تہوار یوں تو سترہ مئی ہے جو قومی دن ہے۔ اس دن ناروے نے اپنا آئین تشکیل دیا۔ اور یہ وہ دن ہے جہاں سب لوگ گھروں سے نکلتے ہیں ایک دوسرے سے ملتے ہیں، مبارکبادیں دینے اور لیتے ہیں۔ اس دن نارویجنوں کا جوش و خروش دیکھنے کے لائق ہے۔

لیکن دو تہوار اور بھی ہیں جو جوش سے منائے جاتے ہیں۔ دونوں کا تعلق مذہب سے ہے۔ کرسمس اور ایسٹر۔ ناروے میں ایسٹر کی چھٹیاں دنیا میں سب ملکوں سے زیادہ ہوتی ہیں۔ ایسٹر کی تزئین و آرائش بھی ایک خاص طرح سے کی جاتی ہے جس میں زرد رنگ نمایاں ہوتا ہے۔ زرد ٹیبل کور، زرد پردے، زرد نیپکن اور زرد پھولوں سے سجاوٹ کی ہوتی ہے۔

مذہبی لحاظ سے ایسٹر ایک اہم ترین تہوار ہے۔ کیتھولک، آرتھوڈوکس اور پروٹسٹنٹ سب اسے مانتے اور مناتے ہیں۔ اس کا تعلق حضرت عیسی کے مصلوب ہونے سے ہے۔ ناروے میں ایسٹر کا نام ”پوسکے“ ہے۔ ایسٹر کی تاریخ خود مسیحیت کی تاریخ سے بھی قبل کی ہے۔ یہودیوں کے ہاں یہ ”پیساچ“ جسے ”پاس اوور“ بھی کہا جاتا ہے کے نام سے منایا جاتا رہا تھا جس کا مطلب عبرانی زبان میں ”گزر جانا یا کسی رکاوٹ سے نکل جانا“ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اس دن کی یاد میں مناتے ہیں جب فرعون نے حضرت موسی اور ان کی قوم کو مصر سے جانے کی اجازت دی۔ حضرت عیسی بھی مصلوب ہونے سے پہلے اپنے حواریوں کے ساتھ یہ دن منا رہے تھے۔

بنیادی طور پر مسیحی اور یہودی ایک ہی وقت میں ایسٹر اور پیساچ مناتے تھے۔ لیکن بعد میں مسیحیت میں ان دنوں میں تبدیلی لائی گئی۔ ایسٹر کی تاریخیں چاند کے حساب سے ہوتی ہیں۔ کچھ پیچیدہ سا عمل ہے۔ حساب کچھ یوں ہے کہ سال میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب دن اور رات برابر ہوتے ہیں۔ یعنی بارہ گھنٹے کا دن اور بارہ ہی گھنٹوں کی رات۔ اس دن کے بعد جو پہلی چودھویں کا چاند ہوتا ہے اس کے بعد جو پہلا اتوار کا دن ہو وہ ایسٹر سنڈے ہو گا۔ لیکن یہ تہوار جمعرات سے ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔ ایسٹر سے چالیس دن پہلے روزے شروع ہوتے ہیں۔ جس میں گوشت، میٹھی چیزیں اور روغنی پکوان سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ ایسٹر مارچ یا اپریل میں ہی ہوتا ہے۔

جمعرات۔ ماونڈی تھرزڈے : ناروے میں ایسٹر کی تعطیلات اسی دن سے شروع ہو جاتی ہیں اس دن حضرت عیسی اپنے حواریوں کے ساتھ یہودیوں کا پیساچ منانے آئے تھے۔ ماونڈی لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کمانڈ۔ حضرت عیسی نے اپنے ساتھیوں کو کمانڈ کیا اور کہا ”ایک دوسرے سے محبت کرو اسی طرح جس طرح میں تم سب سے محبت کرتا ہوں“ اس دن حضرت عیسی نے اپنے ساتھیوں کے پاؤں دھوئے اور ان کے ساتھ آخری کھانا کھایا جسے ”دا لاسٹ سپر کہتے ہیں“ ۔ اور اس بات کا اشارہ بھی کیا کہ انہی ساتھیوں میں سے ایک انہیں دغا دے گا۔ وہ جوڈس تھا جس نے مخبری کی۔ لیونارڈو ڈیونچی کی شہرہ آفاق پینٹنگ اس آخری کھانے کی ہے۔

ناروے میں اس رات چرچ میں خاص اجتماعات ہوتے ہیں۔ مذہبی رجحان رکھنے والے اس میں حصہ لیتے ہیں۔

ناروے میں گڈ فرائیڈے کو ”لانگ فرائیڈے“ کہتے ہیں۔ یہ ایک دردناک دن تھا۔ عقیدے کے مطابق حضرت عیسی کو مصلوب کر دیا گیا۔ وہ سارا دن دار پر رہے۔ ناروے میں اس دن کا احترام ہے۔ گئے دنوں میں تو یہ دن خاموشی سے گزارا جاتا تھا۔ زور سے بولنا اور ہنسنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اب ایسی سختی نہیں۔ اس دن بھی چرچ میں اجتماع ہوتا ہے۔ خاص دعائیں کی جاتی ہیں۔ یسوع مسیح کی انسانیت کے لیے قربانی کو یاد کیا جاتا ہے۔

ہفتہ کا دن: اس دن کی مذہبی اہمیت کوئی نہیں سوائے اس کے کہ یہ ایسٹر کی چھٹیوں میں شمار ہوتا ہے دکانیں آدھے دن تک کھلی رہتی ہیں۔ اس دن بچوں کو ایک بڑے سے انڈے میں چاکلیٹ اور مٹھائیاں ملتی ہیں۔ یہ دن بچوں میں بہت مقبول ہے۔ ناروے میں ایسٹر کے دنوں میں سسپنس فل کہانیاں اور فلمیں پڑھی اور دیکھی جاتی ہیں۔ یہ رواج کب سے ہوا کہا نہیں جا سکتا۔ اس شام لیمب کی روسٹ ران کھانے کا رواج بھی ہے۔

ایسٹر سنڈے: مسیحی عقیدے کے مطابق اس دن یسوع مسیح دوبارہ جی اٹھے۔ یہ خوشی کا دن ہے اور اسے خوشی سے ہی منایا جاتا ہے۔ صبح کے ناشتے میں رنگدار انڈے ضرور شامل ہوتے ہیں۔ بچوں کے لیے بھی یہ دن بہت اہم ہے کیونکہ اس دن ”ایسٹر بنی“ آتا ہے اور خوشنما انڈے کہیں چھپا جاتا ہے بچے صبح سویرے سے اٹھ کر جوش و خروش سے انڈوں کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔

ایسٹر منڈے: اس دن کی کوئی مخصوص روایات نہیں۔ جو لوگ اپنے کیبن یا ہوٹلوں میں چھٹیاں گزارتے ہیں ان کا دن واپسی کے سفر کی تیاری میں گزرتا ہے۔ جو گھر پر رہتے ہیں وہ ایسٹر کی زرد آرائشی چیزیں سمیٹ کر اگلے ایسٹر تک کے لیے سنبھال کر رکھ لیتے ہیں۔ اس دن بھی عام تعطیل ہوتی ہے۔

ایسٹر کی تعطیلات نارویجنوں کے لیے بہت اہم ہیں۔ یہ تفریح بھی ہے اور خاندان اور دوستوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع بھی۔ کھلی فضا میں ”سلالوم اسکی“ ورزش بھی ہے اور شوق بھی۔ نارویجین کھلی ہوا اور صاف فضا کے شوقین ہیں اور ایسٹر کی چھٹیاں انہیں یہ مواقع مہیا کرتی ہیں۔ اچھا کھانا بھی ایسٹر کی روایات میں سے ایک ہے۔

اس بات سے قطع نظر کہ ایسٹر کی مسیحی مذہب میں کیا اہمیت ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیحیت کی شروعات سے پہلے بھی دوسرے مذاہب میں یہ تہوار منایا جاتا رہا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ لا مذہب بھی اسے مناتے تھے تو غلط نہ ہوگا۔ اب اس تہوار کی مذہبی حیثیت اپنی جگہ لیکن اس میں کچھ رسومات اور روایات شامل ہو گئی ہیں۔ اس میں رنگدار انڈے اور پھر انہیں کہیں چھپا دینا بچوں کے لیے ایک تفریح ہے۔ بچے بہت جوش و خروش سے انڈے ڈھونڈنے میں حصہ لیتے ہیں۔ یہ رسم قبل از مسیح سے چلی آ رہی ہے۔ بعد میں اسے ایسٹر میں حیات اور لافانیت سے جوڑا گیا۔ اس کے علاوہ ایک کردار ایسٹر بنی (خرگوش) کا بھی ہے جو تہوار کا حصہ بن گیا ہے۔ ایسٹر بنی کب ایسٹر کا حصہ بنا یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی لیکن امکان ہے کہ سال 1700 میں جرمنز نے اسے امریکہ میں متعارف کروایا۔ خرگوش تیزی سے اپنی افزائش نسل کرتے ہیں، شاید اسی لیے اسے زندگی کی علامت سمجھ لیا گیا۔

انگریزی لفظ ایسٹر کہا جاتا ہے کہ جرمن لفظ اوسٹرن سے نکلا ہے۔ اور یہ لفظ ایواسترا سے نکلا ہے جو اینگلو سیکسن روایت میں بہار اور زرخیزی کی دیوی تھی۔

ایسٹر سے ملتے جلتے تہوار دیگر مذاہب اور ثقافتوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ”پاس اوور“ کی بات ہوئی جو یہودیوں کا ایک بڑا تہوار ہے۔ اس کے علاوہ ایران کا ”نوروز“۔ ان تینوں تہواروں میں مماثلت کیا ہے؟

پہلی مماثلت تو یہ ہے کہ یہ تینوں تہوار تقریباً ایک ہی وقت میں منائے جاتے ہیں یعنی بہار کے موسم میں۔ تہوار کی تاریخیں کچھ الگ ہو سکتی ہیں لیکن ہیں یہ تینوں اسی ٹائم فریم میں۔ نوروز کی تاریخ فکس ہوتی ہے۔ یہ 21 یا 20 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ شمسی کلینڈر کے حساب سے فروردین کی یکم کو۔ یہ نیا سال کا پہلا دن بھی ہے اور موسم بہار کا پہلا دن بھی۔ ایسٹر کی تاریخ کچھ عیسوی کلینڈر سے اور کچھ پورے چاند کے حساب سے طے ہوتی ہیں۔

یہودیوں کا اپنا قمری کلینڈر ہے۔ جو عیسوی کلینڈر سے گیارہ دن کم ہے۔ ان کا دن غروب آفتاب کے وقت سے شروع ہو جاتا ہے۔ یعنی پہلے رات آتی ہے پھر دن۔ ”پاس اوور“ عبرانی کلینڈر کے ”نسان“ مہینے کی 15 سے شروع ہو کر 22 تک منایا جاتا ہے۔ قمری کلینڈر کی وجہ سے اس کی تاریخیں آگے پیچھے ہوتی رہتی ہیں۔ اس سال یہ تہوار 28 مارچ کو ہے۔ دوسری مماثلت ان تینوں تہواروں میں انڈوں کی اہمیت ہے۔ اور تیسری مماثلت سبزے کی ہے جو ان تینوں تہواروں میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔

ایسٹر مذہبی تہوار ہے۔ چھٹیاں بھی کافی ہوتی ہیں لیکن ناروے کے لوگ زیادہ مذہبی نہیں اس لیے ان چھٹیوں کو اپنی مرضی سے جی بھر کے مناتے ہیں۔ ایسٹر بہار کی آمد کا پتہ دیتا ہے۔ سردیاں ختم ہونے کو ہیں اور نارویجین ان چھٹیوں کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ناروے کے لوگ سردی اور برف کے عادی بھی ہیں اور دلدادہ بھی۔ ایسٹر کے دنوں میں یہ برف اسکینگ کے لیے بہترین سمجھی جاتی ہے۔

اس لیے جاتی سردیوں کے آخری ایام اور برف پگھلنے سے پہلے اس سے لطف اندوز ہونے کا یہ سال کا آخری موقع ہے۔ اس لیے چھٹیاں شروع ہوتے ہی اسکی اٹھا کے گاڑیاں پہاڑوں کی طرف دوڑا دیتے ہیں۔ اکثر لوگوں کے کیبن ہیں اور اگر نہ ہوں تو کرائے پر بھی مل سکتے ہیں اس کے علاوہ بے شمار ہوٹلز اور موٹلز ہیں جہاں رہائش بھی ملتی ہے اور خوراک بھی۔ لیکن ان کی بکنگ مہینوں پہلے کروانی پڑتی ہے۔ دن بھر باہر اسکی کرتے ہیں۔ شام ڈھلے کیبن یا ہوٹل میں آتش دان کے پاس گرم ملک چوکلیٹ کا مزا لیتے ہیں۔ کچھ لوگ پہاڑ کے بجائے دریا یا سمندر کے کنارے کیبن لیتے ہیں وہ ان چھٹیوں میں اپنی کشتیوں کو ٹھیک ٹھاک کرتے ہیں، رنگ روغن اور صفائی ستھرائی کرتے ہیں تا کہ گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی بوٹ کو سمندر میں اتار دیا جائے۔

ناروے کے کچھ لوگ ان چھٹیوں کو کسی گرم ملک میں جا کر گزارنے لگے ہیں۔ غسل آفتاب اور سمندر میں تیراکی کے لیے یونان، قبرص، اسپین یا ترکی میں ساحل پر بنے کسی ہوٹل میں ہفتہ دس دن دھوپ سینکنے میں گزار کر تازہ دم ہو کر واپس لوٹے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آرام چاہتے ہیں۔ کیبن میں وقت گزارنا اتنا آسان نہیں۔ بہت سے کام خود کرنے پڑتے ہیں۔ کئی مقامات پر تو گرم پانی بھی نہیں ہوتا۔ اور باتھ رومز بھی زمانہ قدیم کی طرح رہائش سے باہر ہوتے ہیں۔ لکڑیاں بھی باہر سے کاٹ کر لانی پڑتی ہیں پھر آتش دان سلگا کر گھر کو گرم کرنے میں بھی وقت لگتا ہے۔ لیکن پھر بھی ناروے کی اکثریت ایسی ہی تعطیلات پسند کرتی ہے۔ فطرت سے اپنا تعلق برقرار رکھنے کے لیے یہ ایک بہترین طریقہ ہے۔ اور اب موڈرن قسم کے کیبن بھی بنا لیے گئے ہیں جہاں بہتر سہولیات ہیں۔

ناروے اگرچہ اکثریت مذہبی رجحان نہیں رکھتی لیکن پھر بھی کچھ لوگ ہیں جو ایسٹر کے دنوں میں چرچ جاتے ہیں۔ اس موقع پر خاص سرمن ہوتے ہیں۔ عبادت بھی کی جاتی ہے۔ ایسٹر کے دن کافی حد تک آرام اور سکون سے گزارے جاتے ہیں۔ شور و غل، اونچی آوازیں اور تیز میوزک کو پسند نہیں کیا جاتا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments