اساتذہ احتجاج کا ممکنہ حل کیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل ملک پہ تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ تحریک انصاف حکومت کو لانے کا سب سے زیادہ چائو جس طبقے کو چڑھا تھا وہ اساتذہ ہیں۔ بے چاروں نے ایڑھیاں اٹھا اٹھا کر عمران خان کی سپورٹ کی۔ ساتھیوں سے الجھے۔ کچی پکی معلومات کے زور پہ، مناظرے کر کے اپنے حلقہ احباب کو قائل کیا کہ کوئی اور نہیں بس عمران خان! اس طبقے نے اکیڈمیوں سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، میں طلبا کو سبق کم پڑھایا، مگر ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر یہ زیادہ بتایا کہ بس عمران خان اس ملک کا آخری سہارا ہے۔

الکیشن ہوئے، تحریک انصاف حکومت میں آ گئی۔ اورپھر وقت نے ہر طبقہ زندگی کی وہ فلک شگاف چیخیں سنیں کہ الامان الحفیظ!

حکومت مخالفین تبدیلی سے کراہ تو رہے ہی ہیں مگر چہلیں بھی کر رہے ہیں۔
سوہناں ہن گھن مزے تبدیلیاں دے!

تبدیلی سرکار نے سارے سسٹم پہ وہ چوٹیں کی ہیں کہ ہر گوشہ حیات کی ایسی کی تیسی پھر گئی ہے۔ داناؤں کو سمجھ آ گئی ہے دیوانوں کو نا آئی ہے نا آنی!

القصہ اساتذہ بھی آج کل رگڑے میں ہیں۔ ایک طرف ان کی تنخواہیں نہیں بڑھیں دوسری طرف مہنگائی نے رگڑے پہ رگڑے دے کر ان کی آنکھیں باہر نکال دی ہیں۔ آج کل محکمہ تعلیم پنجاب کے سیکنڈری سکول ٹیچرز اور اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر ز وزیر اعلی ہاؤس کے باہر اپنے بچوں سمیت دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ پنجاب بھر میں کلاسز کا بائیکاٹ ہے اور AEOs کی قلم چھوڑ ہڑتال جاری ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ سات سال ہونے کو آئے انہیں نوکری کرتے ہوئے مگر محکمے نے انہیں تاحال ریگولر نہیں کیا۔

جبکہ ان کے ساتھ بھرتی ہونے والے زیریں سکیلوں کے جملہ مدرسین ریگولر کیے جا چکے ہیں۔ ریگولرائزیشن ایکٹ کے مطابق کنٹریکٹ ملازم تین سال بعد محکمانہ کارکردگی کی بنیاد پہ ریگولر یا ٹرمینیٹ کر دیا جاتا ہے۔ احتجاجی ٹیچرز کے مقابل حکومتی موقف ہے کہ ہم انہیں ریگولر کیسے کردیں۔ ریگولر ہونا ہے تو PPSC پراسیس سے گزرنا پڑے گا۔ اور پچھلی حکومت یہ ایکٹ پاس کر گئی ہے۔ معیشت کی بربادی سے اساتذہ کے مستقلی تک ہر مسئلے میں ایک ہی جواب۔

یہ پچھلی حکومت کر گئی ہے۔

گویا یہ حکومت صرف یہی بتانے آئی ہے کہ ہمارے پاس حل کوئی نہیں ہے ہم بس یہی بتانے آئے ہیں کہ یہ کام پچھلی حکومت کا کیا دھرا ہے۔ اب اساتذہ ڈٹے ہوئے ہیں کہ آپ ان داتا ہو، کوئی جگاڑ لگاؤ ہمیں مستقل کرو۔ ہم نے NTS ٹیسٹ پاس کیا ہے۔ سات سال محکمے کی نوکری کی ہے۔ ہمارے آرڈرز، یا نوکی کے اشتہار میں تو کہیں نہیں لکھا تھا کہ ریگولر ہونے کے لیے PPSC پراسیس سے گزرنا ہوگا۔ ہماری کارکردگی دیکھیں۔ ACRs دیکھو۔ ہم اہل ہیں تو ریگولر کردو نا اہل ہیں تو بے شک ٹرمینیٹ کردو۔

مگر حکومت ہے کہ پچھلی ناپاک حکومت کے بنائے ہوئے پاک ایکٹ کو چوم چوم آنکھوں کو لگا رہی ہے۔

اساتذہ ہیں کہ مخالفین کے طعنے سن سن کے گوڈے گوڈے زمین میں گڑے جا رہے ہیں۔ منہ چھپانے کو جآ مل رہی ہے نا بھاگ جانے کو راہ!

اس مسئلے سے منسلک دو ہی متعلقہ وزیر تھے۔ وزیر تعلیم اور وزیر قانون۔ دونوں ہی احتجاجی اساتذہ میں اپنا اعتماد کھو چکے ہیں۔ کیے گئے وعدوں کی ناپاسداری اور پیہم رسم جفاکاری بنیادی وجہ ہے۔ پچھلے تین سالوں میں مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں۔

اساتذہ کو ہر بار یہی کہاں گیا کہ آپ تو ہمارے اپنے ہو۔ ہم نے آپ کا مسئلہ حل نہیں کرنا تو کس کا کرنا ہے۔ مگر ہر بار نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات! اسی روئیے کی وجہ سے اب ان دو وزرا پہ اعتماد نہیں کیا جا رہا ۔

اور محسوس یوں ہو رہا ہے کہ مذکورہ وزرا اب اسے انا کا مسئلہ بنا رہے ہیں۔ کیونکہ وزیر تعلیم موصوف تو کہہ چکے ہیں کہ زیرو پریشر۔ کرلو جو کرنا ہے۔

یہ اس سیاسی و مفاہمتی روئیے کے بالکل برعکس ہے جو ایک زیرک سیاستدان کے شان شایان ہونا چاہیے۔ اس میں نقصان سراسر حکومتی پارٹی کا ہی ہے۔ وزرا کا کیا جانا ہے۔ مسئلہ حل نا ہوا تو پنجاب میں تحریک انصاف کے ووٹ بینک میں ایک زبردست ڈنٹ پڑے گا۔

حکومت کے لیے ایک بہترین راستہ یہی ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے کوئی نیا چہرہ سامنے لائے جو ان سے مسئلہ حل کروانے کی یقین پہ دھرنا ختم کروائے۔ اس بابت مظاہرین کی طرف سے اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی یا وزیر اعلی پنجاب کا نام لیا جا رہا ہے۔ بعد ازاں ایک آرڈیننس لا کر ان اساتذہ کو مستقل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے ایک طرف تو تحریک انصاف کا ووٹ بینک برقرار رہے گا دوسری طرف ایک درد سر سے جان چھوٹے گی۔ اگر حکومت یہ مسئلہ حل نہیں کرتی اور زبردستی انہیں PPSC کی طرف بھیجتی ہے تو یقینی طور پہ عدالت کا راستہ استعمال کر کے اس کے آگے بند باندھنا جائے گا جس سے یہ معاملہ ایک طویل مدت کے لیے لٹک جائے گا۔ تب تک اگر پنجاب میں کوئی نیا حکومتی سیٹ اپ آ گیا اور یہ اساتذہ ان کے پاس جا پہنچے تو امکانات ہیں کہ وہ انہیں بطور سیاسی کارڈ استعمال کرتے ہوئے ریگولر کردے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *