گستاخ اکبر، بے چاری ماں اور محب اللہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محب اللہ: تم تو سب جانتی ہو ماں اکبر کیسا ہے، پھر بھی انجان بن رہی ہو۔ اس نے تمہارے بارے میں جو کہا میں دہرا نہیں سکتا۔ مگر تم تو جانتی ہو کہ وہ تمہارے بارے میں کیا کہتا ہے۔

ماں : مجھ سے تو وہ کبھی کچھ نہیں کہتا، کوئی فرمائش، کوئی شکوہ کوئی التجا نہیں کرتا۔
محب اللہ : یہ ہی تو کہہ رہا ہوں ماں وہ گستاخ ہے، تم سے مانگنا اسے پسند نہیں۔
ماں : نہیں وہ سمجھتا ہے کہ میں جب اس کے لیے بہتر سمجھوں گی اسے دے دوں گی۔
محب اللہ: ایسا نہیں کہ تمہیں غصہ نہیں آتا، تم سزا نہیں دیتیں، لیکن اسے بہت ڈھیل دے رکھی ہے۔

ماں : ظاہری حالت سے دنیا پر، عبادت گزاری، پرہیز گاری ثابت کر کے معزز رہنے کے لیے تمہیں بھی ڈھیل دی گئی ہے۔

محب اللہ :ماں میں تمہاری قسم کھاتا ہوں ، میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں، اس محبت کا تقاضا ہے کہ اس کا سر تن سے جدا کر دوں۔ اس نے تمہاری شان میں گستاخی کی ہے۔

ماں : میں نے اسے پیدا کیا ہے، پال پوس کر بڑا کیا ہے۔ پھر اس کی زندگی کا اختیار تم اپنے ہاتھ میں لے کر میری گستاخی نہیں کر رہے۔ مجھے بے اختیار اور بے بس نہیں سمجھ رہے۔

محب اللہ : وہ سب کو تمہارے خلاف کر دے گا، میرے سارے بہن بھائی گمراہ ہو جائیں گے۔ ماں اسے تم نظر نہیں آتیں ، کہتا ہے گم ہو گئی ہو۔

ماں : تم جو اب تک مجھے بہرا اور اندھا سمجھتے آئے ہو۔ میں اپنے وجود کے ساتھ اپنے ہر بچے کے اندر ہوں لیکن تم مجھے محسوس نہیں کرتے، لگتا ہے مجھے گمشدہ کر کے تم مطمئن ہو۔

محب اللہ : ایسا نہ کہو ماں ہمیں گناہ گار مت کرو، ہم تمہیں اپنی شہ رگ سے بھی قریب سمجھتے ہیں۔

ماں : تمہارا یہی وتیرہ ہے، تم ایسے ہی الفاظ بول کر، اپنے جیسے ریا کاروں کے ساتھ اجلا لباس زیب تن کر کے خود کو پارسا ثابت کرنے میں کامیاب رہتے ہو، مکاری کرتے ہو، کیوں کہ تم میرے وجود پر یقین نہیں رکھتے۔ اس کی باتوں سے میرا وجود تو ثابت ہوتا ہے۔

محب اللہ : ماں ہم تمہاری شکر گزاری کرتے ہیں، فرماں بردار ہیں تمہارے۔ ہر وقت ہمارے لبوں پر تمہارا نام ہوتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ہم تم سے عشق کرتے ہیں۔

ماں : دوسروں کو دکھانے کے لیے، ظاہر کرتے ہو کہ تم میری رضا پر راضی ہو، لیکن طمع، لالچ اور ہوس نے تمہارے دل پر مہر لگا دی ہے۔ تم نیک بننے سے زیادہ نیک نظر آنے کی کوشش کرتے ہو۔

محب اللہ: ماں ہماری محبت پر شک مت کرو۔ ہم تمہاری محبت کو عام کرنے کے لیے کیا نہیں کرتے۔

ماں : تم سب جلوت میں مجھے محبوب کہتے ہو، خلوت میں مجھے فراموش کر دیتے ہو۔ میں ماں ہوں، پیدا کیا ہے تم سب کو، ایک ایک کی فطرت، نیت اور ارادے سے واقف ہوں، یہ لفظوںکی چک پھیریاں محفل کے لیے بچا رکھو۔ تم صرف مکر کرتے ہو، فریب دیتے ہو۔ بد دیانتی کرتے ہو۔ لوگوں کی جیب سے پیسے نکلوانے کے کیسے گر تلاش کرتے ہو۔ اپنی کوتاہی، غلطی کو کیسے ڈھانپتے ہو، اور بڑی چالبازی دکھاتے ہو۔ وعدہ خلافی کر کے بہانے تراشتے ہو۔ اپنی کسی بدفعلی یا جھوٹ کھلنے پر تاویلیں گھڑتے ہو۔ ہر قسم کی بے ایمانی کرتے ہوں۔ اپنا مفاد اور اختیار حاصل کرنے کے لیے تم کیا کیا کرتے ہو، میں ماں ہوں تم سب سے غافل نہیں ہو سکتی۔ جانتے ہوئے بھی کہ مجھے اونگھ نہیں آتی، اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ہر قسم کی زیادتی کرتے ہو، جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ میرا اکبر کبھی کسی کو پریشان نہیں کرتا، کوئی برا خیال دل میں نہیں لاتا، سب کے لیے بھلائی سوچتا ہے۔ وہ تم سب بہن بھائیوں کا کتنا خیال رکھتا ہے۔ مگر تم صرف اپنا سوچتے ہو، اور تو اور مقدس کتاب پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی گواہی بھی دیتے ہو۔

محب اللہ: ماں وہ دوسرے ہیں، میں نے کبھی ایسی حرکت نہیں کی۔

ماں : لیکن تمہیں تب میری توہین کا خیال کیوں نہیں آیا، شر پھیلانے والوں کے ساتھ شامل ہو کر، میری محبت کے دعوے دار بن کر میرے حساس بیٹے کی جان کے دشمن ہو رہے ہو۔

محب اللہ: نہیں ماں، مجھے اسے سبق سکھانے دو، تم اس کی طرف داری مت کرو، مجھے کوئی ایسا حکم مت دو کہ میں مان نہ سکوں۔

ماں : تم من مانی کر کے میری تربیت پر سوال اٹھانا چاہتے ہو تو جاؤ، تم آزاد ہو۔

محب اللہ : ماں تم نے مجھے اختیار دے کر اپنا اختیار ثابت کر دیا ہے۔ دعا کرنا ماں، میں اپنے مقصد میں کامیاب لوٹوں۔

محب اللہ قدم بوسی کو ماں کے قدموں پر جھکتا ہے۔ جہاں ماں کے پیر تھے وہاں تالاب ہے۔ وہ بے تابی سے نظریں بلند کرتا ہے۔ ماں کی آنکھوں سے سیلاب رواں ہے۔ وہ زمین پر بیٹھ کر ماں کے پیر تلاش کرتا ہے۔ اس کے ہاتھ پانی میں چھپ چھپ کرتے ہیں۔

محب اللہ : ماں تمہارے پیر کہاں ہیں۔ میں انہیں چھونا چاہتا ہوں۔ ماں تم بولتی کیوں نہیں،
اچھا اپنے ہاتھ میرے سر پر رکھ دو۔
محب اللہ ماں کے ہاتھوں کو ڈھونڈتا ہے۔

ماں اپنا ہاتھ دو، تمہارے ہاتھ کہاں ہیں ماں۔ یہ اتنا پانی تمہاری آنکھوں میں کہاں سے در آیا ماں اس تالاب میں، میں تمہیں کہاں تلاش کروں، تم سنتی کیوں نہیں، ظاہر کیوں نہیں ہوتیں۔ ماں تم ڈوب نہیں سکتیں۔ میں تمہیں ڈوبنے نہیں دوں گا۔ تم کہاں گم ہو گئی ہو۔ تمہارا وجود اکبر کے لیے گم ہو سکتا ہے، میرے لیے تمہارا وجود ہی سب کچھ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *