منظور پشتین نے قوم پرستی کی گیند اے این پی کے کورٹ میں پھینک دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں سیاست حکومت اور مفادات کے حصول کے لئے سرتوڑ کوششوں کا نام ہے جس میں عشق اور جنگ کی طرح سب کچھ جائز سمجھا جاتا ہے اصول پرستی اور نظریاتی سیاست کا جنازہ اس جملے نے نکال دیا کہ سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ بیس سال سے دائیں بازو اور بائیں بازو کی سیاست آپس میں بغلگیر ہو گئی ہے۔ عوام جمہوریت اور ترقی پسند سیاست کے دعویدار انتہا پسندوں کے ساتھی بن گئے، قوم پرستی کے نام پر ووٹ لینے والے اقتدار کے لئے اسی استحصالی پارٹی کی گود میں بیٹھ جاتے ہیں جس کے خلاف عوام کو ورغلا کر ووٹ لیتے ہیں۔ مذہب کے نام پر سیاست کرنے اور ملک میں اسلام بچانے والے انہی لبرل پارٹیوں کے حامی بن جاتے ہیں جس سے اسلام کو (بقول ان کے ) خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ عوام مخمصے میں جبکہ خواص مزے میں ہیں کیونکہ پاکستان میں جاری لولی لنگڑی جمہوریت کا پھل یہی ہو سکتا ہے۔

گزشتہ روز ڈاکٹر سید عالم محسود کی صاحبزادی کی رخصتی تقریب نے مقامی قوم پرست سیاست دانوں کو ایک میز پر بیٹھنے کا موقع فراہم کیا۔ ہر چند کہ یہ ایک غیر سیاسی اور غیر رسمی بیٹھک تھی۔ میری دو تین مرتبہ پوچھنے کے باوجود میاں افتخار حسین نے بحیثیت ترجمان پی ڈی ایم اپنا موقف دینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا۔ کہ میں صرف شادی میں شرکت اور کھانے کے لئے آیا ہوں۔ مگر میں اس موقع کو ہاتھ سے جانے دینے کے لئے تیار نہیں تھا اس لئے صحافتی پینترا بدلا، اور کہا کہ چلو سیاسی نہ سہی، قومی مسائل پر تھوڑا سا دانشورانہ رائے دیجئے کہ کیا ہو رہا ہے اور ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ میری دانستہ کوششوں نے میاں افتخار حسین، منظور پشتین، محسن داوڑ، شکیل وحید اللہ اور ڈاکٹر سید عالم محسود سمیت متعدد لوگوں کو اظہار خیال پر مجبور کیا۔ اس گفتگو کے خلاصے کو ہم مختصراً دو حصوں میں بیان کر سکتے ہیں۔

ملکی سطح کے مسائل اور خارجی امور کے حوالے سے حاضرین اس بات پر متفق تھیں کہ بد قسمتی سے پاکستان کی موجودہ حکومت نے چائنا کو ناراض کر کے سی پیک کو سنجیدہ خدشات سے دوچار کیا ہے۔ اور پاکستان ایک مرتبہ پھر امریکہ کی گود میں بیٹھ گیا ہے جس سے نہ صرف پاک چائنا دوستی کو دھچکا لگا ہے بلکہ نواز شریف کا بنایا ہوا وہ تزویراتی معاشی منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑگیا ہے ساتھ ہی یہ خدشہ بھی پیدا ہوا ہے کہ اب پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں توازن اور آزادی کو برقرار نہیں رکھ سکے گا اور خدشہ ہے کہ امریکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے پاکستان کو کشمیر بھلانے اور انڈیا کے ساتھ مستقل امن اور تجارت کو فروغ دینے پر مجبور کر رہا ہے تاکہ مستقبل قریب میں ان دونوں ممالک کو چینی مفادات کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔ میرے اس سوال پر کہ کیا نواز حکومت کا خاتمہ اورمسلم لیگ کی نہ ختم ہونے والی مشکلات پاک چائنا سٹریٹیجک تعلقات اور سی پیک شروع کرنے کا شاخسانہ ہے۔ سب نے اتفاق کیا۔ کہ ہاں، اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔

پشتونوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے اس بات پر تو سب متفق تھیں کہ ان مشکلات کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سب مل کر یک آواز نہ ہو جائے۔ میں نے پوچھا کہ یک آواز کیسے ہو جائے جب تمام قوم پرستوں نے الگ الگ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد یں بنا رکھی ہے ہر ایک صرف اس بات پر خوش ہے کہ وہ ایک پارٹی کے سربراہ ہے اور ان میں سے ہر ایک نے عوام کی بجائے اسٹیبلشمنٹ سے آس لگا رکھی ہے۔ کہ ان کی مدد سے وہ کسی نہ کسی شکل میں اقتدار تک پہنچنے میں کامیاب ہوگا۔

اس موقع پر جب میاں افتخار حسین نے خاموشی اختیار کی تو پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین نے ترپ کا پتہ پھینکتے ہوئے اعلان کیا۔ کہ میاں صاحب چلیں میں تمام قوم پرستوں کو ایک کرنے کے لئے ایک پیشکش کرتا ہوں۔ پارٹی کا نام بھی اے این پی رہے، اس کا پہلا صدر بھی اسفندیار ولی خان بن جائے، باقی عہدے تمام پارٹیوں میں تقسیم کرتے ہیں ان پارٹیوں کو راضی کرنے کی ذمہ داری میری ہوگی۔ کیا آپ لوگ تیار ہیں؟ میاں صاحب صرف پہلو بدل کر رہ گئے۔

کوئی جواب نہیں دیا۔ درمیان میں کوئی سلام کرنے آیا، تو منظور پشتین نے مجھے آہستہ سے کہا کہ میری بات کو آگے بڑھائیں۔ یہی پشتونوں کے مسائل کا واحد حل ہے۔ میں نے میاں افتخار کو دوبارہ متوجہ کیا کہ پشتین کیا کہتے ہیں۔ منظور پشتین نے کہا میاں صاحب میں اپنے قول پر قائم ہوں۔ پارٹی کا نام بھی اے این پی رہے، اس کا پہلا صدر بھی اسفندیار ولی خان بن جائے، باقی عہدے تمام پارٹیوں میں تقسیم کرتے ہیں ان پارٹیوں کو راضی کرنے کی ذمہ داری میری۔

کیا آپ لوگ تیار ہیں؟ میاں صاحب نے کہا، آپ تو پارلیمانی سیاست کے خلاف ہے پھر کس طرح ہم ایک پارٹی بنا سکتے ہیں۔ اس موقع پر محسن داوڑ نے لقمہ دیا کہ میاں صاحب، وہ تو بڑی پیشکش کرتا ہے۔ اگر وہ تمام پارٹیوں کو راضی کرنے کی ذمہ داری لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ خود بھی اس میں عہدہ لینے کے لئے تیار ہوگا۔ منظور پشتین نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ میاں افتخار نے بے چارگی کے ساتھ جواب دیا۔ اگر میری ذاتی رائے درکار ہے تو میں تیار ہوں مگر پارٹی کی حیثیت سے اس پر رائے دینا میرا اختیار ہی نہیں۔ البتہ میں آپ کی پیشکش پارٹی اجلاس میں رکھ سکتا ہوں۔

اگرچہ شادی کی اس تقریب میں یہ بات ادھر ہی ختم ہو گئی۔ لیکن منظور پشتین نے دراصل قوم پرستی کی تحریک کا بال کامیابی کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی کی کورٹ میں پھینک دیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا عوامی نیشنل پارٹی باچا خان کے فلسفہ (یو کیگو گنی ورکیگو) اور منظور پشتین کی پیشکش پر عمل کر کے واقعی پشتونوں کے مسائل حل کرنے میں مخلصانہ کردار ادا کرتی ہے یا پھر رات گئی بات گئی کی مانند ہر ایک ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہی میں خوش اور مطمئن رہتی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments