پاکستان کے مشہور لوک گلوکار شوکت علی لاہور میں انتقال کر گئے

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی موسیقی کا ایک بڑا نام اور کئی مشہور لوک گیتوں کو زندگی دینے والے غزل اور لوک گلوگار شوکت علی جمعے کو لاہور میں انتقال کر گئے ہیں۔ شوکت علی لاہور کے کمبائنڈ ملٹری (سی ایم ایچ) ہسپتال میں گزشتہ چند روز سے زیرِ علاج تھے۔

شوکت علی کے بیٹے امیر شوکت علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد گزشتہ کچھ عرصہ سے جگر کے عارضے میں مبتلا تھے اور ’یہی ان کی موت کی وجہ بنی۔ ان کا جگر کام کرنا چھوڑ گیا تھا۔‘

امیر شوکت نے حال ہی میں ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انھوں نے اپنے والد کے مداحوں اور عوام سے ان کی صحتیابی کے لیے دعا کی درخواست کی تھی۔

ان کے مطابق شوکت علی کی تدفین بھی لاہور میں ہی کی گئی ہے۔ امیر شوکت نے اپنے والد کے علاج پر پاکستانی افواج کے سربراہ سمیت ان افراد کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کے والد کی جان بچانے کی کوشش میں ان کی مدد کی تھی۔

‘ان کا بہت اچھا علاج ہوا اور فوج سمیت میں ان تمام شخصیات کا شکر گزار ہوں جنھوں نے اس مشکل وقت میں ہماری مدد کی۔‘

یہ بھی پڑھیے

’میرے افسر تم کہاں چلے گئے‘

پروفیسر منظور احمد: ترقی پسند تعلیمی ادارے ’شاہ حسین کالج‘ کا باب بند ہو گیا

کالم نویس اور ادیب منو بھائی چل بسے

شوکت علی کا فنی کیریئر

امیر شوکت نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد سنہ 1944 میں لاہور میں اندرون بھاٹی گیٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ پانچ سے زائد دہائیوں پر محیط اپنے موسیقی کے سفر کے دوران انھوں نے کئی پاکستانی فلموں کے لیے گانے گائے۔

تاہم شوکت علی پہلی مرتبہ 1960 کی دہائی میں پاکستانی فلی گائیکی کے منظر نامے پر ابھرے تھے جب انھوں نے اس وقت کی مشہور فلم تیس مار خان کے لیے اپنی آواز پیش کی۔

اسی دہائی میں سنہ 1965 کی پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران انھوں نے ملی تغمے بھی گائے جو تاحال مشہور ہیں۔

ان میں ایک ملی نغمہ ’جاگ اٹھا ہے سارا وطن‘ آج بھی ان کی پہچان ہے اور کئ گلوکاروں نے کئی مرتبہ اسے گایا ہے۔ شوکت علی نے موسیقی کی تقریباً تمام تر اصناف میں اپنی آواز کو کامیابی سے آزمایا جس میں غزل گائیکی بھی شامل ہے۔ تاہم ان کی وجہ شہرت لوک موسیقی رہی۔

میوزک کمپوزر اور پاکستانی ثقافت اور موسیقی کے فروغ کے لیے کام کرنے والی نمایاں شخصیت یوسف صلاح الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’شوکت علی نے اردو میں بھی کافی فلموں کے لیے گانے گائے اور غزل وغیرہ بھی گائی لیکن وہ زیادہ مشہور پنجابی کے صوفی کلام کو گانے کے لیے تھے۔‘

یوسف صلاح الدین پاکستان ٹیلی ویژن پر ورثہ کے نام سے ایک موسیقی کے پروگرام کی میزبانی بھی کرتے ہیں جو ان کی لاہور میں واقع حویلی میں ہی ریکارڈ بھی کیا جاتا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ شوکت علی اور ان کے بیٹے بھی ان کے پروگرام میں آ کر گا چکے ہیں۔ ’انھوں نے صوفی شاعر میاں محمد بخش کا کلام کافی گایا ہے۔ ان کی وفات پاکستان میں خصوصاً لوک موسیقی کے مداحوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔‘

شوکت علی کو اپنی زندگی میں کئی اعزازات سے نوازا گیا تاہم پاکستان میں موسیقی کے لیے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انھیں سنہ 1990 میں پرائد آف پرفارمنس کے اعزاز سے بھی نوازا۔

شوکت علی گزشتہ کچھ عرصہ سے بیمار تھے اور دل کے عارضہ کے باعث ان کا بائی پاس آپریشن بھی ہو چکا تھا۔ کچھ عرصہ قبل وہ جگر کی بیماری میں مبتلا ہوئے تھے اور صوبہ سندھ کے شہر خیر پور میں واقع ہسپتال میں ان کا علاج کیا گیا تھا۔

تاہم ایک مرتبہ پھر حال ہی میں انھیں دوبارہ جگر کی بیماری نے ہسپتال تک پہنچا دیا۔ شدید علیل حالت میں انھیں لاہور کے سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں گزشتہ چند روز سے ان کی حالت بہت زیادہ خراب بتائی جا رہی تھی۔

شوکت علی کے تین بیٹے امیر شوکت علی، عمران شوکت علی اور محسن شوکت علی بھی گلوکار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18537 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp