عالمی شہرت یافتہ سوامی اور صحافی لالہ خوشحال چند خورسند

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمی شہرت یافتہ سنیاسی اور پنجاب میں اردو صحافت کے بانیوں میں شمار ہونے والے مہاشہ خوشحال چند خورسند خوشتر کا تعلق گجرات کے تاریخی شہر جلالپورجٹاں سے تھا۔ انہوں نے اردو صحافت کی بنیاد رکھی، تحریک آزادی میں کردار کیا اور پھر آریہ سماج کی تحریک میں قابل قدر خدمات انجام دے کر عالمی شہرت حاصل کی۔ وہ مہاشہ سے مہاتما، خورسند سے خوشتر اور لالہ سے سوامی تک کا سفر طے کر کے آنند سوامی سرسوتی کے نام سے شہرت پائی۔ ہندوستان میں آج بھی ان کی DAV تحریک میں تعلیمی و سماجی خدمات پر انہیں محبت و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔

یہ انیسویں صدی کے نصف آخر کی بات ہے کہ لالہ خوشحال چند کے والد منشی گنیش داس جلالپورجٹاں کی معروف و ممتاز شخصیت کے حامل کاروباری شخص تھے اور جلالپور جٹاں میں آج کے پرانا تھانہ جلالپورجٹاں کے پاس گلی میں ان کا گھر تھا۔ وہی مکان جو تقسیم ہند کے بعد مولانا محمد جمیل کی رہائش گاہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ منشی گنیش داس روشن خیال ہندو تھے۔ وہ ہندو مذہب کے ماننے والوں کی بہت سی مذہبی رسومات اور روایات سے بددل تھے۔

وہ ان مذہبی رسومات و روایات سے اتنے بیزار تھے کہ ایک وقت پر انہوں نے ہندو مذہب ترک کر کے عیسائیت قبول کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا۔ ان کی مذہبی بد دلی کے دنوں میں اتفاق سے ان کی ملاقات آریہ سماج کے راہنماء سوامی دیانند سرسوتی سے ہوئی تو منشی گنیش داس نے ہندو مذہبی روایات و رسوم سے اپنی بیزاری کا اظہار ان کے سامنے بھی کیا۔ دوران گفتگو سوامی دیانند نے انہیں کہا کہ ان میں سے اکثر رسومات و روایات کا ہندو مذہبی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے، کچھ لوگ انہیں اپنی جہالت کی وجہ سے اپنائے ہوئے ہیں۔

ان کی وجہ سے عیسائیت کی طرف نہ جائیں بلکہ اپنے ہم مذہب لوگوں کی فکری اصلاح کے لیے ان کی راہنمائی کریں اور ان میں اس حوالے سے روشنی پھیلائیں اور ان کو بتائیں کہ یہ سب رسومات غیر متعلقہ ہیں۔ سوامی دیانند سرسوتی سے ملاقات اور گفتگو نے منشی گنیش داس پر گہرے اثرات مرتب کیے اور وہ اس تحریک سے وابستہ۔ ہو کر بھگت ہو گئے۔ پھر منشی گنیش داس کی شادی جیونی دیوی سے ہوئی۔ ان کے ہاں 15 اکتوبر اور کچھ روایات کے مطابق 9 اکتوبر 1882 ء کو بیٹا پیدا ہوا۔

منشی گنیش داس نے بیٹے کا نام خوشحال چند رکھا۔ پیدائش کے بعد بچہ بڑا ہونے لگا تو چند سالوں میں ہی معلوم ہوا کہ بچہ آٹزم کا شکار ہے اور ”سلو لرنر“ ہے۔ اس کے والد پریشان ہوئے اور ادھر ادھر سے علاج کی کوشش بھی کرتے رہے لیکن بات نہیں بنی۔ ایک روز بھگت منشی گنیش داس کی ملاقات سوامی نیتے آنند سے ہوئی تو خوشحال چند کے والد نے بیٹے کے حوالے سے مسئلے کا تذکرہ بھی کیا، سوامی نے گنیش کو کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو روزانہ ”گایتری منترا“ پڑھایا کرے۔

یہ سنسکرت کے منتروں میں ایک قدیم ترین منتر ہے۔ اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ ”اے مطلق وجود ; تین جہانوں کے خالق، ہم آپ کے الٰہی نور پر غور کرتے ہیں۔ وہ ہماری عقل کو متحرک کرے اور ہمیں حقیقی علم عطا کرے۔ ہندو مذہب میں دیوی گایتری کو وید ماتا بھی کہا جاتا ہے۔ اس لیے اس مذہب میں کہا جاتا ہے کہ گایتری منتر کے منانے اور اسے مضبوطی سے قائم کرنے سے، پڑھنے والے کی زندگی میں جو کام مقرر کیا جائے وہ انجام دے تو اس کی زندگی خوشی سے بھرپور ہو جاتی ہے۔

چنانچہ منشی گنیش نے بیٹے کو روزانہ یہ منتر پڑھوانا شروع کیا تو حیران کن طور پر آہستہ آہستہ خوشحال چند بہتر ہونے لگا اور کچھ ہی عرصے بعد وہ نارمل بچہ بن گیا۔ آٹزم کی وجہ سے وہ رسمی تعلیمی درجے حاصل نہ کر پایا تاہم مذہب سے اس کی دلچسپی بڑھی تو وہ کتب بینی کرنے لگا۔ گنیش داس چاہتے تھے کہ اس کا بیٹا اچھا کاروباری شخص بنے لیکن اس کے بیٹے کا اس طرف دھیان نہیں تھا وہ پڑھنے لکھنے کی طرف دلچسپی لینے لگا۔ جوان ہوا تو اس کی شادی میلا دیوی کے ساتھ کر دی گئی۔ ان کے آٹھ بچے ہوئے۔ چھ بیٹے رنبیر، اوم پرکاش، یش، یدھ ویر، چترا پرکاش، سرومترا تھے، اور دو بیٹیاں ساوتری اور پرما تھیں۔

خوشحال چند کا لگاؤ لکھنے پڑھنے کی طرف تھا وہ بہت باتونی بھی تھا اس لیے جلالپور میں کافی مشہور تھا۔ جلالپور جٹاں کے طویل العمر بزرگ سماجی و سیاسی راہنماء شیخ ظہور احمد نے ماہنامہ گردش ایام (ستمبر 2009 ) کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ ”خوشحال چند کو مقامی لوگ ’منشی کاں‘ کے نام سے پکارتے تھے“ ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ جلالپورجٹاں میں آریہ سماج کی سالانہ میٹنگ ہو رہی تھی کہ خوشحال چند نے بھی اس میں شرکت کی اور بعد میں اس میٹنگ کی ایک رپورٹ لکھی اور اس رپورٹ کو مہاتما ہنس راج کو دکھایا۔

انہوں نے رپورٹ پڑھی اور اسے سراہتے ہوئے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا اور خوشحال چند کو لاہور آ کر ملنے کو کہا۔ خوشحال ان سے ملنے لاہور گیا تو مہاتما ہنس راج نے اسے اپنے ہفت روزہ اخبار ”آریہ گزٹ“ میں بطور ایسوسی ایٹ ایڈیٹر رکھ لیا۔ اس طرح خوشحال چند نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔ یہ کام ان کے مزاج کا تھا اس لیے انہوں نے پوری دلجمعی اور محنت سے یہ کام سرانجام دیا اور پیشہ وارانہ شہرت حاصل کی۔ اس زمانے میں ساحل مالا بار میں موپلا بغاوت اور بڑے شدید ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے تو مہاتما ہنس راج نے 1921 ء خوشحال کو وہاں بھیج دیا۔

وہاں انہوں نے فسادات کی روک تھام اور امن کے قیام کے لیے فکری و عملی اور زبانی و قلمی طور فعال کردار ادا کیا، کوہاٹ کے ہندو مسلم فسادات میں بھی وہ امن کے لیے کام کرتے نظر آئے۔ پھر واپس لاہور آئے تو انہوں نے اپنے فکری مشن کے بڑے پیمانے پر فروغ کے لیے اردو اخبار نکالنے کا فیصلہ کیا۔ خوشحال چند نے بیساکھی کے تہوار کی مناسبت سے 13 اپریل 1923 ء کو اردو روزنامہ ”ملاپ“ کا اجراء کیا۔ یہ اخبار بھی آریہ گزٹ کی طرح بنیادی طور پر آریہ سماج کی سوچ ہی کا ترجمان تھا۔ وہ نوآبادیاتی سرکار کی مقامی آبادی کو لڑانے کی سازشوں کے سخت ناقد تھے۔ روزنامہ ملاپ آزادی کے لیے قوم پرست تحریکوں کا ہمنوا تھا اور ان کی آواز بلند کرتا تھا۔ اس اخبار میں لکھتے ہوئے لالہ خوشحال چند نے اپنا قلمی نام ” خورسند“ لکھنا شروع کیا۔ خورسند کے معنی مطمئن و مسرور کے ہیں۔ یعنی وہ اپنی قلمی زندگی سے خوش تھے۔ 1928 ء میں انہوں نے ہندی ” ملاپ“ بھی شروع کیا۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس اور مسلم لیگ کے بڑے نقاد تھے اور انگریز سرکار پر بھی خوب برستے تھے۔ انہوں نے تحریک خلافت کی حمایت کی لیکن کمیونل ایوارڈ کی کھل کر مخالفت کی۔ سیاسی فکر اور صحافتی خدمات کے ساتھ ان کے اندر مہاتما ہنس راج کی مذہبی و سماجی فکر اور تعلیمی اصلاحات کا رنگ زور پکڑنے لگا تھا۔ ان کا اخبار ان کے بیٹوں نے سنبھال لیا۔ وہ آریہ سماج میں خاصے مقبول ہو گئے تھے۔ 35۔ 1934 ء میں انہوں نے کوئٹہ اور بہار میں بھی آریہ سماج کے ساتھ مل کر ہندو برادری کے لیے بہت سے امدادی کیمپ منعقد کیے۔

14 نومبر 1938 ء کو لاہور میں ہنس راج کی وفات کے بعد خوشحال چند نے ان کے ورثے میں زیادہ دلچسپی لینا شروع کر دی تھی لوگ بھی انہیں ہنس راج کا جانشین سمجھنے لگے تھے اور کئی پیروکاروں نے لالہ جی مہاشہ خوشحال چند کو مہاتما کہنا شروع کر دیا تھا۔ 1939 ء میں ریاست حیدرآباد میں نظام اور وہاں کے ہندوؤں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تو خوشحال چند خورسند ستیہ گڑھی کھیپ کے ساتھ حیدر آباد پہنچے اور نظام آف حیدرآباد کے خلاف مہم میں پیش پیش رہے۔ وہاں اس تحریک میں انہیں جیل بھی جانا پڑا اور وہ سات ماہ تک جیل میں قید رہے۔ جب سندھ میں پرکاش پر پابندی لگی تو انہوں نے سندھ پہنچنے کی آواز بلند کی۔ اس دوران کتابیں اور کتابچے بھی لکھتے رہے۔

اگست 1947 ء میں تقسیم ہند کے بعد وہ ہندوستان چلے گئے اور وہاں دہلی جا کر بسے اور ملاپ اخبار بھی وہیں لے گئے اور نیو دہلی سے اسے جاری کیا۔ وہاں وہ اخبار کی بجائے دیس بھگتی میں زیادہ مصروف ہو گئے۔ تقسیم کے بعد کے فسادات کے بعد انہوں نے سماجی خدمت کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ جب وہ اپنی عشروں کی محنت سے زندگی کی خوشحالی کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے اپنی باقی ساری زندگی وید پرچار کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا پھر 1949 ء میں انہوں نے دنیاداری کو ترک کر کے مکمل جوگ اپنا لیا اور سنیاسی ہو گئے۔

سنیاس اپنانے کے بعد ان کی زندگی کا نصب العین صرف اور صرف اپنے سماج اور وطن کی خدمت کرنا ہو گیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے مختلف جگہوں کا دورہ کیا اور اس حوالے سے لیکچر دیے۔ ضرورتمندوں کی داد رسی ان کا کام بن کر رہ گیا انہوں نے سماج میں امن اور روحانیت کی روشنی پھیلانے کے لیے کمر کس لی۔ اس مقصد کے لیے وہ افریقی ممالک بھی پہنچے۔ کینیا، یوگنڈا، اور تنزانیہ کے دورے کیے اور وہاں ویدک مذہب کی تبلیغ کی اور دنیا کو گایتری منتر کی انوکھی طاقت سے متعارف کروایا۔

ان کا پیغام ذات پات اور مذاہب سے بلند تھا۔ ان کے اعلٰی خیالات، نیک روح اور نفیس مزاج کو دیکھ کر لوگوں نے انہیں مہاتما کہا اور خوشحالی کو ترک کر کے سنیاس و جوگ اپنانے پر مذہبی راہنما کے طور پر سوامی مشہور ہوئے۔ وہ علم دوست قلمکار تھے۔ انہوں نے تیس کے قریب مذہبی تعلیمات کی کتابیں بھی لکھیں جن میں، پربھو درشن، دنیا میں رہنا کیسے ہے، پربھو بگھیتی، ویرات کتھا، آنند گیایتری کتھا، گھور گھنے جنگل میں، شنکر اور دیانند، یوگ کا پرساد، مہامنترا، بھگت اور بھگوان، ایک ہی راستہ، اپنشدوں کا سندیس، پربھو ملن کی راہ، یہ دھن کس کا ہے، دو راستے، منو اور منوتا، منوا جیون کتھا، مہاتما آنند سوامی جیونی، ستیا نریان، تت ویگان، ماء، وغیرہ بہت مقبول ہوئیں۔ انہی علمی و قلمی اور تبلیغی خدمات کی بدولت علم اور گفتگو کی دیوی سرسوتی کی مناسبت سے سرسوتی بھی کہلائے۔ اپنے خوشی اور محبت کے پیغام کی وجہ سے ان کا تخلص بھی خورسند سے خوشتر ہو گیا۔ ان کی تحریک کا بنیادی پیغام، ہمیشہ مسکراتے رہئیے یعنی ” KEEP SMILING“ تھا۔ انہیں ہندوؤں کے ساتھ مقامی سکھوں اور مسلمانوں سے بھی بہت احترام اور محبت ملی۔ وہ آنند سوامی سرسوتی کے نام سے جانے لگے۔ انہوں نے ہنس راج کے بعد دیانند اینگلو ویدک کالجز تحریک (DAV) میں بہت کام کیا اور ساری زندگی یہی خدمت کرتے رہے۔ جلالپورجٹاں میں پیدا ہونے والا مہاشہ خوشحال چند پنجاب میں اردو صحافت کے بانیوں میں شمار ہونے کے بعد مذہبی اور روحانی دنیا میں آنند سوامی سرسوتی کی شہرت حاصل کر کے 24 اکتوبر 1977 ء بروز سوموار اس جہان فانی سے کوچ کر گیا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments