سکیلپنگ: آن لائن چیزوں کی خرید و فروخت سے ہزاروں ڈالر کمانے والے نوجوان

سیم گریٹ - بی بی سی نیوز بیٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سیم اور رائن

Ryan Lee/ Sam

پوکیمون کارڈز، دو پلے سٹیشن فائیو ایس اور ایک ہزار ڈیزائنر جوتے جن کی مالیت ایک ہزار پاؤنڈ ہے۔ 18 برس کے جیک (نام تبدیل کر دیا گیا ہے) ان سب چیزوں کے ساتھ اپنے بیڈ روم میں موجود ہیں۔

وہ اِن سکیلپرز میں سے ہیں جن کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ یہ نوجوان افراد زیادہ طلب والی چیزوں کو بوٹس کی مدد سے آن لائن خریدتے اور فروخت کرتے ہیں یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے منافع خوری۔

سیاستدان اور گیمرز اس پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سکیلپنگ کیا ہے؟

یہ لفظ پہلی بار اس کام کے لیے استعمال کیا جانے لگا جب کچھ لوگ بڑی تعداد میں کسی تقریب کی ٹکٹیں خرید لیا کرتے تھے اور پھر انھیں بلیک میں زیادہ داموں پر بیچتے تھے۔ اس طرح وہ منافع کماتے تھے۔

ٹکٹ سکیلپ کرنے والے بھی بوٹس استعمال کرتے تھے۔ بوٹس ایسے کمپیوٹر سافٹ ویئر کو کہتے ہیں جس کی مدد سے انسانوں سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ انٹرنیٹ پر جانچ پڑتال اور اشیا کی خرید و فروخت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مہنگی ڈگری کے بغیر بھی آن لائن کمائی ممکن!

’میرا بیٹا آن لائن گیمز سے جوئے کی لت کا شکار بنا‘

آن لائن فراڈ کا اگلا نشانہ کہیں آپ تو نہیں!

آن لائن خریداری: ’ریویوز پر کبھی بھروسہ نہ کیا جائے‘

سنہ 2018 میں ایڈ شیرن اور دی آرکٹک منکیز جیسے گلوکاروں نے اس کے خلاف مہم کی حمایت کی تھی اور برطانوی حکومت نے بوٹس کی مدد سے ٹکٹیں خریدنے کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

لیکن بوٹس کی مدد سے زیادہ طلب والی اشیا جیسے ویڈیو گیمز یا جِم کا سامان خریدنے کی اب بھی اجازت ہے۔

عالمی وبا کے دوران دکانوں کی بندش کی وجہ سے سکیلپر افراد کے لیے یہ سنہری موقع تھا کہ وہ بوٹس کی مدد سے آن لائن مارکیٹوں سے ویڈیو گیم سے لے کر ہاٹ ٹب تک کچھ بھی خرید لیں اور اسے آن لائن فروخت کریں۔

جیک یہ نہیں بتاتے کہ وہ سکیلپنگ سے کتنے پیسے کما چکے ہیں لیکن یہ رقم بہت زیادہ سمجھی جاتی ہے۔

’حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس کا حساب بھی نہیں رکھا۔ شاید نومبر سے لے کر اب تک 10 ہزار پاؤنڈ۔‘

وہ یہ کام کئی برسوں سے کر رہے ہیں جس میں وہ یزی یا جارڈن کے ٹرینر جوتوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں لیکن اب وہ مزید منافع بخش اشیا کی تجارت میں آ چکے ہیں۔

رائن

Ryan Lee
رائن کیمبرج سے فارغ التحصیل ہیں اور نیا پلے سٹیشن خریدنا چاہتے ہیں

’جب سٹاک محدود تھا تو میں ایک پی ایس فائیو با آسانی 800 پاؤنڈ میں فروخت کر سکتا تھا۔‘

یہ پرچون نرخ یا ریٹیل پرائس سے قریب دگنی قیمت ہے۔ یہ ایک وجہ ہے کہ کئی گیمر پی ایس فائیو یا ایکس باکس سیریز ایکس کی ریلیز سے اب تک انھیں خرید نہیں پائے۔

26 برس کے رائن بھی ان لوگوں میں سے ایک ہیں۔ وہ کیمبرج سے فارغ التحصیل ہیں اور نیا پلے سٹیشن خریدنا چاہتے ہیں لیکن ان کے لیے یہ تجربہ ’پریشان کن‘ رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے ایک دوست نے ریلیز کے وقت اسے خرید لیا تھا مگر ’ہم میں سے اکثر لوگ اس وقت سو رہے تھے۔ ہمیں صبح کام پر جانا تھا یا ہم میں سے کچھ افراد کے بچے ہیں۔ میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں ایک بھی خرید پاؤں گا۔‘

’یہ تکلیف دہ ہے۔ میں نے ایک تصویر میں دیکھا کہ ایک شخص نے اپنے گھر میں 15 گیمز رکھی ہوئی ہیں اور وہ ہر گیم 600 پاؤنڈ کی فروخت کر رہے ہیں۔‘

کرسٹینا آٹزم سے متاثرہ اپنے بھائی کے لیے گیم خریدنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ قریب دو گھنٹوں تک ورچوئل قطار میں انتظار کرتی رہیں اور جب تک ان کی باری آئی تو تمام گیمز فروخت ہو چکی تھیں۔

’یہ واقعی بہت پریشان کن ہے۔‘ مگر سکیلپر کہتے ہیں کہ ’یہ بس کاروبار ہے۔‘

ان میں سے ایک 17 برس کی سیم ہیں جو مختلف یونیورسٹیوں میں داخلے کی درخواست دائر کر رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں شاید واحد 17 برس کی نوجوان ہوں جس کے پاس سنیپ چیٹ، ٹک ٹاک یا فیس بُک نہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان کے ہم عمر دوسرے افراد جب ’لاک ڈاؤن کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہوتے ہیں‘ تب وہ اپنا ایک کاروبار چلاتی ہیں جو ماہانہ دو ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کماتا ہے۔ وہ ڈسکارڈ ایپ کا استعمال کرتی ہیں جو بوٹس استعمال کرنے والوں میں معروف ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں جعلساز نہیں، ایک انٹرپرینور ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر خریداری اور قیمت کا تعین کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسا اپنے خاندان کی پرورش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔‘

جیک کہتے ہیں کہ ’میں شاید اچھا انسان نہیں لگتا لیکن یہی کاروبار ہے، نہیں؟‘

’میں باقی 18 برس کے لوگوں کی طرح بیڈ روم میں ویڈیو گیمز نہیں کھیل رہا جو اپنی زندگی کے ساتھ کچھ نہیں کرتے۔ اس طرح پیسے کمانا آسان ہے۔ یہ جیب خرچ ہے۔‘

دھمکی آمیز پیغامات

لیکن آن لائن منافع خوری کے ذریعے پیسے کمانے میں خطرات بھی موجود ہیں۔ سیم کو تشدد کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’لوگوں نے یہاں تک کہا کہ مجھ پر چاقو کا وار ہونا چاہیے اور مجھے زخمی حال میں سڑک پر چھوڑ دینا چاہیے۔‘

انھوں نے صرف اس شخص کی شکایت درج کروائی ہے جس نے انھیں ریپ کی دھمکی دی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہ میرا حق ہے۔‘

سیم

Sam
آن لائن منافع خوری کے ذریعے پیسے کمانے میں خطرات بھی موجود ہیں اور سیم کو تشدد کی دھمکیاں مل چکی ہیں

وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے پولیس کو مزید دھمکیوں کے بارے میں مطلع نہیں کیا کیونکہ اس سے وقت ضائع ہوتا ہے۔

’لڑکیوں کو آن لائن ہر وقت اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب لوگ ایک سکرین اور کی بورڈ کے ساتھ ہوتے ہیں تو وہ ہر قسم کی باتیں کرتے ہیں۔‘

جیک کو بھی دھمکی آمیز پیغامات ملے ہیں۔

’کئی پیغامات ان آدمیوں کی طرف سے ہوتے ہیں جن کی عمریں 30 یا 40 سال تک ہوتی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میری عمر بس 16 سال ہو گی اور وہ مجھے دھمکیاں دے سکتے ہیں۔‘

’یہ منصفانہ نہیں‘

تو رائن جیسے گیمرز کی مدد کے لیے کیا ہو رہا ہے؟ ایسی شکایات کی وجہ سے کئی سیاستدان بھی بحث میں شریک ہو گئے ہیں۔ ان میں سکاٹس نیشنل پارٹی کے رکن پارلیمان ڈگلیس چیپ مین شامل ہیں۔

اس مسئلے پر اتنے لوگوں نے آواز اٹھائی کہ ڈگلیس نے یہ معاملہ پارلیمان میں اٹھا دیا ہے۔ گذشتہ ہفتے انھوں نے حکومت کے سامنے ایک بِل پیش کیا کہ جس میں بوٹس کی جانب سے اشیا کی آن لائن خریداری پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ عمل عام صارفین کے لے ٹھیک ہے۔ اگر کرسمس کے دوران آپ پی ایس فائیو خریدنا چاہتے تھے مگر ایسا نہیں کر سکے تو ممکنہ طور پر ایسا بوٹس کی وجہ سے ہوا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پیسے کمانے میں کوئی بُرائی نہیں‘ مگر یہاں ’اخلاقی دلیل‘ ہے کہ لوگوں کو مارکیٹ کی قیمت ہی ادا کرنی چاہیے۔

حکومت کا کہنا ہے سکیلپنگ پر پابندی کے لیے مارکیٹ میں متعلقہ ٹریڈ ایسوسی ایشنز سے بات چیت جاری ہے۔

سیم کہتی ہیں کہ ’بوٹس پر پابندی کے لیے قانون سازی‘ کا امکان ہے لیکن پھر لوگ خود سے اشیا خریدنے لگ جائیں گے۔

بوٹس کے بغیر بھی لوگ بڑے پیمانے پر اشیا خرید سکیں گے۔

’آپ دوسروں کی طرح اشیا خرید سکتے ہیں اور پھر انھیں بیچ سکتے ہیں۔ آپ کامرس پر پابندی نہیں لگا سکتے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18905 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp