دیپ جلتے رہے(قسط 34)

اپنے بابا کے اعصابی داؤ پیچ نے بچوں کی کی فکری، ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو ذرا متاثر نہ کیا تھا۔ اس کی وجہ احمد کا بچوں سے بے تحاشا پیار۔ جنون کی انتہا پر بھی وہ کبھی بچوں کے آرام، ان کی خوشی اور موڈ پر اثر انداز نہ ہوئے۔ بچوں نے بھی اپنے بابا پر اپنی کسی فرمائش یا خواہش کا بوجھ نہیں ڈالا۔ بچوں کے بڑے ہونے تک احمد کے مزاج اور طبیعت میں کافی ٹھہراؤ آ گیا تھا۔ حساس دلوں پر قیامتیں مختلف انداز سے ٹوٹتی رہتی ہیں۔

عباس ٹاؤن کے سانحے نے انہیں حد سے زیادہ آزردہ کر دیا تھا۔ ایک بے کلی تھی جو ہر پل انہیں بے چین رکھتی حساس دل اور مزاج نازک ہو تو دماغ چکرا ہی جاتا ہے، اس سانحے نے دماغ میں ایسا کیا خلل ڈالا کہ سب جانتے بوجھتے، بیٹے کو اپنے دام میں پھنسایا۔ اسے باپ سے ہمدردی محسوس ہوئی، اس نے بھی سوچا ہو گا کہ انجکشن کے مضر اثرات شاید بابا کی تکلیف بڑھا دیتے ہیں۔ رسک لینے میں حرج ہی کیا ہے۔ اور اب اس کی اس سادہ دلی کا خمیازہ اس چھوٹے سے گھر کے تمام مکینوں کو بھگتنا تھا۔

باپ کے جوتے بیٹوں کو اور بیٹوں کی جیکٹ ہمیں فٹ آنے لگی تو سوچا کہ باپ کی وحشتیں، ہماری تھکن اور بچوں کی توانائی، سب مل کر پہنیں گے، اوڑھیں گے مگر،

الجھائے رکھا جیب و گریباں کے تار میں
اہل جنوں نے وقت کو جانے نہیں دیا

اپنے گنجے سر کو چمک دار بنانے کے لیے تیسرے چوتھے روز استرا لگواتے۔ کان میں ایک بالی ہنوز تھی۔ زیادہ وقت گھر سے باہر گزرتا تھا۔

اب مشکل یہ کہ ہاتھ آئیں تو مسکن ادویات کا استعمال شروع ہو۔ اہل جنوں کی ہوش و خرد، اپنی ہستی سے بے گانگی اور دنیا کی کمینگیوں سے پردہ پوشی، محبان مجنوں پر بار ہے۔ انسان اپنے درمیان اپنے جیسے ہی ”ہوش مندوں“ کو دیکھنے کا خواہاں ہے۔ دنیا پر ٹھٹھا لگانے والوں کے لیے الگ دنیا ہے۔ اگر الگ دنیا میں بھیجنے کو من نہ کر ے تو ہوش میں رہتے ہوئے اہل جنوں کی آواز کے ساتھ آواز ملا کر دنیا پر تین حرف بھیج کر چارہ گر کے سوا کون ہے جو سر کو لہو کرے۔

رامش اپنی غلطی سدھارنے کے لیے کمر بستہ ہو گیا۔ گھر میں میٹنگ بلائی گئی، چھوٹے بڑے اور منجھلے نے بابا کو آڑے ہاتھوں لیا۔ باپ کی بچوں سے بے پناہ محبت کے آگے غصہ، پانی کی طرح بہہ گیا۔ چپ چاپ اچھے بچوں کی طرح اپنے سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر ایاز کے پاس پہنچے۔ مسکن داؤں، انجکشن کے ڈوز سے مزاج میں کچھ اعتدال آیا، وعدہ کیا کہ، اچھے، بڑوں کی طرح بقیہ زندگی گزاری جائے گی۔ کان سے بالی اتر گئی۔ سر پر بال اگ آئے۔ لیکن اس بار دماغ سے گنجلک، اور سر سے آشفتگی نکلنے میں کوئی آٹھ ماہ کا عرصہ لگا۔

اس دوران امریکہ سے مشاعرہ پڑھنے کی دعوت آئی، مگر منتظمین سے الجھ بیٹھے۔ یوں آشوب وحشت، حیات زلف سے الجھتی رہی، دست قدرت سنوارتی رہی۔ یہ دن ہمارے لیے بھاری تو تھے لیکن بچوں کو ایک بڑا سبق دے گئے کہ علاج میں ناغہ کس قدر اذیت ناک ہو سکتا ہے۔

دونوں بڑے بیٹے اس دوران میٹرک کر چکے تھے۔ ، کالج کے چناؤ کا مرحلہ آیا تو مستقبل کے ساتھ ان کی جان کے تحفظ کی فکر دامن گیر ہوئی۔ بارہ تیرہ برس پہلے، درس گاہیں، قتل گاہیں ہوا کرتی تھیں۔ کسی بھی تعلیمی ادارے میں قدم جمانے کے لیے کسی جماعت سے سیاسی وابستگی لازمی تھی۔ چنانچہ اوسط درجے کی فیس والے نجی کالج میں داخلہ کرایا گیا۔ دونوں بچے سائنسی مضامین میں کامیاب ہوئے ایک کو ریاضی تو دوسرے کو کمپیوٹر پسند تھا۔

ڈاکٹر، انجینئر ٹائپ کسی سکہ بند پیشے سے دونوں کو کوئی شغف نہ تھا۔ جامعہ کراچی کے حالات بھی کچھ اچھے نہ تھے۔ بچوں کی لاکھ ضد کے باوجود انہیں وہاں پڑھنے کی اجازت نہ ملی۔ چڑھتی جوانی سرکش گھوڑے کی مانند ہوتی ہے۔ اس عمر میں خطرات سے کھیلنا اچھا لگتا ہے۔ ہم ڈرپوک قسم کے والدین تھے۔ بچوں کو بائیک چلانے کی اجازت دیتے بھی ڈرتے تھے۔ یوں انہیں ہر طرح کی آزادی تھی۔ ان پر مضامین کے انتخاب اور مسقتبل میں ان کے کچھ کرنے سے متعلق کوئی پابندی نہ تھی، حتیٰ کہ تعلیمی ڈگری کہاں تک حاصل کرنی ہے ، اس بارے میں بھی ان پر کوئی دباؤ نہیں۔ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے کس میدان کا انتخاب کرنا ہے اس کے لیے بھی انہیں کوئی مشورہ نہیں دیا گیا تھا۔ البتہ یہ خواہش ضرور تھی کہ وہ کسی مثبت سرگرمی میں مصروف رہیں۔ اس کے لیے ہم انہیں ٹیوشن پڑھانے کی جانب مائل کیا کرتے۔

محلے کے چند گھروں میں انہوں نے ٹیوشن پڑھانی شروع کر دی۔ جس اسکول میں ہم پڑھاتے تھے وہاں والدین اور بچوں کی میٹنگ کے دوران اکثر والدین ہم سے کسی ٹیوٹر کی بابت دریافت کرتے۔ ہم نے کمال ہوشیاری سے اپنے دونوں بیٹوں کو رشتہ ظاہر کیے بغیر بہترین ٹیوٹر کے طور پر ظاہر کیا۔ بچوں نے لاج رکھی حالانکہ انہیں او لیول کی درسی کتب پڑھانے کا کوئی تجربہ نہ تھا لیکن کیوں کہ دونوں بیٹے بے حد ذہین اور محنتی ہیں جلد ہی انہوں نے ایک اچھے ٹیوٹر کے طور پر اعتبار قائم کر لیا۔

دونوں نے پرائیویٹ تعلیمی سلسلہ اور ٹیوشن جاری رکھی۔ آئی ٹی کے شعبے سے انہیں خصوصی دلچسپی تھی۔ وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود انہوں نے کام سیکھنے کی خاطرمعمولی معاوضے پر دن میں بارہ بارہ گھنٹے کی نوکری کی۔ بچوں کو تھکا ہوا، مضمحل دیکھتی تو انہیں نوکری چھوڑنے کا کہتی۔ ان کا ایک ہی جواب ہوتا کہ آپ ہی تو کہتی ہیں تجربے کے عوض ہمیں کچھ پیسے بھی دینا پڑیں تو سودا برا نہیں۔

سیکھنے اور آگے بڑھنے کی لگن نے بہت جلد، چھوٹی سی عمر میں ان کی صلاحیتوں کی قیمت بڑھا دی۔ پرائیویٹ پڑھائی، ٹیوشن اور پھر نوکری۔

دل کڑھتا تھا، لیکن پھر اپنی جوانی کا دور یاد آتا، ایسی ہی کڑی محنت ہم نے بھی کی تھی، جوانی میں آگے بڑھنے کی لگن انرجی کو دس گنا بڑھا دیتی ہے۔ تھکن اور آنکھوں میں سجے خواب ہمت ٹوٹنے نہیں دیتے۔

جاری ہے۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words