لاہور میں رانا بلال کے ہاتھوں اپنے ہی گھر والوں کے قتل کی وجہ پب جی یا آئس کا نشہ؟

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پب جی، آئس، لاہور، رانا بلال

Reuters

بات ان کے گھر سے شروع ہوئی۔ انھوں نے پہلے اپنے سگے بڑے بھائی پر گولی چلائی اور پھر پستول کا رخ اپنی بھابی کی طرف موڑ دیا۔ ان دونوں کو بچانے کی خاطر جب ان کی والدہ اور بہن نے بیچ میں آنے کی کوشش کی تو رانا بلال نے ان پر بھی فائرنگ کر دی۔

اس کے بعد ان کی توجہ اپنے ملازم زید طارق کی طرف مبذول ہوئی جو اس دوران ان کو اپنے گھر والوں پر فائرنگ کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب رانا بلال نے پستول کا رخ ان کی طرف کیا تو زید نے بچنے کے لیے دوڑ لگا دی۔

جان بچانے کے لیے زید دوڑتے ہوئے ہمسائے کے گھر میں گھسے اور دوسری منزل پر ایک غسل خانے میں جا کر چھپ گئے۔ رانا بلال نے اطمینان کے ساتھ ان کا پیچھا کیا اور پستول ہاتھ میں تھامے ہمسائیوں کے گھر میں داخل ہو گئے۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ دوسری منزل پر غسل خانے کے سامنے تھے۔

لاہور کے اس علاقے نواں کوٹ کی سکندریہ کالونی میں گلیاں تنگ اور گھر زیادہ کشادہ نہیں ہیں۔ اس تمام کارروائی میں چند منٹ سے زیادہ کا وقت نہیں گزرا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

گیم کھیلنے سے روکنے پر باپ کا سر کاٹ دیا

’میرا بیٹا آن لائن گیمز سے جوئے کی لت کا شکار بنا‘

’میری حالت اتنی خراب ہو جاتی کہ بہنیں بے بس ہوجاتیں‘

ایک جنگلی پودا افغانستان میں ’آئس‘ کی پیداوار میں اضافے کا باعث کیسے بنا؟

رانا بلال نے اپنے ملازم اور دوست زید طارق پر تین فائر کیے۔ پولیس کے مطابق ان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ اس کے بعد کے لمحات کی ایک ویڈیو پولیس کے ہاتھ لگی جو کہ نیچے گلی میں نصب ایک سی سی ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہو گئی تھی۔

اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جامنی رنگ کی ایک مغربی طرز کی ویسٹ کوٹ پہنے اور سر پر اسی رنگ کا ہیٹ لیے ایک شخص گلی میں نمودار ہوتا ہے۔ یہ رانا بلال تھے جو بظاہر کسی ویڈیو گیم کے کردار کی طرح لباس پہنے ہوئے تھے۔

انھوں نے انتہائی اطمینان سے مگر فلمی سے انداز میں پستول کو لوڈ کرنے کے ساتھ ہی اسے لہراتے ہوئے گلی کے سرے پر موجود لوگوں کی طرف رخ کر کے فائر کیا۔ اس کے بعد انھوں نے پستول سے گرنے والے کھوکھوں کو اٹھا کر جیب میں رکھا اور دوسری طرف چل پڑے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایس پی اقبال ٹاؤن اویس شفیق نے بتایا کہ ’ملزم کو پولیس نے مقامی افراد کی مدد سے قابو کیا اور تھانے منتقل کیا۔‘

رانا بلال کی بھابی اور بہن کی موقع پر موت ہو گئی تھی جبکہ ان کے بھائی اور والدہ کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے بھائی علی کامران بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ ان کے بھائی اور بہن دونوں کے دو دو بچے تھے۔

محلے والوں نے پولیس کو اطلاع دی تو قریب ہی واقع نواں کوٹ پولیس سٹیشن سے چند پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ اقبال ٹاؤن پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے رانا اقبال سے پستول چھینا اور اُنھیں قابو میں کیا۔

پولیس کے مطابق جب ملزم اپنے ملازم کو قتل کرنے کے بعد نیچے پہنچا اور فائرنگ کی تو اس کے پستول میں گولیاں ختم ہو گئیں۔ ’اس نے جسم پر ایک پٹہ پہن رکھا تھا جس میں سے وہ مزید گولیاں پستول میں بھرنے کی کوشش کر رہا تھا تو موقع پا کر پولیس نے اسے دبوچ لیا۔‘

تاہم اس کے فوراً بعد ہی وہاں موجود محلے داروں کے ہجوم نے رانا بلال کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ ان کے منھ سے خون آنا شروع ہو گیا اور ناک پر بھی ایک گہری چوٹ لگی جس سے خون بہنے لگا۔

میں دنیا کا سپر سٹار تھا

پولیس نے انھیں ہجوم سے بچایا اور تھانے منتقل کیا۔ موقع پر رانا بلال سے پولیس نے جو سوال جواب کیے ان کی بھی ایک ویڈیو سامنے آئی۔ ایک پولیس اہلکار نے ان سے دریافت کیا کہ انھوں نے کیوں گولیاں چلائیں۔

رانا بلال نے جواب دیا کہ ’میں دنیا کا سپر سٹار تھا۔ میرے اکاؤنٹ میں کروڑوں پڑے تھے۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ میرے اکاؤنٹ کو مت چھیڑو لیکن انھوں نے میری بات نہیں مانی اور اسے بیچ دیا۔‘ وہ مشہور آن لائن گیم ’پب جی‘ کے حوالے سے بات کر رہے تھے جو وہ کچھ عرصے سے کھیل رہے تھے۔

پولیس کے مطابق انھوں نے کپڑے بھی اسی طرز کے پہن رکھے تھے جس طرح گیم کے اندر ان کا کردار پہنتا تھا۔ ان کے فائرنگ کرنے کے انداز سے بھی یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ جیسے وہ گیم کے اندر اپنے کردار کی نقل اتار رہے ہوں۔

پولیس اہلکار نے پھر ان سے پوچھا، ’تمہیں پتہ ہے تم نے کتنے لوگوں پر گولی چلائی ہے؟‘ ملزم نے زخمی حالت میں بھی انتہائی اطمینان کے ساتھ ایسے گننا شروع کیا جیسے ذہن پر زور دے کر یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ’ایک۔ دو۔ تین۔۔۔ چار لوگوں پر۔‘

اپنے گھر والوں پر گولیاں کیسے چلا لیں؟

پولیس کی تحویل میں ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے بتایا کہ وہ آئس کا نشہ کرتا تھا۔ پولیس کے مطابق وہ اس وقت بھی نشے کے زیرِ اثر تھا جب اس نے فائرنگ کر کے اپنے ہی گھر والوں کو قتل کیا۔

تفتیش کے دوران رانا بلال نے پولیس کو بتایا کہ حال ہی میں اُن کی بیوی نے ان سے طلاق لے لی تھی۔ انھیں لگتا تھا کہ ان کے گھر والوں نے ان کی اہلیہ کو ان کے خلاف اکسایا تھا۔ انھیں یہ بھی لگتا تھا کہ ان کے گھر والے ان کے ’پب جی‘ گیم کھیلنے کے بھی مخالف تھے اور انھیں کھیلنے سے روکتے تھے۔

اقبال ٹاؤن پولیس کے ترجمان کے مطابق ملزم آئس کا نشہ بھی اس لیے کرتا تھا کہ زیادہ دیر جاگ سکے اور پب جی زیادہ سے زیادہ کھیل سکے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے جو نشہ لے رکھا تھا اس کا اثر بعض اوقات چند گھنٹے تو بعض دفعہ ایک دو روز تک رہتا ہے۔

ملزم کون تھا؟

جس پستول سے رانا بلال نے فائرنگ کی تھی اس کا لائسنس بظاہر اُن کے پاس موجود تھا تاہم پولیس یہ جانچ پڑتال کر رہی ہے کہ کیا یہ لائسنس اصل ہے۔ رانا بلال کے پاس تین عدد مہنگے سمارٹ فون بھی موجود تھے۔ پولیس کے مطابق ان کا پہلے سے کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق ملزم ایک پارکنگ سٹینڈ پر پرچیاں بیچتا تھا جہاں اُس نے زید طارق کو ملازم رکھا ہوا تھا۔ نواں کوٹ تھانے میں درج مقدمے کی رپورٹ کے مطابق زید طارق اس روز رانا بلال سے پارکنگ کی پرچیاں لینے کے لیے ان کے گھر پہنچے تھے۔

بعد ازاں پولیس نے تفتیش کے دوران رانا بلال سے پوچھا کہ کیا اُنھیں معلوم ہے کہ اُنھوں نے اپنا گھر اجاڑ دیا ہے۔ ’تم نے اپنے بھائی، بھابھی اور بہن کو قتل کر دیا ہے۔‘ تو پولیس کے مطابق ملزم کا کہنا تھا کہ ’نہیں وہ سارے ٹھیک ہیں۔ انھیں کچھ نہیں ہوا۔‘

تو کیا واقعی پب جی گیم ملزم کے ذہن پر اثر انداز ہوا؟

لاہور میں یہ پہلا واقعہ نہیں جس میں قتل کی واردات کرنے والے افراد ’پب جی‘ گیم کے عادی پائے گئے، لیکن پب جی میں ایسا کیا ہوتا ہے جو کسی شخص کو اس حد تک لے جاتا ہے کہ وہ اپنے ہی گھر والوں کو قتل کر دے؟

کیا یہ گیم کھلاڑیوں کی دماغی حالت کو اس حد تک متاثر کرسکتا ہے یا پھر یہ بھی دوسری ویڈیو گیمز کی طرح ایک لت یا عادت بن جاتا ہے؟ اگر صرف ایسا ہے تو کھیلنے والا قتل کرنے جیسی تحریک کہاں سے لیتا ہے؟

پروفیسر ڈاکٹر رافعہ رفیق جامعہ پنجاب کے شعبہ اپلائیڈ سائیکالوجی کی ڈائریکٹر ہیں۔ اس واقعے کے حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ ان کے خیال میں یہ پب جی گیم سے زیادہ ’ڈرگ انڈیوسڈ سائیکوسس‘ کا معاملہ تھا جو ایک ایسی ذہنی حالت ہے جو نشے کے زیرِ اثر کسی شخص پر طاری ہوتی ہے۔

ڈرگ انڈیوسڈ سائیکوسس میں کسی نشہ آور شے کے بے حد استعمال کی وجہ سے مذکورہ شخص کو اپنے اردگرد موجود چیزیں اور حالات ایسے دکھائی دینے لگتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

’یہ شخص آئس نشہ لے رہا تھا اور یہ نشہ سائیکوسس جیسی حالت پیدا کرتا ہے۔ آئس لینے والے تقریباً ایک تہائی افراد اس بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘

پب جی، آئس، لاہور، رانا بلال

Reuters

انھیں آوازیں آتی ہیں، چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں

ڈاکٹر رافعہ رفیق کے مطابق سائیکوسس کے شکار لوگ دوسرے لوگوں پر انتہائی درجے کا شک کرنا شروع کر دیتے ہیں جیسا کہ رانا بلال اپنے گھر والوں کے بارے میں کر رہے تھے کہ ان کے گھر والوں نے ان کی اہلیہ کو خلع لینے پر اکسایا ہے یا ان کے گیم سے اُن کے کوائن چوری کر لیے ہیں۔

’کئی چیزوں کے بارے میں ان کے خیالات اس نوعیت کے ہو جاتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اُنھیں وہ آوازیں آنی شروع ہو جاتی ہیں یا وہ چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں جو حقیقت میں وجود نہیں رکھتیں۔‘

ڈاکٹر رافعہ نے بتایا کہ آئس انسان کے جسم میں موجود ڈوپامائن ہارمون کی سطح کو ہزار گُنا بڑھا دیتا ہے۔ ڈوپامائن وہ مادہ ہے جو جسم پیدا کرتا ہے اور دماغ اسے جسم کے مختلف حصوں کو پیغامات بھیجنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اسے شک ہو گیا، اس نے سب کو ختم کر دیا

جب ڈوپامائن کی سطح اس قدر بڑھ جائے تو اس شخص کا دماغ ضرورت سے کہیں زیادہ الرٹ ہو جاتا ہے۔ آئس کا اثر دو سے تین گھنٹے تک رہتا ہے تاہم اس کی علامات کئی روز تک رہ سکتی ہیں۔ جو لوگ پہلے ہی سے شیزوفرینیا جیسی کسی بیماری کے شکار ہوں تو اُن میں اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر رافعہ کے مطابق ’یہ واضح طور پر ڈرگ انڈیوسڈ سائیکوسس کا کیس ہے جس میں وہ اپنے گھر والوں کے حوالے سے مشکوک ہو گئے اور پھر اُنھوں نے سب کو ختم کر دیا۔‘

تو پھر ملزم رانا بلال نے اپنا حلیہ گیم کے کردار کی طرح کیوں بنا رکھا تھا اور وہ اسی قسم کی حرکات کیوں کر رہے تھے جو اُن کے گیم کا کردار کرتا ہو گا؟

فرضی دنیا میں وہ خود کو گیم کا کردار سمجھ رہے تھے‘

ڈاکٹر رافعہ اس کی وضاحت کرتی ہیں۔ ان کے مطابق اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ آئس کے نشے کے زیرِ اثر سائیکوسس کا شکار ہونے والا شخص حقیقی دنیا سے کٹ جاتا ہے اور ایک فرضی دنیا میں رہ رہا ہوتا ہے۔

’ایسی حالت میں وہ خود کو اسی گیم کا کردار سمجھ رہا ہوتا ہے کیونکہ اس کا حقیقی دنیا سے تعلق ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ فریب جیسی اس حالت میں وہ خود کو اس کردار میں اس قدر ڈھال لیتا ہے کہ ویسی ہی حرکات کرنی شروع کر دیتا ہے۔‘

پب جی، آئس، لاہور، رانا بلال

Getty Images

یہی وجہ تھی کہ ملزم نے پستول اٹھا کر لوگوں پر گولیاں چلانی شروع کر دیں، بالکل ویسے ہی جیسے گیم کے اندر ان کا کردار کرتا ہو گا۔ ڈاکٹر رافعہ رفیق کے مطابق جزوی طور پر گیم بھی دماغ کے ان حصوں کو تحریک دیتا ہے جو ویسے نشے سے متحرک ہوتے ہیں۔

’اس میں کئی پہلو کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک تو گیمنگ از خود ایک نشہ ہے اور اس کے اوپر سے آئس کا نشہ صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیتا ہے۔‘

کیا سائیکوسس کی طرف مائل شخص علامات ظاہر کرتا ہے؟

ڈاکٹر رافعہ رفیق کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کو فوری طور پر علاج اور ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے پہلے اُنھیں دوسروں سے الگ کر کے ان کی نشے کی لٹ کو چھڑوانا ضروری ہوتا ہے اور ساتھ ہی ان کی دماغی حالت کا علاج بھی کرنا پڑتا ہے۔

’ایسے لوگ دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنے لیے بھی خطرہ ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار وہ اپنی جان بھی لے سکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر رافعہ کے مطابق جب کوئی شخص اس قسم کے سائیکوسس کی طرف جا رہا ہو تو اس کی چند نشانیاں نظر آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ گھر والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی روز مرّہ کی زندگی پر نظر رکھیں اور ہوشیار رہیں کہ وہ نشے کی طرف تو نہیں جا رہے۔

’اگر وہ دیکھیں کہ ان کا بچہ گھر والوں اور دوستوں سے تعلق کھو رہا ہے، جب وہ اپنی خیالی یا فرضی دنیا میں رہنا شروع کر دے (تو اُنھیں خبردار ہوجانا چاہیے)۔ ایسے افراد کے سونے اور جاگنے کے اوقات میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ اسی طرح ان کی خوراک میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں اور روز مرّہ زندگی میں ان کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔‘

ایسے افراد کی مدد کب اور کیسے کی جا سکتی ہے؟

ڈاکٹر رافعہ کا کہنا تھا کہ ایسی علامات جس شخص میں نظر آئیں تو اسے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ انھیں قید میں رکھ کر جلد از جلد ان کو مدد فراہم کی جائے جس کا انتظام کسی ہسپتال کے سائیکیٹری وارڈ میں بھی کیا جا سکتا ہے یا کسی مخصوص ہسپتال میں بھی انھیں بھیجا جا سکتا ہے۔

’ایسے افراد کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اُنھیں مخصوص ہسپتال یا وارڈ میں داخل کر کے فوری طور پر سائیکوسس کا علاج شروع کیا جائے۔ انھیں ادویات دی جاتی ہیں اور تب تک اُنھیں قید میں رکھا جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر رافعہ رفیق کے مطابق ایسا کرنا اس لیے بھی جلد ضروری ہوتا ہے کہ متاثرہ افراد خود کو یا کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچا دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18481 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp