سب کے لیے ایک بہتر اور صحت مند دنیا کی تعمیر


دنیا بھر میں سات اپریل کو عالمی یوم صحت آگاہی کا دن منایا گیا۔ یہ دن عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے قیام کے دن کے موقع پر منعقد کیا جاتا ہے۔ اس بار ماہرین صحت نے ذہی صحت، زچگی اور بچوں کی دیکھ بھال اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر اظہار خیال کیا اور اس ضمن میں اپنی ماہرانہ رائے دیں۔ رواں سال میں ورلڈ ہیلتھ ڈے کا تھیم ہی سب کے لیے ایک بہترمنصفانہ اور صحت مند دنیا کی تعمیر رکھا گیا۔

پاکستان میں بھی اس دن کے موقع پر پاپولیشن کونسل نے صحافیوں کے ساتھ ایک آن لائن مذاکرہ رکھا جس میں عالمی شہرت یافتہ پاکستان کے نامور ماہر صحت ڈاکٹر شہزاد علی خان، پاپولیشن کونسل کی پروجیکٹ ڈائریکٹر سامیہ علی شاہ نے اظہار خیال کیا۔

پاپولیشن کونسل صحت کے شعبہ میں میں کام کرنے والی ایک نامور تنظیم ہے۔ یہ تنظیم بین الاقوامی معیار کی تحقیق کرنے والی ایک تکنیکی تنظیم ہے۔ پاپولیشن کونسل نے 1992 میں پاکستان میں آبادی اور اس آبادی کو صحت کے درپیش مسائل پر نہ صرف کام کیا بلکہ حکومت کی صحت کی طرف توجہ دلانے کا بھی کام کیا۔

پاپولیشن کونسل کی پروجیکٹ ڈائریکٹر سامیہ علی شاہ نے 7 اپریل کو عالمی یوم صحت کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ منعقدہ ایک اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صحت کے اہداف کے حصول کے لیے خاندانی منصوبہ کے پروگرامز میں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ ان کے مطابق خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرامز میں سرمایہ کاری کرنے سے پاکستان کے معاشرتی، معاشی اور ماحولیاتی شعبوں میں ترقی تیز ہو سکتی ہے۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد کے ڈین آف پبلک ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان کے مطابق 221 ملین آبادی والا پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان میں زچگی کی شرح اموات میں ایک سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں زچگی کی شرح اموات 186 ہیں جو خطے میں بلند ترین ایم ایم آر میں سے ایک ہے۔ حمل اور زچگی کے مسائل کی بنا پر 30 ماؤں کی روزانہ موت ہوتی ہے اوراس طرح سالانہ 11000 ماؤں کی موت ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کہ پاکستان میں 5 سال سے کم عمر بچوں میں اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ جبکہ نوعمر بچوں کی اموات میں سب سے زیادہ تعداد کے ساتھ پاکستان سرفہرست پانچ ممالک میں شامل ہے ہر ایک ہزار پیدا ہونے والے بچوں میں سے 42 نوزائیدہ بچے وفات پا جاتے ہیں۔ اور پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہر گھنٹے میں 50 سے زیادہ بچے فوت ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی آبادی میں اضافے کی شرح 2.4 ہے جو دوسرے ایشیائی ممالک جیسے انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلادیش، ہندوستان اور ایران کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 1947 میں آزادی کے بعد سے اب تک پاکستان کی آبادی میں 7 گنا اضافہ ہوا ہے۔ اگر ہم اس رفتار سے ترقی کرتے رہیں تو 2050 تک ہماری آبادی 300 ملین تک پہنچ جائے گی۔

ان تمام تر اعداد و شمار کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت خاندانی منصوبہ بندی پر توجہ دے اور اس سلسلے میں میڈیا آگاہی پھیلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ اور اس بات کی بھی وضاحت ہونی چاہیے کہ خاندانی منصوبہ بندی خاندانی سائز کو محدود کرنے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس سے کنبہ کی صحت کو یقینی بنانا ہے۔ اگر سی پی آر موجودہ 34 فیصد سے بڑھ کر 54 فیصد ہو جائے تو، اس سے 1 لاکھ چالیس ہزار بچوں کی زندگیاں اور 4900 ماؤں کو مرنے سے بچایا جا سکتا ہے۔

اجلاس میں شرکاء کو بتایا گیا کہ خاندانی منصوبہ بندی میں سرمایہ کاری صحت کے نظام پر بوجھ کو کم کرتی ہے اور خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعے غیر ضروری حمل کو روکنے کی قیمت اس حمل کے لئے ضروری زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کی دیکھ بھال کی قیمت سے بہت کم ہے۔ جدید مانع حمل خدمات پر خرچ ہونے والا ہر اضافی ڈالر زچگی اور نوزائیدہ دیکھ بھال کی لاگت کو  2.66 ڈالر سے کم کرتا ہے۔

آبادی کی روک تھام اور خاندانی منصوبہ بندی کی کامیابی کے حوالے سے کچھ اقدامات کی اشد ضرورت ہے ۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایل ایچ ڈبلیوز خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات اور معلومات کی فراہمی پر دوبارہ توجہ مرکوز کرے۔ ایف پی میں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کے کردار کو مضبوط اور وسعت دی جائے۔ حکومت کو مصروف فیملی فزیشنز اور غیر منافع بخش نجی شعبے کی مدد کرنی چاہیے۔

اجلاس میں صحت کے شعبہ میں بہتری لانے کے لیے میڈیا کے کردار پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ میڈیا خاندانی منصوبہ بندی کو معاشرتی اور مذہبی لحاظ سے قابل قبول عمل کے طور پر فروغ دینے کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ میڈیا ایک مؤثر مہم کے ذریعے ان معلومات کو نوجوان لوگوں تک پہنچائے۔

ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ضلعی سطح پر موجود صحت کے سرکاری اداروں کی کارکردگی اور استعداد کار کو بھی بڑھایا جائے اور حکومت کوشش کرے کہ صحت کی بہتر سہولیات دور افتادہ صحت کے مراکز تک پہنچائے تاکہ لوگوں کو اور خاص طور پر حاملہ خواتین کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں اور زچہ اور بچہ کی زندگیوں کو بچایا جا سکے اور ایک صحت مند نسل کو پروان چڑھایا جا سکے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments