حضرت عمرؓ کی حکمرانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندہ قوموں کا شیوہ رہا ہے کہ وہ اپنے ہیروز کو کبھی نظر انداز نہیں کرتیں اور ان کو نہ صرف زندہ رکھتی ہیں بلکہ ان کے کارہائے نمایاں سے سیکھتی ہیں، پھر قومی تقاضوں کے پیش نظر ان کے چھوڑے ہوئے ورثہ سے استفادہ کرتی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تاریخ اسلام میں ایسی شخصیت ہیں جن کا دور خلافت قیامت تک آنے والے حکمرانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کو اتنی وسعت ملی کہ فارس و روم جیسی سلطنتیں آپ کے عہد میں فتح ہوئیں۔ اسی طرح مصر سے لے کر آذربائیجان تک کے علاقے فتح ہوئے۔ سلطنت کی وسعت کے ساتھ ہی انتظامی شعبہ جات کے قیام کی ضرورت محسوس ہوئی۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو 26 ذوالحجہ 23 ہجری کو فیروز نامی پارسی غلام نے دوران نماز زخمی کر دیا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے یکم محرم کو دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ دس برس چھ ماہ چار دن حکومت کر کے عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عدل و انصاف کے ایسے کارنامے سرانجام دیے جس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی، جب سے دنیا میں نظام حکومت قائم ہوا اس میں ایسے بھی حکمران آئے جن کے لیے لاکھوں انسانوں کو قتل کرنا ، ان کی املاک کو تباہ برباد کرنا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ان میں سے بعض نے تو تفریح کے لئے انسانوں کی کھوپڑیوں کے مینار بناتے تھے ان کی نظر میں انسان کی قدر بھیڑ بکری سے زیادہ نہ تھی۔

کچھ حکمران ایسے بھی تھے 23 لاکھ مربع میل کے علاقے کو فتح کر کے حکومت کرنے والا زار و قطار رو رہا ہے۔ کسی نے رونے کی وجہ پوچھی تو کہا کہ نہر کے پل سے بھیڑ بکریوں کا ریوڑ گزر رہا تھا، پل میں ایک سوراخ تھا ، اس سوراخ میں آ کر ایک بکری کی ٹانگ ٹوٹ گئی میں ۔ اس لیے رو رہا ہوں کہ کل خدا نے پوچھا کہ بتا تیری حکومت میں بکری کی ٹانگ ٹوٹی تو کیوں ٹوٹی ہے۔ تو اس پل کو مرمت نہیں کروا سکتا تھا۔

معزز قارئین کرام! یہ ہیں حضرت عمر بن خطابؓ۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے عدل و انصاف، مساوات، امانت دیانت، صداقت کا وہ درس دیا جس کی وجہ سے آپ کو تمام حکومت کرنے والوں پر برتری حاصل ہے ۔ آئیے ان کی خوبصورت نظام حکومت پر روشنی ڈالتے ہیں۔

نام عمر والد کا نام خطاب، تاریخ پیدائش مشہور روایات کے مطابق ہجرت نبوی سے چالیس سال قبل پیدا ہوئے۔ شباب کا آغاز ہوا تو حضرت عمر فاروق ؓ ان شریفانہ مشغلوں میں مشغول ہو گئے جو شرفاء عرب کا معمول تھے ۔ پہلوانی اور کشتی میں خاص مہارت حاصل کی، دنگل اور کشتیاں لڑتے تھے۔ حضرت عمرؓ 27 سال کے تھے کہ عرب میں آفتاب رسالت طلوع ہوا۔ حضرت عمر فاروقؓ کے لئے اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے دعا کی کہ اے میرے رب عمر کو ہدایت دے اور اسلام کے نور سے منور فرما۔

حضرت عمرؓ کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں میں جوش اور ولولہ پیدا ہوا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے جن غزوات میں شرکت کی ان میں غزوہ بدر، غزوہ سویق، غزوہ احد، غزوہ خندق، جنگ خیبر، غزوہ حنین شامل ہیں۔ اسلام میں خلافت یا حکومت کی بنیاد حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہد سے شروع ہوئی۔ لیکن نظام حکومت کا دور حضرت عمر فاروق ؓ کے عہد سے شروع ہوتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی دو سالہ خلافت میں اگرچہ بڑی بڑی مہمات کا فیصلہ ہوا یعنی عرب کے مرتدوں کا خاتمہ ہوا اور بیرونی فتوحات شروع ہوئی تاہم حکومت کا کوئی خاص نظام قائم نہیں ہوا اور نہ اتنا مختصر زمانہ اس کے لئے کافی ہوتا ہے۔

حضرت عمر ؓ نے ایک طرف فتوحات کو وسعت دی کہ قیصر و کسریٰ کی وسیع سلطنیتں ٹوٹ کر عرب میں شامل ہو گئیں۔ فتوحات فاروقی کی وسعت کا جائزہ لیں تو حضرت عمر فاروقؓ کے مقبوضہ ممالک کا کل رقبہ 2251030 مربع میل میں تھا۔ حضرت عمرؓ نے جو فتوحات حاصل کی ان میں مسلم اور غیر مسلم مؤرخین نے بھی ان فتوحات کو سنہری حروف میں قلم بند کیا۔

فتوحات کے اسباب کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں میں اس وقت پیغمبر اسلام کی بدولت جو جوش، عزم استقلال، بلند حوصلگی اور دلیری پیدا ہو گئی تھی۔ جس کو حضرت عمر فاروقؓ نے زیادہ قوی اور تیز کر دیا تھا۔ روم اور فارس کی سلطنتیں عین عروج کے زمانہ میں اس کی ٹکر نہیں سہہ سکتی تھیں البتہ اس کے ساتھ اور چیزیں بھی مل گئیں جنہوں نے فتوحات میں ہی نہیں بلکہ قیام حکومت میں بھی مدد دی۔ اس میں سب سے مقدم چیز مسلمانوں کی راست بازی اور دیانت داری تھی جو ملک فتح ہو جاتا وہاں کے لوگ مسلمانوں سے اس قدر متاثر ہوتے کہ باوجود اختلاف مذہب کے سلطنت کا زوال نہیں چاہتے تھے۔

انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے حقوق کا خیال رکھا۔ حضرت عمر فاروقؓ کی دور خلافت میں مجلس شوریٰ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مجلس شوریٰ کے ارکان مختلف علاقوں کا دورہ کرتے اور موقع پر ہی لوگوں کے مسائل حل کرتے اور ان کو مکمل انصاف فراہم کرتے۔ خلیفہ کو عام لوگوں کی طرح کے حقوق دیے گئے ملک کو صوبہ جات اور اضلاع میں تقسیم کیا گیا۔

آج کے عہد کی جمہوری، اشتراکی، شورائی اور سرمایہ دارانہ حکومتوں کی اصلاحات، قواعد و ضوابط، طرز ہائے زندگی، ہر شعبے اور ہر سوسائٹی کا موازنہ حضرت عمر فاروقؓ کے دور سے کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ محمدی شریعت کو چند ہی سالوں میں انسانوں کی فلاح کا سب سے آسان اور سہل ترین ذریعہ قرار دینے والے اس خلیفہ نے جو کام 1400 سال قبل کیا تھا، سارے طریقے آزمانے کے بعد بھی رعایا پروری کے ان اصولوں تک جدید حکومتیں نہیں پہنچ سکی ہیں۔

حضرت عمر فاروقؓ کی اصلاحات اور کارناموں پر بڑے بڑے فلاسفر اور حکمران سر دھن چکے ہیں۔ دنیا کا کوئی مؤرخ اور اسکالر حضرت عمرؓ کی اصطلاحات کو نظرانداز کیے بغیر سستے انصاف کے حامل اصول رقم نہ کر سکا۔ حضرت عمرؓ کا عدالتی نظام عصر حاضر کی طرح نہ تھا۔ انتہائی آسان اور سہل انصاف آپؓ کی خصوصیات میں ہے۔ یہاں کسی قسم کی رشوت، سفارش، جھوٹی گواہی، جانب داری اور بے ایمانی کا تصور ہی نہ تھا۔ خود خلیفہ وقت بھی عدالت کے روبرو پیش ہو کر جواب دینے کا پابند تھا۔

18 ہجری میں نیشاپور، الجزیرہ، 19 ہجری میں قیساریہ، 20 ہجری میں مصر، 21 ہجری میں اسکندریہ اور نہاوند پر اسلامی پرچم لہرایا گیا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے تمام مفتوحہ ممالک کا دورہ کیا۔ ہر ہر شہر اور ہر ہر علاقے میں کھلی کچہریاں لگائیں، موقع پر احکامات جاری کیے، حکمرانوں کے دروازے پر دربان مقرر کرنے پر پابندی لگائی، ساری ساری رات بازاروں اور گلیوں کے پہرے دیے، بھوکوں، پیاسوں، بے خانماؤں اور ضرورت مندوں کے لیے خود چل کر گئے۔ رعایا کے ہر طبقے کی ضروریات کی تکمیل کے لیے رات اور دن کا آرام چھوڑ دیا تھا۔ قحط میں آپ نے گھی اور زیتون ترک کر دیا تھا۔ آپ کا رنگ سیاہ پڑ گیا تھا لیکن آپ رعایا پروری اور غریبوں کے دکھ درد میں برابر شریک رہے۔

حضرت عمر فاروقؓ کا دور اسلامی تاریخ کا درخشندہ اور بے مثال دور ہے۔ اس عہد کی کہانیاں تمام مذاہب میں ضرب المثل بن گئی ہیں۔

حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں کئی محکموں کا قیام عمل میں لایا گیا جن میں محکمہ افتاء، فوج اور پولیس، جیل خانہ کی ایجاد، بیت المال یا خزانہ، پبلک و نظارات نافعہ، فوجی چھاؤنیاں۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے جو نہریں تیار کروائیں ان میں نہر ابی موسیٰ، نہر معقل، نہر سعد، نہر امیر المومنین۔ حضرت عمر فاروقؓ نے جو عمارتیں تعمیر کروائی ان میں مہمان خانے، قید خانے، مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ تک چوکیاں اور سرائیں تعمیر کروائیں۔

سڑکوں اور پلوں کا انتظام کیا۔ مختلف علاقوں میں شہر آباد کیے گئے ان میں بصرہ، کوفہ، موصل وغیرہ شامل ہیں۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے ایسے ایسے کارنامے سرانجام دیے پوری دنیا کے تاریخ دان ان کے کارناموں کو سنہری حروف میں لکھتے آئے ہیں۔ 23 لاکھ مربع میل کے علاقے پرحکومت کرنے والا کسی عالی شان محل میں نہیں بلکہ ایک کمرے کے مکان میں رہتا تھا۔ فتح خیبر کے وقت جو زمین ملی وہ غریبوں میں تقسیم کر دی۔ حضرت عمر فاروقؓ کے دسترخوان کا جائزہ لیں تو روٹی اور روغن زیتون سے گزارا کرتے۔

لباس کی بات کریں تو لباس بھی معمولی ہوتا تھا۔ برنس کی ایک خاص ٹوپی تھی ، سادگی اس حد تک کہ ایک دفعہ دیر تک گھر میں رہے باہر آئے تو لوگ انتظار کر رہے تھے معلوم ہوا کہ پہننے کے لئے کپڑے نہ تھے ۔ اس لیے انہیں کپڑوں کو دھو کر سوکھنے کے لیے ڈال دیا تھا۔ خشک ہو گئے تو وہی پہن کر باہر نکلے۔ یہ ہے 23 لاکھ مربع میل کے علاقے پر حکومت کرنے والا حضرت عمر فاروق ؓ۔ جس کے خزانہ میں سونے، چاندی، ہیرے جواہرات اور ریشم کے انبار تھے۔اس کے پاس نہ کچھ پہننے کے لئے نہ کھانے کے لئے۔

دوسری طرف ہمارے چھوٹے سے خطے پر حکومت کرنے والے ہیں جن کے کچن کا خرچہ کروڑوں روپے ہے۔ لاکھوں روپے کا پٹرول صدر اور وزیراعظم کی گاڑیوں میں ڈالا جاتا ہے۔ کروڑوں روپے مالیت کی سینکڑوں گاڑیاں ان کے پاس ہیں۔ قلعہ نما عالیشان محل ہیں۔ ان کے پاس ہزاروں ملازمین ہیں۔ لوٹ مار کے اربوں ڈالر باہر کے ملکوں میں پڑے ہیں۔ ایک وہ تھا جو بکری کی ٹانگ ٹوٹنے سے رو رہا تھا اور ایک یہ ہیں سینکڑوں انسانوں جن میں اکثریت معصوم بچوں اور عورتوں کی ہوتی ہے،ڈرون حملوں اور دیگر دہشت گردی کے واقعات میں مر رہے ہیں اور یہ اپنے اقتدار کو بچانے میں لگے ہیں۔

اپوزیشن والے ان سے اقتدار چھیننے میں لگے ہیں۔ سیاست دانو ہوش کے ناخن لو۔ خدا کے قہر سے بچو اور آج تمہاری پیدا کی ہوئی مہنگائی، لوڈ شیڈنگ اور غربت سے ہزاروں لوگ فاقوں پر مجبور ہیں۔ اکثر فاقوں سے تنگ آ کر خودکشیاں کر رہے ہیں۔ اپنے آپ کو حضرت عمر فاروق ؓ کے جانشین بناؤ اور ان کے نقشے قدم پر چلو۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔ لوٹی ہوئی تمام دولت واپس لے آؤ ۔ ورنہ کل قیامت کے دن اللہ کی عدالت ہو گی اور ہر ایک کے ساتھ برابر انصاف کیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *