با حیا لاج ونتی، بہادر غنڈے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے میاں، میر احمد نوید کہتے ہیں کہ عورت کو بہادر اور مرد کو باحیا ہو نا چاہیے۔

ایک بہادر عورت ہی اپنی حیا کی حفاظت کر سکتی ہے اور باحیا مرد کبھی عورت کی تذلیل نہیں کر سکتا۔ حیا کے بغیر، بہادر مرد محض غنڈہ ہے، اور عورت بہادری کے بغیر محض لاج ونتی ہے۔

ہمارے ہاں اکثریت لاج ونتی اور غنڈوں کی ہے، جنہیں اب وزیر اعظم کی آشیر باد بھی مل چکی ہے۔

‌گھر یا باہر رسم و رواج کی قید اور غنڈوں کے خوف میں جکڑی لاج ونتی جتنا سمٹتی ہے، غنڈوں کی ہمت اتنی ہی بڑھتی ہے۔ چہرے پر نقاب عورت کی شکل کے ساتھ اس کا کردار، شخصیت اور تاثرات بھی ڈھک لیتا ہے۔ غنڈوں کو اس کے ’ٹائپ‘ کا اندازہ نہیں ہوتا، آفس، دکانوں، بازاروں حتیٰ کہ گھروں میں کزنز کے ’ہاتھوں‘ کوفت، اذیت، ہزیمت اور کبھی کبھی عصمت لٹانے کے باوجود شرم و حیا کی تصویر بنی خاموش رہتی ہے، کرب اور گزری مصیبت چھپانے کی کوشش میں حواس باختہ اور ناقص العقل ٹھہرتی ہے۔

ظالموں کو ایسی عورت سوٹ کرتی ہے۔ وہ اسے مثال بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

‌لباس کا انتخاب، اپنی مرضی سے با حجاب یا بے حجاب رہنا عورت کا بنیادی حق ہے۔ اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی دینے والے ہی حقیقت میں با اصول، انصاف پسند اور انسان دوست ہیں۔ وہ عورت کو ایک جسم نہیں، انسان سمجھتے ہیں۔ ایسے مرد عورت کے مزاج کے خلاف اپنی کسی بھی نفسانی خواہش کے اظہار میں بے مہار نہیں ہوتے، خواہ وہ عورت ان کے برابر میں لیٹی ان کی اپنی بیوی ہی کیوں نہ ہو۔

‌جہاد کا تذکرہ اور اقسام تو مومنین کو ازبر ہوں گی، جہاد با النفس کی دین اسلام میں کتنی اہمیت ہے اگر وزیر اعظم غور فرماتے تو غنڈوں کو ریپ کے لیے جواز فراہم نہ کرتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *