کراچی میں خاتون کی مبینہ خودکشی: آڈیو پیغام سامنے آنے کے بعد چھ افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


خاتون

Getty Images
فائل فوٹو

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مبینہ طور پر خودکشی کرنے والی ایک خاتون کا آڈیو پیغام سامنے آنے کے بعد پولیس نے چھ افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے، جن میں سے ایک شخص کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 41 برس کی ثوبیہ کی خودکشی کا واقعہ سات اپریل کی دوپہر شادمان ٹاؤن نارتھ ناظم آباد میں پیش آیا تھا۔ پولیس کے مطابق ثوبیہ نے گلے میں دوپٹے کا پھندا لگا کر خودکشی کر لی تھی کیونکہ مبینہ طور پر چند افراد ان کی ایک ویڈیو کی بنیاد پر انھیں بلیک میل اور ہراساں کر رہے تھے۔

ثوبیہ کے بھائی عبدالوسیم نے شاہراہ نور جہان تھانے میں دائر مقدمے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ انھیں سات اپریل کو اطلاع دی گئی کہ ان کی بہن نے گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کر لی ہے اور ان کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا: ’میں اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ عباسی شہید پہنچا جہاں معلوم ہوا کہ وہ وفات پا چکی ہیں۔ ان کے گلے میں پھندے کا نشان تھا۔‘

ثوبیہ کے بہنوئی نعیم نے بتایا کہ ’ثوبیہ نے فلیٹ کی چھت کے پنکھے سے لٹک کر خود کشی کی ہے اور ان کی میت لے کر گھر گئے اور ان کی تدفین کر دی گئی۔‘

یہ بھی پڑھیے

45 لڑکیوں کے ریپ میں ملوث جوڑا گرفتار: پولیس کا دعویٰ

’کاش عدنان مجھے یا خاندان کے کسی بڑے کو بتا دیتا‘

’سانولی رنگت پر طعنوں سے دل برداشتہ ہو کر خود کشی کی‘

عبدالوسیم کا کہنا ہے کہ رات کو انھوں نے اپنا موبائل چیک کیا تو اس پر ان کی بہن کی دوست کے تین آڈیو پیغام آئے ہوئے تھے جن سے پتہ چلتا ہے کہ ثوبیہ نے مبینہ طور پر بلیک میلنگ، ہراسانی اور دھمکیوں سے تنگ آ کر خودکشی کی۔

عبدالوسیم کے مطابق ان پیغامات میں چھ افراد کا ذکر موجود تھا۔ عبدالوسیم ثوبیہ کا موبائل فون جس میں آڈیو پیغامات ہیں اور ایک عدد تصویر بھی پولیس کو فراہم کر رہے ہیں تاکہ ملزمان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

خودکشی

Getty Images
فائل فوٹو

’مجھے کہا جارہا ہے کہ آ کر ملو‘

پولیس کا کہنا ہے کہ ثوبیہ نے خودکشی سے قبل اپنی دوست کو بھیجے گئے آڈیو پیغام میں اپنے اس اقدام کی وجوہات بتائی ہیں۔

اس آڈیو پیغام میں ثوبیہ کہہ رہی ہیں کہ ’وہ اپنی عزت کی خاطر چپ رہیں، بچے جوان ہیں ان کے کانوں تک یہ بات جائے گی تو وہ کیا سوچیں گے۔ شوہر تو سنتا ہی نہیں، انھیں کہتی تھی کہ یہاں نہیں رہنا یہاں ماحول ٹھیک نہیں، ملازمت کرنے والی عورت کا کوئی تحفظ نہیں ہوتا ہے۔۔۔ کوئی نہیں ہوتا آگے پیچھے۔‘

اس پیغام میں وہ مزید کہہ رہی ہیں کہ ’میرے ساتھ جو کچھ ہوا، میں وہ سوچ بھی نہیں سکتی۔ میں نے پوری رات جاگ کر گزاری ہے میں نے اپنے شوہر کے پاس بیٹھ کر معافی مانگی ہے، اپنے بچوں کے پاس بیٹھ کر معافی مانگی ہے۔ میں رات بھر جاگتی رہی، مجھے صبر نہیں آ رہا تھا۔ مجھے کالیں کی جا رہی ہیں، مجھے ڈرایا جا رہا ہے کہ ہم سے آ کر ملو۔۔۔ میری کوئی اہمیت نہیں، میری کوئی عزت نہیں۔ بار بار مجھے میرے بچوں کے حوالے سے ڈرایا اور دھمکایا جا رہا ہے کہ انھیں مار دیں گے۔۔۔ وہ کون ہے پتہ نہیں کن کن کی کالیں آتی رہیں۔‘

’وہ میری ویڈیو دکھا رہے ہیں‘

آڈیو پیغام میں ثوبیہ کی آواز بھر آتی ہے اور وہ مسلسل رو رہی ہیں۔ وہ اپنی دوست کو بتاتی ہیں کہ ’میں خاموشی سے زہر کا گھونٹ پیتی رہی۔۔۔ میں اب برداشت نہیں کر سکتی ۔۔۔ میرے پیچھے پڑ گئے ہیں مجھے ہراساں کر رہے ہیں۔‘

’میری ویڈیو دکھا رہے ہیں۔۔۔ اس کے ساتھ جو لوگ ملے ہوئے ہیں وہ مجھے دماغی طور پر تنگ کر رہے ہیں۔ میں اتنا برداشت نہیں کر سکتی میرا قصور کیا تھا۔۔۔ میں اتنا نہیں برداشت کر سکتی میرے لیے دعا کرنا اور مجھے معاف کر دینا کیونکہ اب میں جو قدم اٹھانے جا رہی ہوں وہ میری زندگی کا اختتام ہے۔‘

آڈیو پیغام کا سوشل میڈیا سے پتہ چلا

ایس ایس پی وسطی غلام مرتضیٰ تبسم نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو سوشل میڈیا کے ذریعے اس آڈیو پیغام کا پتہ چلا اور اس معاملے کی تفتیش جا رہی ہے جبکہ ایک ملزم کو حراست میں لیا گیا ہے جس کی شناخت ابھی نہیں بتائی جا سکتی۔

ثوبیہ کے بھائی اور مقدمے کے مدعی عبدالوسیم نے بی بی سی سے مختصر بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پولیس کی تحقیقات سے مطمئن ہیں اور ان سے تعاون کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18859 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp