دیپ جلتے رہے(قسط 35)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


بچے دو دو بسیں بدل کر آفس اور واپسی پر ٹیوشن پڑھانے جاتے۔ معاشی نا آسودگی ان کا مقدر نہ بنے، اس خوف سے دل کانپ جاتا تھا۔

بچے آفس میں خود پر ہونے والی زیادتیوں پر کڑھتے، کبھی کبھی رو بھی پڑتے، لیکن دوسرے دن ہمارے منع کرنے کے باوجود یہ کہتے ہوئے گھر سے نکل جاتے کہ یہاں سیکھنے کو بہت کام ہے۔ نااہلوں کی باس سے خوشامدیں، اہلیت رکھنے والوں کے خلاف سازشیں، مگر چھوٹی عمر میں سیکھنے کی ایسی لگن اور ایسی تھکن! مگر دل میں ڈھارس بندھی تھی کہ یہی کٹھنائیاں کامیابی کا زینہ ہوا کرتی ہیں۔ پھر جسم کو سڈول بنانے کے لیے جم جانا بھی ضروری قرار پایا، یوں اس بے تحاشا مصروفیت نے بچوں کو فضول سرگرمیوں سے جڑنے نہیں دیا۔

بچے لڑکیوں سے دوستی میں آزاد تھے۔ لیکن پاکستانی معاشرے میں ایک المیہ رہا ہے کہ لڑکیاں مستقبل محفوظ کرنے کے لیے شادی میں پناہ ڈھونڈتی ہیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ جس لڑکے سے ان کی دوستی ہے اسے فوراً والدین سے ملوا دیا جائے اور والدین بھی اپنی بیٹی کے دوست میں داماد دیکھنے لگتے ہیں۔

لڑکے کی زندگی میں لڑکی آ جائے تو اس کی زندگی میں تازگی آ جاتی ہے اس کی آگے بڑھنے کی رفتار دوگنا ہو جاتی ہے۔ اس کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری کہیں بڑھ جاتی ہے۔ لیکن ذہین مردوں کو زندگی میں کوئی مقصد نہ رکھنے والی، شادی کی شوقین اور بے وقوف لڑکیاں اچھی نہیں لگتیں۔ ان کی زندگی میں اس کمی کو محسوس کر کے ہم نے اپنے سسرال، میکے دوست احباب میں کئی جگہ رشتے مانگے لیکن یہ کہہ کر صاف انکار ہوا کہ ابھی لڑکوں کا مسقبل غیر واضح ہے۔ اس پر ہم نے سمجھانے کی کوشش کی کہ ابھی تو آپ کی بچی کا بھی مستقبل غیر واضح ہے، اس پر تضحیک آمیز انداز میں سوال کیا گیا کہ کیا بہو سے نوکری کروانی ہے۔

پھر ان گناہ گار کانوں نے رات کے آخری پہروں میں اپنے بڑے بیٹے کی سرگوشیاں بھی سنیں، مگر کچھ زیادہ خوشی نہیں ہوئی۔ سوال کیا کہ رات کے آخری پہر بات کرنے کا کیا مطلب ہے جب کہ ہماری طرف سے کوئی پابندی نہیں۔ بتایا گیا کہ لڑکی انتہائی مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ والدین کو علم نہ ہو، اس لیے رات کے آخری پہر بات کرتی ہے۔

ہم نے اسے سمجھایا کہ اس سے کہو، پڑھائی میں دل لگائے، اچھی کتب کا مطالعہ کرے۔ خود کو کسی قابل بنانے میں اپنا دھیان لگائے گی، تب ہی اس کی شخصیت اور بات میں وزن آئے گا، آج تم سے دوستی ہے، کل اگر اس کی کسی بدقماش لڑکے سے دوستی ہو گئی تو وہ تباہ ہو سکتی ہے۔ اور کہیں نہ کہیں تم بھی اس کی تباہی کے ذمہ دار ہو گے۔ کیوں کہ تادیر اس سے تمہارا رابطہ رہ نہیں سکتا۔ لیکن وقت برباد کر کے یہ برباد ہو سکتی ہے۔

بیٹے کو بات سمجھ میں آ گئی۔ اسے بھی سمجھا دیا گیا۔ بچوں کی محنت بارآور ہوئی، دونوں کو اپنے شوق کے مطابق نوکریاں مل گئیں۔ رامش کو اسلام آباد میں اچھے مشاہرے پر نوکری ملی، تو ہم نے لڑکی کی تلاش شروع کی۔

کہیں پر لڑکوں کا عقیدہ پرکھنے کے لیے زنجیر زنی کا ثبوت مانگا گیا تو کہیں باپ کا شیعہ ہونا انکار کی وجہ بنا۔ کہیں کرائے کا مکان رکاوٹ بنا۔ بڑے والے تو ایک بہت پیاری لڑکی(جو میڈیکل کی طالبہ ہے ) سے عہد و پیماں میں بندھ چکے۔ رامش نے اپنی ایک دوست کے ہاں بھیجا۔ بچی نے دروازہ کھولا۔ خاصی معقول لڑکی لگی۔ والدہ اور دادی بڑے اخلاق سے ملیں۔ رسمی تعارف اور بات چیت کے بعد دادی نماز پڑھنے اور والدہ کا چائے کہہ کر کمرے سے چلی گئیں۔

ہم نے لڑکی سے پوچھا آرکیالوجی میں ماسٹرز کرنے کی وجہ کیا تھی۔ جواب خلاف توقع تھا۔ امی ابو ویسے تو گھومنے پھرنے نہیں دیتے ہم نے سوچا اس بہانے تفریح ہو جائے گی۔ بات بھونڈی تھی مگر لڑکی کی سچائی اچھی لگی۔ آگے کیا پلان ہیں۔

لڑکی نے جواب دینے کے بجائے شرما کر نظریں جھکا لیں۔ لڑکی کی والدہ آئیں۔ میز پر ٹرے رکھی اور گویا ہوئیں۔

آپ مجلسوں میں جاتی ہیں؟ ہم نے اثبات میں سر ہلایا۔ ماتم بھی کرتی ہیں؟ ہمارا جواب اب بھی اثبات میں تھا۔ بچے بھی کرتے ہوں گے۔ اشرف المخلوقات اور سماجی جانور کے ناتے ہم ہر طرح کے ماحول میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔

آپ تو کہہ رہی تھیں کہ آپ شیعہ نہیں ہیں! حیرت سے بولیں۔ پھر تو آپ کے بیٹے زنجیر بھی لگاتے ہوں گے۔
نہیں زنجیر نہیں لگاتے۔ ہم نے جواب دیا۔

دادی نماز پڑھ کر آ چکی تھیں اور بہت غور سے ہماری باتیں سن رہی تھیں۔ انہوں نے بہو کو اشارہ کیا اور باہر چلی گئیں۔ کچھ لمحوں بعد لڑکی کی ماں بھی کمرے سے نکل گئیں۔ تھوڑی دیر بعد دونوں کچھ مشوروں کے بعد داخل ہوئیں تو لڑکی کی ماں کے چہرے پر مسکراہٹ اور اطمینان سا تھا۔

شادی کر کے لڑکا اسلام آباد لے جائے گا؟ انہوں نے سوال کیا۔ ہم نے اثبات میں سر ہلایا۔

دراصل اس کی بڑی بہن جو ڈاکٹر ہے۔ اس کا بھی شیعہ کا رشتہ آیا ہوا ہے۔ اس نے ضد باندھی ہوئی ہے کہ اسی سے کرنی ہے اب چھوٹی کی کر دیں گے تو بڑی کی ہمت بندھ جائے گی۔ اس لیے ہم لڑکے سے لکھوائیں گے وہ شادی کے بعد مجالس میں نہیں جائے گا اور لکھ کر دے گا کہ وہ شیعہ نہیں ہے۔

ہم نے پرس ہاتھ میں لیا اور کھڑے ہو گئے۔
جی میں نے آپ سے جھوٹ بولا تھا۔ ہم شیعہ ہیں اور میرا بیٹا زنجیر بھی لگاتا ہے۔

جاری ہے۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *