عمران خان اور پردہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان نے فحاشی کے خلاف اور پردہ کی حوصلہ افزائی کرنے کی بات کی تو دیسی لبرلز کا ایک طبقہ بھڑک اٹھا اور وزیراعظم کے بیان پر اپنی مرضی کی تشریحات کے ساتھ ان پر حملہ آور ہو گیا۔

تنقید کرنے والوں نے وزیراعظم کی بات کو اپنا مطلب پہناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے بیان کا مقصد زیادتی کی شکار خواتین اور بچوں کو ہی قصوروار ٹھہرانا ہے۔ میڈیا میں موجود ایک طبقے کے علاوہ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان بھی بھڑکنے والوں میں شامل تھا۔

اگر سچ پوچھیں تو اصل تکلیف اس بات کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے فحاشی کے خاتمے اور پردے کو فروغ دینے کی کیوں بات کی؟

جو لوگ بچوں اور عورتوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں، انہیں نشان عبرت بنانا چاہیے اور سرعام پھانسی دی جانی چاہیے۔ کیا انسانی حقوق کے علم بردار اس بات پر راضی ہوں گے؟ اگر سرعام پھانسی دینے پر اعتراض ہو تو کیا ایسے درندوں کے لئے موت کی سزا پر ہی ہمارا ہیومن رائٹس کمیشن تیار ہو گا؟

اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام اگر فحاشی کے خاتمے کی بات کرتا ہے، پردے کا حکم دیتا ہے، سنگین جرائم پر مجرموں کو نشان عبرت بنانے کی بات کرتا ہے تو نام نہاد انسانی حقوق کے چیمپئن اور سیکولرز و لبرلز میں موجود ایک طبقہ یہ سب ماننے کے لئے تیار نہیں۔

کوئی ذی ہوش شخص کیسے زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں یا خواتین کو ہی اس جرم کا ذمہ دار ٹھہرا سکتا ہے؟ وزیراعظم نے جو بات کی وہ تو یہ تھی کہ بچوں اور عورتوں کے خلاف زیادتی کے بڑھتے جرائم کی ایک وجہ فحاشی ہے۔ اس کا یہ مطلب کیسے نکال لیا گیا کہ زیادتی کے شکار بچوں اور عورتوں کو ہی وزیراعظم نے اس جرم کا ذمہ دار ٹھہرا دیا؟ فحاشی جب فلموں، ٹی وی چینلز اور موبائل ایپس کے ذریعے پھیلتی ہے تو اس سے کئی دیکھنے والوں کے ذہن برائی کی طرف راغب ہوتے ہیں جو ایک حقیقت ہے۔

ریپ کے بڑھتے ہوئے جرائم کے اور بھی عوامل ہیں لیکن کیا یہ بات درست نہیں کہ گندگی دیکھ کر چند لوگوں میں درندگی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور یوں وہ کمسن بچوں اور عورتوں کو زیادتی کا نشان بناتے ہیں؟ وزیراعظم نے بالکل درست کہا کہ ہمیں اپنی فلموں، ڈراموں اور موبائل ایپس کو گندگی سے پاک کرنا چاہیے اور دیکھنے والوں کو ایسی تفریح دیں جو تعمیری ہو۔

ترک ڈرامہ ارطغرل کی مثال بھی خان صاحب نے دی اور یہ بھی بتایا کہ پہلے جب وہ پوچھتے تھے کہ اچھی اور تعمیری فلمیں اور ڈرامے کیوں نہیں بنتے تو جواب دیا جاتا تھا کہ لوگ یہی (یعنی فحاشی) دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ترک ڈرامہ پاکستان میں دکھایا گیا تو اس نے اس جھوٹ کو بے نقاب کیا اور اس ڈرامہ نے پاکستان میں مقبولیت تمام ریکارڈ توڑ دیے۔

وزیراعظم نے پردے کی بھی بات کی جس کا اسلام حکم دیتا ہے لیکن اس سب کو جان بوجھ کر اس لئے اسکینڈلائز کیا گیا تاکہ فحاشی و عریانی پھیلانے والوں کے دھندے کو تحفظ دیا جا سکے اور کوئی پردے کی بات نہ کرے۔ یہ ساری کارروائی اس انداز میں کی جاتی ہے کہ عام لوگوں کو کنفیوژ کیا جا سکے اور اسلام کی بات کرنے والوں کو دیوار سے ایسے لگا دیا جائے کہ کوئی اسلام اور اسلامی شعائر کی بات ہی نہ کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *