آتش فشاں میں دھماکے کے بعد کیریبین جزیرے پر راکھ کی بارش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Ash and smoke billow above Kingstown
Reuters

سینٹ ونسنٹ کے کیریبین جزیرے پر جمعے کو آتش فشاں پھٹنے کے بعد ہر طرف راکھ پھیل گئی جس کے بعد جزیرے کو خالی کروا لیا گیا ہے۔

دارالحکومت کنگ سٹاؤن سمیت جزیرے کے آس پاس کی عمارتیں اور سڑکیں سفید رنگ کی دھول سے بھر گئیں۔

لا سوفریئر آتش فشاں سنیچر کو بھی فضا میں ہزاروں میٹر تک راکھ پھینک تھا۔

وزیر اعظم نے عوام سے پرسکون رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ آتش فشاں کئی دہائیوں تک غیر فعال تھا لیکن دسمبر سے اس میں سرگرمی دیکھی گئی۔

ہزاروں افراد گھروں سے باہر رہنے پر مجبور ہیں اور جزیرے کے بیشتر حصے کو پانی کی فراہمی منقطع کردی گئی ہے۔

وزیر اعظم رالف گونسلز نے کہا ہے کہ تقریباً 3،000 افراد نے جمعے کی رات ہنگامی طور پر بنائی گئی پناہ گاہوں میں گزاری، اور تقریباً 16،000 افراد کو راکھ سے ڈھکے یا غیر محفوظ علاقوں سے نکال لیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آتش فشاں اور کتنے عرصے تک راکھ پھینکنے کا عمل جاری رکھے گا۔ کچھ سائنس دانوں نے متنبہ کیا ہے کہ اس آتش فشاں کے اندر دھماکوں کا عمل کئی دن یا ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے؟‘

بالی میں آتش فشاں پھٹنے کے قریب

آتش فشاں میں گرنے سے والدین اور بچہ ہلاک

https://twitter.com/cdemacu/status/1380916273064869889?s=20


110،000 کی آبادی پر مشتمل اس جزیرے کے لوگ جب سنیچر کو اٹھے تو انھوں نے اپنے گھروں کو آتش فشاں کی سفید راکھ میں ڈھکا پایا۔

قصبہ رباکا سے ایک شخص نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ زمین، راکھ اور چٹان کے تقریباً 12 انچ (30 سینٹی میٹر) ٹکڑوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔

اہلکاروں کی طرف سے لوگوں کو انتباہ دیا گیا کہ وہ گھر کے اندر ہی رہیں، جبکہ ہنگامی گروپس نے سانس کی تکلیف میں مبتلا افراد کے لیے احتیاط کا مشورہ دیا ہے۔

https://twitter.com/UNDRR/status/1380642639758962700

جزیرے کی ہنگامی انتظامیہ کے گروپ کا کہنا ہے کہ ’سبھی لوگ چوکنا رہیں۔ ہم راکھ اور گندھک کے ماحول میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہمارا مشورہ ہے کہ آپ محفوظ اور صحتمند رہنے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔‘

بھاری راکھ اور دیکھنے میں مشکلات کی وجہ سے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں مسائل کا سامنا ہے۔

راکھ سینٹ ونسنٹ سے بہت آگے تک پھیل گئی ہے اور سنیچر کے روز، 100 میل سے زیادہ مشرق تک بارباڈوس میں حکام نے لوگوں کو گھر کے اندر ہی رہنے کی تاکید کی۔

چیف میڈیکل آفیسر کینتھ جارج نے کہا ’جب تک آپ کے پاس باہر رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، اپنے گھر میں ہی رہیں۔ یہ ہدایات آپ اور آپ کے خاندان کی حفاظت کے لیے ہیں۔‘

جزیرے سینٹ لوسیا، جو سینٹ ونسنٹ سے تقریباً 47 میل شمال میں ہے، وہاں کے لوگوں نے اپنی گاڑیوں اور گھروں پر آتش فشاں کی راکھ کی تصاویر شیئر کیں۔

انٹیگوا اور گیانا سمیت دیگر کیریبین ممالک نے سینٹ ونسنٹ کو ہنگامی سامان بھیجنے کی پیش کش کی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ان لوگوں کے لیے اپنی سرحدیں کھولیں گے جو دھماکے کے بعد بچنے کی کوشش میں وہاں سے نکل رہے ہیں۔

Ash covers roads a day after the La Soufriere volcano erupted after decades of inactivity, in Kingstown, St Vincent and the Grenadines April 10, 2021
Reuters

یہ آتش فشاں 1979 سے غیر فعال تھا، لیکن 2020 کے آخر میں اس سے بھاپ اور دھواں اٹھنا شروع ہوا۔

جمعرات کی شام اس کے پھٹنے کے بارےمیں پہلا اشارہ لا سوفریئر پر ایک لاوا گنبد کی طرح دکھائی دیا۔

جمعے کی صبح مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے سے پہلے ہی، یونیورسٹی آف ویسٹ انڈیز کے زلزلہ ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی کہ کسی ’دھماکہ خیز چیز کے پھٹنے‘ کا عمل جاری ہے۔

رہائشیوں کو بحری جہاز کے ذریعے جزیرے کے محفوظ حصوں میں لے جایا گیا۔

Volcano of Saint Vincent and the Grenadines registers a second major eruption

EPA

صحافی رابرٹسن ہنری نے روئٹرز کو جس لمحے دھماکہ ہوا اس کے متعلق بتایا۔

’پہلے سب روشن تھا پھر یہ روشنی دھندلانا شروع ہو گئی۔ اور یہ سست رفتار سے نہیں تیزی سے ہو رہا تھا۔‘

’آپ کو اپنی جلد پر راکھ لگنے کا احساس ہونے لگا۔ لوگوں نے آسمان کی طرف دیکھا جہاں ہر جانب راکھ ہی راکھ تھی۔‘

یونیورسٹی آف ویسٹ انڈیز کے زلزلہ ریسرچ سینٹر نے بتایا کہ بعد ازاں جمعے کے روز ایک اور دھماکہ ریکارڈ کیا گیا۔

مقامی میڈیا نے سینٹ ونسنٹ کے شمال میں واقع مارٹنک جزیرے پر ماؤنٹ پیلے سے بھی سرگرمی میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔

مشرقی کیریبین میں بیشتر لیسٹر اینٹیلز جزائر آتش فشاں کے ایک طویل حصے میں شامل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18857 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp