انڈیا میں ایک دن میں ڈیڑھ لاکھ شہری کورونا وائرس سے متاثر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کورونا وائرس، انڈیا

Getty Images

انڈیا میں جہاں کورونا وائرس کی دوسری لہر نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے وہاں اتوار کے روز اس وبا کا شکار ہونے والوں کی تعداد 152879 تک پہنچ گئی۔

ملک میں اس مہلک وبا سے ہلاکتوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے اور انڈیا کی وزارتِ صحت کے مطابق اتوار کے روز اس مرض سے 839 افراد ہلاک ہوئے جو گزشتہ پانچ ماہ میں ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چوبیس گھنٹوں کے دوران اتنی بڑی تعداد میں نئے مریضوں کے سامنے آنے کے بعد کئی ریاستوں میں سخت احتیاطی احکامات نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آخر کورونا وائرس شروع کہاں سے ہوا؟

کورونا وائرس کی ویکسین کب تک بن جائے گی؟

انڈیا: کورونا وائرس کے مریضوں کو زندہ رکھنے کی جدوجہد

روئٹرز نیوز ایجنسی کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت کورونا وائرس کا یہ مرض انڈیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے جہاں روزانہ سامنے آنے والے نئے مریضوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ دنیا میں ہر روز کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والا ہر چھ میں ایک مریض انڈیا کا شہری ہے۔

انڈیا کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ ہفتے میں چھ دن ایسے گزرے ہیں جب چوبیس گھنٹوں میں اس مرض کا شکار ہونے والوں کی تعداد پوری دنیا کے ملکوں کے مقابلے میں انڈیا میں سب سے زیادہ رہی۔

کورونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد کے اعتبار سے انڈیا دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے جب کہ برازیل اور امریکہ دو ایسے ملک ہیں جہاں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد انڈیا سے زیادہ ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو چار روزہ ’ویکسینیشن فیسٹول‘ شروع کیا ہے جس کا مقصد ملک میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگانا ہے۔

کورونا وائرس، انڈیا

Getty Images

اس سال جنوری سے اب تک انڈیا میں دس کروڑ لوگوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے جو کہ چین اور امریکہ کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔

روئٹرز کے مطاق کئی ریاستوں سے ویکسین کی عدم دستیابی کی شکایات موصول ہو رہی ہیں، باوجود اس کے ملک کے ویکسینیشن پروگرام کا دائرہ ملک کی مجموعی ایک ارب 35 کروڑ آبادی میں سے صرف 40 کروڑ تک محدود رکھا گیا ہے۔

انڈیا میں کووڈ 19 کی دوسری لہر کی رفتار گزشتہ سال ملک کو لپیٹ میں لینے والی پہلی لہر سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے کئی ریاستوں نے نقل و حرکت پر پابندیاں سخت کر دی ہیں۔

کورونا وائرس، انڈیا

AFP

انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں، جو ملک کی معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، اس وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس ریاست میں نافذ لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دوسری لہر کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ لوگوں کی طرف سے احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرنا، عوامی مقامات پر ہجوم لگانا اور ماسک کے استعمال سے گریز کرنا ہے۔ حالیہ دنوں میں ملک کے کچھ حصوں میں انتخابات بھی ہوئے ہیں اور انتخابی مہم کے دوران بڑے بڑے جلسے اور ریلیاں بھی منعقد کی گئیں جن کی وجہ سے زیادہ لوگ اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔

انڈیا کے شہر ہردوار میں اتوار کو کُمبھ میلہ منعقد ہوا جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ دریائے گنگا میں ’اشنان‘ یا نہانے کے لیے جمع ہوئے۔ اس میلے کے دوران ایک روز میں یہاں جمع ہونے والوں کی تعداد پچاس لاکھ تک جا سکتی ہے۔

حکام نے اس سال یہاں آنے والوں کے لیے کووڈ ٹیسٹ کرانا لازمی قرار دیا تھا لیکن اس کے باوجود بہت سے عقیدت مند صبح کی دعا میں حصہ لینے کے لیے بغیر ماسک کے اکھٹا ہوے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18809 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp