عمران خان کے ریپ سے متعلق متنازع بیان: جواد احمد بمقابلہ روحیل حیات اور ان دونوں کے مقابل سوشل میڈیا صارفین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’’آپ بیوقوفانہ باتیں کیوں کر رہے ہیں؟ یہ لائن پاکستان میں ہر بل بورڈ پر لکھی ہونی چاہیے۔۔۔‘ ’آج کے بعد جو بھی میرے ساتھ غلط بات کرے گا اسے یہی سننے کو ملے گا۔۔۔‘ ’اس لائن کے کار سٹکر، شرٹس اور جھنڈے بنوائیں۔‘

پاکستان میں سوشل میڈیا پر ناصرف خواتین بلکہ مرد حضرات بھی یہی لائن دہراتے نظر آ رہے ہیں۔

لیکن یہ لائن آئی کہاں سے؟ اس کے پیچھے کہانی کیا ہے؟

اگر آپ سوشل میڈیا پر فعال ہیں تو آپ نے گذشتہ ہفتے پاکستان کے معروف میوزک پروڈیوسر روحیل حیات کی وہ ٹویٹس تو ضرور دیکھی ہوں گی جن میں وہ وزیرِ اعظم عمران خان کے ریپ کے واقعات سے متعلق متنازع بیان کا دفاع کرتے نظر آئے۔

جہاں ایک طرف خاص کر پاکستانی خواتین کو روحیل حیات سے بظاہر ایسے خیالات کی توقع نہیں تھی وہیں اب پاکستانی گلوگار جواد احمد ایسے مرد کے طور پر سامنے آئے ہیں جنھوں نے ان تمام مردوں کے سامنے خواتین کے جذبات کی ترجمانی کی ہے جو عمران خان کے ریپ اور لباس کے حوالے سے بیان کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بیشتر سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جواد احمد کو ناصرف اس تمام مسئلے کی متعلق آگاہی حاصل ہے بلکہ وہ انتہائی موثر دلائل سے اپنا نطقہ نظر پیش کرنا بھی جانتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ریپ سے متعلق عمران خان کے متنازع بیان پر حکومتی وضاحت، پھر کچھ دیر بعد ہی ایک تبدیلی

’جس عمران کو میں جانتی تھی وہ تو کہتا تھا کہ مرد کی آنکھوں پر پردہ ڈالنا چاہیے ناکہ عورت پر‘

یاد رہے عمران خان نے تین اپریل کو اپنے ایک لائیو ٹیلی وژن پروگرام میں ملک میں ریپ کے واقعات کی ایک وجہ ’فحاشی‘ کو قرار دیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا تھا کہ ’ہر انسان میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ خود کو روک سکے۔۔۔ آپ معاشرے میں جتنی فحاشی بڑھاتے جائیں گے تو اس کے اثرات ہوں گے۔‘

روحیل حیات نے کیا کہا تھا؟

عمران خان کے ریپ سے متعلق متنازع بیان کا دفاع کرتے ہوئے روحیل حیات نے چھ ٹویٹس پر مبنی ایک تھریڈ پوسٹ کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’میرا ماننا ہے کہ عمران خان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔‘

روحیل نے لکھا ’عمران خان کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا جا رہا ہے اور نام نہاد آزادی کے علمبردار جان بوجھ کر اس سے فساد ڈلوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ واضح طور پر ریپ کی مذمت کر رہے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ شرم و حیا کی حدود سے نکلنا پریشانی کو دعوت دیتا ہے اور کون اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے؟‘

انھوں نے مزید لکھا ’وہ یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ یہ جائز ہے! بحیثیت قائد وہ ہمارے آس پاس کے حقائق کے بارے میں صرف ہم سے بات کر رہے ہیں۔‘

ایک اور ٹویٹ میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایک باپ کی حیثیت سے، میں بھی اپنی بیٹی کو یہی مشورہ دوں گا کہ ہمارے معاشرے کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کریں کہ آپ کو کیسا لباس پہننا چاہیے۔‘

روحیل حیات کے خیالات نے سوشل میڈیا پر ناصرف پاکستانی خواتین کو بہت مایوس کیا جن کا کہنا تھا کہ انھیں ’روحیل حیات سے ایسے خیالات کی توقع نہیں تھی۔۔۔ وہ بھی ویسی ہی باتیں کر رہے جو خواتین کو ہر دوسرے پاکسستانی مرد کے منھ سے سننے کو ملتی ہیں۔‘

لیکن اب، گلوکار اور سیاستدان جواد احمد میدان میں اتر چکے ہیں، اور روحیل حیات کو ان کے خیالات کی پریشان کُن نوعیت سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جواد احمد ایک ایسے روشن ذہن والے شخص کے طور پر سامنے آئے ہیں جس نے صحیح معنوں میں خواتین کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔

سوشل میڈیا پر موجود خواتین تو جیسے ایک بار پھر سے جواد احمد کی مداح بن گئی ہیں۔ کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ ’کیا ہم سب ایک ایسے مرد کا ساتھ دے سکتے ہیں جو مردوں کے سامنے ہمارے لیے آواز بلند کر رہا ہے؟‘

جواد نے جس طرح سے سینٹرسٹس (ایسے افراد جو سیاسی طور پر دائیں اور بائیں بازو دونوں کے بیچ رہنے کی کوشش کرتے ہیں) کے کردار کی تشریح کی ہے، کئی صارفین اس پر بھی بے حد خوش نظر آتے ہیں۔

کچھ لوگ تو جواد احمد کو ملک کے اگلے وزیرِ اعظم کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ کئی دیگر کا ماننا ہے کہ جس طرح انھوں نے روحیل حیات کو سمجھانے کوشش کی ہے، اس پر انھیں بس ملک کے سب سے بڑے اعزاز سے نواز دینا چاہیے۔

دوسری جانب کچھ صارفین پریشان ہو کر پوچھ رہے ہیں کہ یہ واقعی جواد احمد ہی ہیں؟ جبکہ کئی صارفین یہ بھی پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ اگلے الیکشن میں وہ کس طرح جواد احمد کو ووٹ دے سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18809 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp