انڈیا میں کورونا کی شدت، کمبھ کا میلہ اور لاکھوں کا ہجوم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کمبھ میلہ

Reuters

سینکڑوں ہندو ایک ایسے وقت میں گنگا میں ڈبکی لگانے کے لیے جمع ہوئے ہیں جب انڈیا میں کووڈ 19 کی دوسری لہر جاری ہے۔

ہمالیائی ریاست اتراکھنڈ کے شہر ہریدوار میں جاری مذہبی تہوار کمبھ میلہ میں عقیدت مند پیر کے روز جمع ہوئے اور اندازوں کے مطابق دوپہر تک 21 لاکھ سے زیادہ عقیدت مند دریا میں نہا چکے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بڑے ہجوم کے باعث وہ حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق گنگا ایک پاک ندی ہے اور اس میں نہانا ان کے گناہوں کو پاک کر دیتا ہے اور نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں کورونا کی دوسری لہر، تصاویری جھلک

کمبھ میلہ: دنیا کے سب سے بڑے اجتماع کی تیاری

کووڈ 19: کیا پاکستان انڈیا سے کورونا ویکسین لے گا؟

ہریدوار شہر اس اجتماع کی میزبانی ایک ایسے وقت میں کر رہا ہے، جب گذشتہ چند ہفتوں میں انڈیا میں روزانہ ایک لاکھ سے زیادہ کورونا وائرس کے کیس سامنے آ رہے ہیں۔

سوموار کے روز انڈیا میں کورونا وائرس کے 168،000 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد انڈیا برازیل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے متاثرین کے اعتبار سے دنیا بھر میں دوسرے نمر پر آ گیا ہے۔

انڈیا میں اس وقت کورونا کیسز کے متاثرین کی کل تعداد 13.5 ملین، برازیل میں 13.4 ملین جبکہ امریکہ میں 31 ملین ہے۔ جس کے بعد انڈیا کورونا وائرس متاثرین کے اعتبار سے اب صرف امریکہ سے ہی پیچھے ہے۔

کمبھ میلہ

Getty Images

صحت کے ماہرین نے کمبھ میلے کو منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی لیکن حکومت نے موقف اختیار کیا کہ حفاظتی اقدامات کو مدنظر رکھا جائے گا۔

ایک سینیئر پولیس عہدیدار نے اے این آئی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ دریا کنارے سماجی فاصلوں کو یقینی بنانا بہت مشکل ہے۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس سنجے گنجیال نے کہا ’ہم لوگوں سے مسلسل کووڈ کے لیے مناسب طرز عمل پر پیروی کرنے کی اپیل کر رہے ہیں لیکن بہت زیادہ ہجوم کی وجہ سے چالان (جرمانے) کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر پولیس نے دریا کے کنارے معاشرتی فاصلے نافذ کرنے کی کوشش کی تو ’بھگدڑ جیسی صورتحال‘ پیدا ہو سکتی ہے۔

کمبھ میلہ

Reuters

عہدیداروں نے بتایا ہے کہ دوپہر تک 21 لاکھ سے زیادہ عقیدت مند دریا میں نہا چکے تھے۔ دو ماہ تک جاری رہنے والے اس تہوار میں سوموار اس تہوار کے دوران غسل کے لیے سب سے اہم دن تھا۔

حکومت نے پہلے کہا تھا کہ میلے میں صرف کووڈ کی منفی رپورٹ رکھنے والے افراد کو ہی شرکت کی اجازت دی جائے گی اور سماجی دوری جیسے سخت اقدامات پر عمل کیا جائے گا۔

لیکن متعدد افراد میں کورونا کی پہلے ہی تشخیص ہو چکی ہے، جس نے اس خدشے کو جنم دیا کہ پیر کو عقیدت مندوں کا غسل انفیکشن کو تیزی سے پھیلانے میں مدد فراہم کرے گا اور بہت سے لوگ اس وائرس کو اپنے شہروں میں لے کر بھی جا سکتے ہیں۔

کورونا کی دوسری لہر پورے انڈیا میں تباہی مچا رہی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے ہسپتالوں میں بستر اور جان بچانے والی ادویات کی کمی کی اطلاعات آنا شروع ہو گئی ہیں۔

کمبھ میلہ

Getty Images

دوسری لہر میں سب سے زیادہ کیس ریاست مہاراشٹر میں سامنے آ رہے ہیں۔ رات کے وقت کرفیو اور محدود لاک ڈاؤن جیسے اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں لیکن کمبھ میلے کے انعقاد کی اجازت نے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔

ماہرین میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ ابھی تک بدترین صورتحال آنا باقی ہے جب تک کہ سخت اور فوری اقدامات نہ کیے جائیں اور ویکسینیشن کا عمل تیز نہیں کیا جاتا۔

انڈیا میں اب تک کورونا ویکسین کی 100 ملین سے زیادہ خوراکیں دی جا چکی ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ویکسینیشن کا عمل مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18858 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp