دیپ جلتے رہے (قسط 36)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیٹے کے لیے لڑکی دیکھنے کا مرحلہ ایک دو مزید تجربے ہونے کے بعد بالآخر شادی خانہ آبادی پر انجام پذیر ہوا۔ نئے جوڑے نے اسلام آباد میں گھر بسایا، سجایا، لیکن بہو دل نہ لگا سکی۔ بیٹے کے آکورڈ آفس ٹائمنگز، شام پانچ بجے آفس اور واپسی رات دو بجے، اس کا دل ہولتا تھا۔ بیٹے نے کراچی واپسی کی راہ پکڑی۔ جلد ہی یہاں بھی اس کی صلاحیت کے معیار کی نوکری مل گئی۔ دس مہینے بعد بالاج صاحب دنیا میں تشریف لے آئے تو محسوس ہوا کہ شادی کے فوراً بعد ماں باپ بننے کے مراحل میں دونوں میاں بیوی کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع تو ملا نہیں، ساس، سسر، دیور، جیٹھ کی موجودگی میں نہ تو کھل کر جھگڑا ہو پاتا ہے نہ ہی محبت کا اظہار۔

مروت، لحاظ اور رواداری کے چونچلوں میں لڑکی خود کو قیدی سا محسوس کرتی ہے۔ خانگی معاملات میں صاحبزادے کو بھی ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے ضروری ہو گیا کہ انہیں علیحدہ کر دیا جائے۔ لیکن بیٹے بہو کو کہا کیسے جائے کہ بھئی جاؤ اپنا گھر الگ بساؤ، تو طے پایا کہ انہیں اس مکان میں چھوڑ کر ہم خود الگ گھر لے لیں۔ ہمارا یہ فیصلہ دونوں کے درمیان ہم آہنگی کے لیے بہت بہتر ثابت ہوا۔ دونوں اپنے بچے کے، ساتھ وقت بتاتے، اس کی شرارتوں سے محظوظ ہوتے، وقت بے وقت ضروری غیر ضروری شاپنگ کرتے، اپنی غلطیوں سے سیکھتے ، نئی غلطیاں کرتے، کسی بزرگ کی مداخلت اور ان کے احترام میں بنا کسی جبر کے دونوں بے حد خوش ہیں۔

احمد نوید الگ ہی دنیا کا انسان ہے، بچوں کی مانند، سادہ سچا، ذرا سی بات پر خوش ہو کر لمبا قہقہہ لگانے اور بات بے بات رو دینے والا، کوئی پھولوں سی بات ہو، اداس دھن یا پھر رفتگاں کا ذکر، میرؔ کے اشعار سی رقت طاری ہو جاتی ہے۔ جب سے نام کے ساتھ میر جڑا ہے، اشک فشانی بھی میر کی سی ہو گئی ہے۔

مینھ تو بوچھار کا دیکھا ہے برستے تم نے
اسی انداز سے تھی اشک فشانی اس کی

کسی حساس موضوع پر کوئی فلم ہو یا ڈرامہ وہ نیر بہاتا ہے۔ غالبؔ اور میرؔ سے اس طور درد آشنائی ہے کہ شعر ہو یا تذکرہ آنکھیں جل تھل ہو جاتی ہیں۔ اشک چھپا کر آنکھیں پتھرائے پھرنے والے چاہیں تو میر احمد نوید کی اس عیاشی پر رشک کر سکتے ہیں۔ جس کی آنکھیں موقع محل کا خیال کیے بغیر برسنے لگتی ہیں۔

غالب کے موضوع پر بنا سیریل بے حد پسند ہے، لیکن اس کا ہر منظر ان کی آنکھوں میں سیلاب بلا کی صورت نظر آتا ہے۔

کل ہی کی بات ہے، ہم کپڑے دھو رہے تھے کہ پڑوس سے کسی پرانے نغمے کی دھن سنائی دی، ہمارا دل بھی بے اختیار ہو گیا، اور ہم نے یوٹیوب پر صدا بہار پرانے گانے بلند آواز سے لگا دیے۔

مجھ سا تجھ کو چاہنے والا، اس دنیا میں کوئی اور ہو
اللہ نہ کرے جی اللہ نہ کرے
اسکرین پر محمد علی زیبا، ایک دوسرے کے پیار میں کھوئے، لب ہلا رہے تھے۔

ہم نے احمد کی طرف دیکھا، ایک ردم میں ہولے ہولے زمین پر پیر مارتے ہوئے، چٹکی بجا کر خود بھی بول کے ساتھ لب ہلا رہے تھے۔

اگلا گانا شروع ہوا۔ مالا کی آواز سنتے ہی شمیم آرا کی شکل دھیان میں آئی
کیا ہے جو پیار تو پڑے گا نبھانا، رکھ دیا قدموں میں دل نذرانہ قبول کر لو

ہم نے کپڑا نچوڑ کر ٹب میں ڈالا اور شمیم آرا کو دیکھنے کے لیے فون کے قریب آ گئے۔ ان کی طرف جو نگاہ پڑی تو آنکھیں ساون بھادوں کی طرح برس رہی تھیں۔

حیرت سے ان کی طرف دیکھا تو بھرائی ہوئی آواز میں اتنا ہی کہہ پائے۔
شمیم آرا!

لہجے میں کرب ہی نہیں شمیم آرا کی داستان بھی آشکار تھی۔ یہ معصوم اداکارہ قدرت کا عطیہ تھی، جسے اپنے حالات پر قدرت حاصل نہ تھی۔

شمیم آرا پر فلمایا گیا دوسرا خوب صورت نغمہ شروع ہوا۔
ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے

ہماری طرف مسکرا کر دیکھا، سگریٹ سلگا لی، چہرے پر مسکان لہرائی، اطمینان ہوا اور ہم نے واشنگ مشین کی طرف دوبارہ رخ کر لیا۔ کپڑے دھوتے ہوئے احمد رشدی کی مدھر آواز کانوں میں پڑی، تولیہ سے گیلے ہاتھ پونچھتے احمد کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔

ہاں اسی موڑ پر اس جگہ بیٹھ کر تم نے وعدہ کیا تھا
ساتھ دو گے، زندگی بھر، چھوڑ کر تم نہ جاؤ گے

بلیک اینڈ وائٹ منظر میں وحید مراد کی اداؤں کے رنگ بکھرے ہوئے تھے۔ ہم نے احمد کی طرف دیکھا، شکر ہے سب خیریت تھی۔

مہدی حسن کی اداس آواز نے کمرے کی فضاء کو اداس کر دیا
دنیا کو اب کیا سمجھائیں، کیا جیتے کیا ہار گئے
دکھ تو یہی ہے، جیت کے بھی ہم سب کچھ اپنا ہار گئے۔
تصور خانم کی آواز، گونجی، تو گریے کی آواز ذرا تھمی
اگر تم مل جاؤ زمانہ چھوڑ دیں گے ہم
تمہیں زمانے بھر بھر سے رشتہ توڑ دیں گے ہم

فضاء میں جلترنگ بجنے لگے۔ ہمارے پاپا کا مسکراتا چہرہ اور وہ سارا منظر نظروں کے سامنے آ گیا۔  تصور خانم کو دیکھنے کے لیے کرسی پر جم کر بیٹھ جاتے اور پلکیں نہ جھپکتے تھے۔

ہم نے احمد کو بتایا کہ تصور خانم پاپا کو بہت پسند تھی خاص طور پر اس کی اپنی کی ناک کو مسکرا کر اپنی آنکھ سے ملانے کی قاتل ادا۔ پاپا کے ذکر پر پھر آنسو بہہ نکلے، ہمارے نہیں ان کے۔

ایک خوب صورت دھن کے ساتھ ندیم اور شبنم سمند کی لہروں سے نمودار ہوئے۔
تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے لہریں بھی ہوئیں مستانی سی
تیری زلف کو چھو کر آج ہوئی خاموش ہوا دیوانی سی

کمرے کی فضاء کو اس نغمے کے گونج نے خوابناک بنا دیا تھا۔ احمد بھی لہک لہک کر آواز سے آواز ملا رہے تھے، کچھ اطمینان ہوا۔

مسعود رانا کی آواز نے جیسے ہر چیز کو جھنجوڑ ڈالا۔ اسٹول پر رکھا ٹشو کا ڈبہ، میز پر رکھی بوتل، گلدان میں سجے پھول سب ایک لے میں گنگنا رہے تھے۔

تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں، جیسے صدیاں بیت گئیں۔

فضاء میں اداسی اور احمد کی آنکھوں میں سیلاب تھا۔ ہم نے کپڑوں کے ساتھ اپنی آنکھیں نچوڑیں۔ جیسے ہی نغمہ ختم ہوا، تو احمد نے آواز لگائی، بس بند کر دو۔ ہم نے اطمینان کا سانس لیا۔ کپڑے تار پر ڈالے، اور یو ٹیوب بند کرنے کے ارادے سے موبائل کی طرف بڑھے۔

ایک نغمے کی گونج نے ہمارے قدم روک دیے۔
وہیں زندگی کے حسیں خواب ٹوٹے
مرے ہمسفر تم جہاں ہم سے روٹھے

وہ نغمہ جس نے ہماری جوانی کی ایک حسین یاد کو ہمارے سامنے لا کھڑا کیا۔ جوانی میں آنکھوں میں مستقبل کے سجے خواب کے ساتھ دل کی آنیاں جانیاں بھی لگی رہتی ہیں۔ جمال اکبر کی آنکھوں کی اداسی اور پر سوز آواز نے ایک عمر میں ہمیں گھائل کیے رکھا۔ یہ آواز گویا ٹائم مشین تھی جو ہمیں چالیس سال پیچھے لے گئی اور وہ خیرپور کے ڈرائنگ روم میں رکھے شارپ ٹی وی کے مستطیل چوکھٹے میں بیٹھا تھا۔

ہم کرسی پر بیٹھے مبہوت اسے دیکھ رہے تھے۔ گانا ختم ہوا، ہم نے چونک کر احمد کی طرف دیکھا۔

سر جھکائے سگریٹ پی رہے تھے، ماحول کی اداسی کم کرنے کے لیے ہم نے مسخرے پن سے کہا۔ آپ کو معلوم ہے یہ ہمارا پہلا کرش تھا۔

انہوں نے ہمارا ماتھا چوما، ان کے آنسو تھے یا ہماری آنکھوں کا پانی، ہمارا چہرہ بھیگتا چلا گیا۔
اشک بے وجہ پرونے کا مقام آ ہی گیا
چشم فرصت ترے رونے کا مقام آ ہی گیا

جاری ہے۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *